30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
داخلہ ممنوع ہے چاہے وہ اس بات کو پسند کرے یا نہ کرے۔ ([1])
ایک قول ہے کہ پہلے بیع و شرا کے احکام سیکھو پھر تجارت کرو۔ یہ مذہب حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْوَلِی اور حضرت سیِّدُنا امامِ اعظم ابو حنیفہ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اور ان کے شاگردوں کا ہے۔
(9) … عقیدہ وعمل کی اصلاح:
متقدمین علمائے خراسان رَحِمَہُمُ اللہُ الْحَنَّان فرماتے ہیں کہ ایک شخص گھر میں بیٹھا ہو اور کسی دینی معاملے پر عمل کرنا چاہے یا اس کے دل میں کوئی ایسا سوال کھٹکے جس کے بارے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا کوئی خاص حکم ہواور بندے پر اس کے متعلق کوئی عقیدہ رکھنا یا اس پر عمل کرنا لازم ہوتو اب اس کا گھر میں خاموش بیٹھے رہنا جائز نہیں او رنہ ہی اس کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ اپنی رائے پر عمل کر لے یا پھر اپنی نفسانی خواہش کی بنا پر اس میں کوئی حکم لگا دے، بلکہ اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے جوتے پہنے اور فوراً گھر سے نکل کھڑا ہو اور شہر کے سب سے بڑے عالم سے اس کے متعلق پوچھے کیونکہ دل میں کھٹکنے والے اس قسم کے معاملات کے متعلق سوال کرنا فرض ہے۔ یہ قول حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مبارک اور چند دوسرے محدثین کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام سے مروی ہے۔
(10) … علم توحید:
بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں کہ علمِ توحید حاصل کرنا فرض ہے۔ ([2])
حصولِ علم کی کیفیت و ماہیت میں بھی اختلاف ہے۔ چنانچہ،
… بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں کہ علم استدلال اور اعتبار کے طریقے سے حاصل ہوتا ہے۔
…بعض فرماتے ہیں کہ اس کے حصول کا ذریعہ بحث و نظر ہے۔
… بعض کے نزدیک اس کے حصول کا طریقہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی توفیق اور سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن سے منقول باتیں جاننا ہے۔
(11) … شبہات کا علم:
علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فرمان ’’طلبِ علم فرض ہے ‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ جب بندہ ایسے امور سنے جو شبہات و مشکلات پر مشتمل ہوں اور ان کے ذریعے اسے آزمایا جائے تو اس پر لازم ہے کہ شبہات و مشکلات کا علم حاصل کرے۔ البتہ! اس کے لئے یہ بھی جائز ہے کہ وہ علم حاصل نہ کرے مگر اس صورت میں کہ اصولِ دینیہ پر قائم رہتے ہوئے وہ شبہات و مشکلات کو جانتا ہی نہ ہو اور مسلمانوں کے عقائد پر مضبوطی سے قائم ہو۔ اس طرح کہ اس کے دل میں کوئی شبہ پیدا ہو نہ اس کے دل میں کوئی بات کھٹکے تو اب اس کے لئے جائز ہے کہ شبہات کا علم حاصل نہ کرے۔ لیکن جب کوئی شبہ والی بات اس کے کانوں سے ٹکرا کر دل میں بیٹھ جائے اور اس کے پاس اس کے متعلق کوئی تفصیل بھی نہ ہو، نیز وہ شبہ والی بات اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اس کے تعلق کو منقطع کرنے کے علاوہ اسے باطل سے حق کو الگ کرنے کی جو صلاحیت حاصل ہے اسے بھی ختم کر دے تو اب بندے کے لئے قطعی طور پر جائز نہیں کہ وہ ایسی حالت پر خاموش بیٹھا رہے، ورنہ اس کے دل میں باطل عقیدہ پختہ ہو جائے گا یا پھر وہ حق ہی کی نفی کرنے لگے گا۔
اس صورت میں اس پر فرض ہے کہ وہ علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے پاس جا کر حقیقت سے آگاہ ہو یہاں تک کہ وہ یقین پر ثابت قدم ہو جائے اور حق کا پختہ عقیدہ رکھتے ہوئے باطل کی نفی کر دے۔ نیز اسے چاہئے کہ وہ اس علم کی تلاش سے تھک کر بیٹھ نہ جائے ورنہ شبہات اس کے دل میں پختہ ہو جائیں گے اور وہ نفسانی خواہش کی پیروی کرنے لگے گا یا امورِ دینیہ میں شک کرتے ہوئے مومنین کے طریقہ سے ہٹ جائے گا یا کسی بدعت کا عقیدہ اپنا لے گا۔ اس طرح وہ سنت اور اہلِ سنت کے مذہب سے خارج ہو جائے گا اور اسے معلوم تک نہ ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ امیرالمومنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ یہ دعا مانگا کرتے تھے: ’’اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! ہمیں حق بات حق کی صورت ہی میں دکھانا تا کہ ہم اس کی پیروی کر سکیں اور باطل کو باطل ہی کی شکل میں دکھانا تا کہ ہم اس سے اجتناب کر سکیں اور اس معاملہ کو ہم پر مشتبہ نہ بنانا ورنہ ہم نفسانی خواہش کی پیروی کرنے لگیں گے۔ ‘‘
یہ مذہب حضرت سیِّدُنا ابو ثور ابراہیم بن خالد کلبی، حضرت سیِّدُنا داود بن علی، حضرت سیِّدُنا حسین کرابیسی اور حضرت سیِّدُنا حارث بن اسد محاسبی رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی اور ان کے متبعین متکلمین کا ہے۔ ([3])
(امام اجل حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ) مذکورہ حدیثِ پاک کی شرح میں علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام سے مروی اقوال یہی ہیں ، ہم نے اپنے علم کے مطابق ہر ایک کا مذہب بیان کر دیا ہے اور ساتھ ہی دلیل بھی ذکر کر دی ہے۔ الفاظ ہمارے ہیں اور مفہوم ان کا ہے۔ ہر قول بڑا اچھا ہے اور احتمال رکھتا ہے کہ حدیثِ پاک کا مفہوم یہی ہے۔ تمام افراد کا حدیثِ پاک کی شرح میں اختلاف محض لفظی ہے مگر اہلِ ظاہر کے سوا سب لوگ مفہوم میں ایک دوسرے کے قریب قریب ہیں کیونکہ اہلِ ظاہرنے اس سے وہی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع