دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 1 | قوت القلوب

book_icon
قوت القلوب

مومن کے چار اوصاف:

 (1) … حضرت سیِّدُنا ابن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے  مروی حدیث ِ پاک میں   ہے کہ عرض کی گئی:  ’’یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اللہ عَزَّ وَجَلَّکی خاص تجلی زمین میں   کہاں   ہے؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’مومن بندوں   کے دل میں  ۔ ‘‘  ([1])  

 (2) … حدیث ِ قدسی میں   ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا:  ’’میری گنجائش زمین میں   ہے نہ آسمان میں  ،   میں  کسی مکان میں   نہیں   سما سکتا،   اگر کہیں   میری جلوہ گری کی گنجائش ہے تو وہ بندۂ مومن کا دل ہے۔ ‘‘   ([2])

 (3) … بندہ اطمینان و سکون میں   خشوع سے  بہتر کوئی لباس نہیں   پہنتا کہ یہ متقین کا لباس اور عارفین کے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا رنگ ہے۔

 (4) … عرض کی گئی:  ’’یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! لوگوں   میں   سب سے  بہتر کون ہے؟ ‘‘  ارشاد فرمایا:  ’’ہر وہ مومن جس کا دل پاک و صاف ہو۔ ‘‘  پھر مزید وضاحت فرمائی: ’’وہ اتنا پاک و صاف ہو کہ اس میں   گناہ،   بغاوت،   کینہ اور حسد نہ پائے جائیں  ۔ ‘‘  ([3])

شرک و نفاق سے  پاک دل: 

            بعض عارفین اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فرمانِ عالیشان (اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍؕ (۸۹)  (پ۱۹،   الشعرآء:  ۸۹) )   ([4]) کی تفسیر میں   فرماتے ہیں   کہ یہاں   ایسا دل مراد ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا ہر شے سے  پاک ہو اور اس میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّکے علاوہ کچھ بھی نہ ہو۔ ([5])

        مفسرینِ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام  فرماتے ہیں   کہ یہاں   شرک اور نفاق سے  پاک دل مراد ہے۔  ([6])

            شرک کے متعلق دافِعِ رنج و مَلال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’میری امت میں   شرک ([7])   چیونٹی کی رفتار سے  بھی زیادہ خفیف ہے۔ ‘‘  ([8])

        پس یہ ایک ایسی شے ہے جس سے  سوائے صدیقین کے مومنین میں   سے  کوئی بھی محفوظ نہیں  ہے۔ پھر نفاق کے متعلق حضورسیدعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’میری امت کے اکثر قراء منافق ہوں   گے۔ ‘‘  ([9]) اس سے  بھی سوائے عارفین کے کوئی عبادت گزار محفوظ نہیں  ۔

خیالاتِ یقین کا ادراک: 

            بعض خیالاتِ یقین جب کسی پر واقع ہوتے ہیں   تو مخفی ہونے کی وجہ سے  انکے دلائل ظاہر نہیں   ہوتے اور انکے شواہد آنکھوں   سے  اوجھل ہوتے ہیں  ۔ یہ باطنی علم،   گہری سوجھ بوجھ،   قرآنِ کریم کے لطیف معانی میں   خوب غور کرنے اور اللہعَزَّ وَجَلَّ کے کلام کا فہم و ادراک اور تاویل کا علم حاصل کرنے میں   باطنی استنباط کے بغیر معلوم نہیں   ہوتے۔ چنانچہ، 

            سرکارِ والا تَبار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  کے حق میں   دعا فرمائی: ’’اے اللہعَزَّ وَجَلَّ! اسے  دین کی سوجھ بوجھ عطا فرما اور اسے  علمِ تاویل سکھا۔ ‘‘   ([10])

        امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم   فرماتے ہیں   کہ سوائے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی کتاب کے

ہمارے پاس کوئی ایسی شے نہیں   جو ہمیں  حضور شفیعِ روزِ شُمار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پوشیدہ طور پر عطا کی ہو ،   مگر یہ کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے کسی بندے کو اپنی کتاب کی فہم عطا فرمادے۔ ([11])

             اللہعَزَّ وَجَلَّکے فرمانِ عالیشان  (یُّؤْتِی الْحِكْمَةَ مَنْ یَّشَآءُۚ- (۳،   البقرۃ:  ۲۶۹) )   ([12]) کی تفسیر میں   منقول ہے کہ یہاں   حکمت سے  اللہ عَزَّ وَجَلَّکی کتاب کا فہم مراد ہے۔  ([13])

 



[1]     احیاء علوم الدین، کتاب شرح عجائب القلب ، ج۳،ص۱۹

[2]     المرجع السابق

[3]     سنن ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب الورع والتقویٰ ، الحدیث:۴۲۱۶، ص ۲۷۳۳ بتغیر قلیل

[4]     ترجمۂ کنز الایمان: مگر وہ جو  اللہ کے حضور حاضر ہوا سلامت دل لے کر ۔

[5]     روح المعانی، پ ۱۹ ، الشعراء،  تحت الایۃ ۸۹ ، الجزء التاسع عشر، ص ۱۳۵

[6]     الجلالین مع حاشیۃ الجمل ، پ ۱۹ ، الشعراء، تحت الایۃ ۹ ۸ ،ج ۵، ص ۳۹۲

[7]     یہاں شرک سے مراد شرک اصغر یعنی ریاکاری ہے، کیونکہ مشرک اپنی عبادات سے اپنے جھوٹے معبودوں کو راضی کرنے کی نیت کرتا ہے، (اور) رِیا کار (مسلمان) اپنی عبادات سے اپنے جھوٹے مقصودوں یعنی لوگوں کوراضی کرنے کی نیت کرتا ہے۔ اس لیے ریا کارچھوٹے درجہ کا مشرک ہے اور اس کا یہ عمل چھوٹے درجہ کا شرک ہے۔ چونکہ ریا کار کا عقیدہ خراب نہیں ہوتا عمل وارادہ خراب ہوتا ہے اور کھلے مشرک کا (عمل وارادہ کے ساتھ ساتھ) عقیدہ بھی خراب ہوتا ہے، اس لیے ریا کو چھوٹا شرک فرمایا۔ (مِرْاٰۃ المناجیح، ج۷، ص۱۴۴) ریاکاری کو شرک اصغر کیوں فرمایا گیا اس کی مزید تفصیلات جاننے کے لیے دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 853صَفحات پر مشتمل کتاب جہنم میں لے جانے والے اعمال (جلداول) صَفْحَہ 139 تا 172 اور مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ170$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن