دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 1 | قوت القلوب

book_icon
قوت القلوب

(1) … بے شک  اکثر جنتی بھولے بھالے ہوں   گے جبکہ مقامِ علیین پر فائز افراد عقل مند ہوں   گے۔ ([1])  

 (2) … عالم کی فضیلت عابد پر ویسی ہی ہے جیسی چاند کی ستاروں   پر ہے۔  ([2])  

 (3) … عالم کو عابد پر وہی فضیلت حاصل ہے جو مجھے اپنی امت پر حاصل ہے۔ ([3])

 

نفسانی خیالات کے تین اسباب: 

            ہر وہ دل جس میں   تین معانی و مفاہیم جمع ہوں   اس سے  نفسانی خیالات کبھی الگ نہیں   ہوتے: جہالت،   طمع اور دنیا کی محبت۔ ان نفسانی خیالات کا قوی و کمزور ہونا نفس میں   پائے جانے والے ان تینوں   اسباب کے موافق ہوتا ہے اور اس کے حقائق وہی ہیں   جو ہم ذکر کر چکے ہیں  ،   یعنی خیالاتِ یقین کا قوی و ضعیف ہونا ان کے محل کے اعتبار سے  ہے جو کہ علم،   ایمان اور عقل ہے۔ دل میں   ان سب خیالات کے غلبہ کے وقت مشیت جس کے ساتھ شامل ہو جائے وہی غالب آ جاتا ہے۔

دل کی مثال: 

            امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  سے  مروی ہے کہ’’ زمین میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّکے چند برتن ہیں   جو کہ قلوب ہیں   اور ان میں   سب سے  زیادہ پسندیدہ برتن وہ ہیں   جو سب سے  زیادہ رقیق،   صاف اور مضبوط ہیں  ۔ ‘‘  اس کے بعد آپ نے اپنے قول کی وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:  ’’ وہ دل دین میں   مضبوط،   یقین میں   صاف اور اپنے بھائیوں   کے لئے نرم ہوتے ہیں  ۔ ‘‘   ([4])

            دل اپنے جوہر کے باہم قریب ہونے میں   برتنوں   کی مثل ہیں  ،   لہٰذا بادشاہ اور عمدہ چہرے کے مالک افراد کی شان یہ ہے کہ ان کے لئے برتن بھی سب سے  زیادہ رقیق،   سب سے  زیادہ صاف و شفاف اور اعلیٰ درجے کے ہوں   جبکہ گھٹیا لوگوں   کا مرتبہ یہ ہے کہ ان کے لئے کثیف اور ردی برتن ہی استعمال ہوں   اور متوسط طبقہ سے  تعلق رکھنے والے افراد کے لئے درمیانی قسم کے برتن ہی صحیح اور درست ہوتے ہیں  ۔ اس کی ایک مثال یہ بھی دی جا سکتی ہے کہ عمدہ و ہلکا ترازو سونے کا وزن کرنے کے لئے مناسب ہوتا ہے جبکہ جانوروں   اور ان کے چارے کا وزن کرنے کے لئے بھاری و وزنی ترازو استعمال کرنا زیادہ بہتر ہے اور جو اشیاءدرمیانہ وزن رکھیں   ان کے لئے درمیانہ ترازو استعمال کیا جاتا ہے۔ لہٰذا جس طرح ہر شے کا وزن صرف اسی ترازو میں   کیا جاتا ہے جو اس کے لئے مناسب و زیبا ہو اسی طرح ہر برتن میں   وہی شے ڈالی جاتی ہے جو اس کے لائق ہو خواہ وہ گھٹیا ہو یا اچھی۔

مومن و منافق کا دل: 

            ظاہر کو باطن کے برابر رکھنے کے لئے جس طرح ملکوتِ ظاہر میں   ایک حکم اور حکمت ہے اسی طرح ملکوتِ باطن میں   بھی اس کا ایک حکم اور حکمت ہے۔ چنانچہ اللہعَزَّ وَجَلَّکے فرمانِ عالیشان (مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِیْهَا مِصْبَاحٌؕ-اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَةٍؕ- (پ۱۸،  النور:  ۳۵) )   ([5]) کی تفسیر میں   حضرت سیِّدُنا ابی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ یہاں   مراد مومن کے نور کی مثال بیان کرنا ہے۔ ([6])  جب وہ اس آیتِ مبارکہ کی تلاوت کرتے تو یوں   پڑھا کرتے تھے: ’’مومن کے نور کی مثال اس دل جیسی ہے جو ایک طاق کی مانند ہے،   اس میں   ایک چراغ ہے،   اس کا کلام اور اس کا عمل نور ہے بلکہ وہ اسی نور میں   حسبِ منشا اپنے معاملات سر انجام دیتا ہے۔ ‘‘   ([7])   اس کے بعد انہوں  نے اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فرمانِ عالیشان (اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ (پ۱۸،  النور:  ۴۰) )   ([8])  کی تفسیر میں   ارشاد فرمایا: ’’یہاں   منافق کا دل مراد ہے،   جس کا کلام نہ صرف ظلمت پر مبنی ہوتا ہے بلکہ اس کا عمل بھی ظلمت کا شکار ہوتا ہے اور وہ اسی ظلمت میں   اپنے معاملات سر انجام دیتا رہتا ہے۔ ‘‘   ([9])

            حضرت سیِّدُنا زید بن اسلم عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْاَکْرَم اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فرمانِ عالیشان (فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ۠ (۲۲)   (پ۳۰،   البروج:  ۲۲)  )   ([10])   کی تفسیر میں   فرمایا کرتے تھے کہ یہاں   مومن کا دل مراد ہے۔ ([11])

            حضرت سیِّدُنا ابو محمد سہل رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں   کہ دل اور سینہ ایسے  ہیں   جیسا کہ عرش اور کرسی ہوں  ۔

 



[1]     الکامل فی ضعفاء الرجال، الرقم ۷۷۳ سلامۃ بن روح ، ج ۴ ، ص ۳۲۹

احیاء علوم الدین ، شرح عجائب القلب، بیان الفرق بین المقامین    الخ ،ج ۳ ، ص ۲۸

[2]     سنن ابی دا ود، کتاب العلم، باب فی فضل العلم، الحدیث:۳۶۴۱ ، ص ۱۴۹۳

[3]     الجامع الصغیر، الحدیث: ۵۸۵۸، ص ۳۶۲

[4]     اتحاف السادۃ المتقین، کتاب شرح عجائب القلب، بیان خاصیۃ القلب ، ج ۸ ، ص ۴۰۹

[5]     ترجمۂ کنز الایمان: اس کے نور کی مثال ایسی جیسے ایک طاق کہ اس میں چراغ ہے وہ چراغ ایک فانوس میں ہے۔

[6]     تفسیر الطبری، پ۱۸، النور، تحت الایۃ ۵، ج ۹،  ص ۳۲۱

[7]     الدر المنثور ، پ۱۸، النور، تحت الایۃ ۳۵، ج ۶ ، ص ۱۹۷

[8]     ترجمۂ کنز الایمان: یا جیسے اندھیریاں کسی کُنڈے کے دریا میں۔

[9]     الدر المنثور ، پ ۱۸، النور، تحت الایۃ ۳۵، ج ۶ ،   ص ۱۹۸

                                                اتحاف السادۃ المتقین ، کتاب شرح عجائب القلب ، بیان خاصیۃ القلب، ج ۸،  ص ۴۱۱

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن