30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:
وَ نُقَلِّبُ اَفْـٕدَتَهُمْ وَ اَبْصَارَهُمْ (پ۷، الانعام: ۱۱۰)
تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور ہم پھیر دیتے ہیں ان کے دلوں اور آنکھوں کو۔
حضورنبی ٔکریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جب اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قدرت کی عظمت اور دلوں کے پھیرنے میں اس کی صنعت کی لطافت کا مشاہدہ کیا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم اس طرح کھائی: ’’دلوں کے پھیرنے والے کی قسم! ‘‘ ([1]) اور جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دلوں کے بدلنے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قدرت کے نافذ ہونے کی سرعت دیکھی جس کا مشاہدہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سوا کسی نے نہ کیا تھا تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بدلنے کی صفت کو اپنی قسم بنا لیا، جس کا سبب اللہعَزَّ وَجَلَّکی قدرت کا عظیم الشان ہونا اور علمِ تقلیب کے غالب آجانے کا خوف تھا۔ چنانچہ،
حضورنبی ٔمُکَرَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس طرح دعا فرمایا کرتے: ’’اے دلوں کے پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ۔ ‘‘ تو صحابۂ کرام رِضْوَانُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے عرض کی: ’’یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا آپ بھی (دل کے پھیرے جانے سے ) خوفزدہ ہیں ؟ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’میں کیسے بے خوف رہ سکتا ہوں ؟ جبکہ دل اللہ عَزَّ وَجَلَّکی دو انگلیوں (یعنی رحمت و قہر) کے درمیان ہیں ، وہ جیسے چاہتا ہے انہیں پھیرتا ہے۔ ‘‘ ([2]) ([3]) اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’اور اگر انہیں سیدھا کرنا چاہتا ہے تو سیدھا کر دیتا ہے اور اگر ٹیڑھا کرنا چاہتا ہے تو ٹیڑھا کر دیتا ہے۔ ‘‘ ([4])
ایک روایت میں آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مروی ہے: ’’بدلنے میں دل اس چڑیا کی مثل ہے جو ہر لمحہ جگہ بدلتی رہتی ہے۔ ‘‘ ([5]) اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’بدلنے میں دل ایک ہانڈی کی مثل ہے جب اس میں خوب جوش آتا ہے۔ ‘‘ ([6]) اور ایک روایت میں ہے کہ ’’دل کسی بیابان میں پرندے کے ایک پَر کی مثل ہے جسے ہوائیں زمین پر الٹ پلٹ کرتی رہتی ہیں ۔ ‘‘ ([7])
جس طرح دن اور رات احکام کے لئے ظرف کی حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ انہی اوقات میں زمانہ تبدیل ہوتا رہتا ہے اسی طرح دل بھی غیب کے خزانوں کا محل ہے جس میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے اور اس بات پر ایمان لانا واجب ہے کہ دل تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور انہیں تبدیل کرنے والا دل اور صاحبِ دل کے درمیان حائل ہے۔چنانچہ، اللہ عَزَّ وَجَلَّنے بعث بعد الموت اور دل اور صاحبِ دل کے درمیان حائل ہونے کے معاملہ کو اپنے اس فرمانِ عالیشان میں اکٹھا ذکر فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:
وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهٖ وَ اَنَّهٗۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ (۲۴) (پ۹، الانفال: ۲۴)
تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور جان لو کہ اللہ کا حکم آدمی اور اس کے دلی ارادوں میں حائل ہوجاتا ہے اور یہ کہ تمہیں اسی کی طرف اٹھنا ہے۔
حضرت سیِّدُنا ابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ
عَزَّ وَجَلَّمومن اور کفر کے درمیان اور کافر اور ایمان کے درمیان حائل ہوتا ہے۔ ([8])
ایک قول ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّبندے اور اپنے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دعوت قبول کرنے کے درمیان حائل ہوتا ہے۔ ایک قول ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ مومن اور اس کے برے خاتمہ کے درمیان اور کافر اور اس کے اچھے خاتمہ کے درمیان حائل ہوتا ہے۔ ایک قول کے مطابق اللہ عَزَّ وَجَلَّمومن اور اس کے کسی ہلاکت آفرین کبیرہ گناہ کے مرتکب ہونے اور منافق اور اس کے کسی نجات دینے والی طاعت پر عمل کے درمیان حائل ہوتا ہے اور اس کے علاوہ موحد اور اس کے توحید پر خاتمہ کے درمیان بھی حائل ہوتا ہے۔یہ سب باتیں مومنین کو ڈرانے والی ہیں اس لئے کہ ان سے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی وعید متحقق ہوتی ہے۔
قدرت، مشاہدۂ قدرت اور غفلت میں بندے کا حصہ:
[1] صحیح البخاری، کتاب الایمان و النذور، باب کیف کانت یمین النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، الحدیث: ۶۶۲۸، ص۵۵۴
[2] جامع الاصول للجزری، کتاب العاشر، باب فی الصفات ، الحدیث: ۵۰۱۹، ج۷، ص۵۵
المسند للامام احمد بن حنبل، مسند السیدۃ عائشۃ رضی اللہ تعالیٰ عنھا، الحدیث: ۲۶۱۹۳، ج۱۰، ص۱۰۱
[3] مفسر شہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْحَنَّان حدیث ِ پاک میں مذکور اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ’’دو انگلیوں‘‘ کی شرح میں فرماتے ہیں کہ یہ عبارت متشابہات میں سے ہے کیونکہ رب تعالیٰ انگلیوں ہاتھوں وغیرہ اعضاء سے پاک ہے، مقصد یہ ہے کہ تمام کے دل اللہ کے قبضہ میں ہیں کہ نہایت آسانی سے پھیر دیتا ہے جیسے کہا جاتا ہے تمہارا کام میری انگلیوں میں ہے یا میں سوالات کا جواب چٹکیوں سے دے سکتا ہوں۔ (مراٰۃ المناجیح، باب القدر، ج۱، ص۹۹)
[4] المسند للامام احمد بن حنبل ، حدیث النواس بن سمعان، الحدیث: ۱۷۶۴۷ ، ج۶، ص ۱۹۸
[5] السنۃ للامام ابن ابی عاصم،باب ان القلوب بین اصبعین...الخ،الحدیث: ۲۳۳،ص۵۵
[6] کشف الخفاء، حرف المیم، تحت الحدیث: ۲۷۶۲، ج۲، ص ۲۷۴
[7] اتحاف الخیرۃ المھرۃ ، کتاب القدر ، باب اثبات القدر الخ ، الحدیث: ۳۰۹، ج ۱، ص ۲۱۲ بتغیر قلیل
السنۃ للامام ابن ابی عاصم، باب ان القلوب بین اصبعین الخ،الحدیث: ۲۳۴، ص۵۵
[8] تفسیر الطبری، پ ۹، الانفال ، تحت الایۃ۲۴،الحدیث: $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع