30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کی تفسیر میں منقول ہے کہ ہم نے اسے اپنے دلوں سے سنا۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس کے برعکس اپنے دشمنوں کے متعلق ارشادفرمایا:
اُولٰٓىٕكَ یُنَادَوْنَ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ۠ (۴۴) (پ۲۴، حٰمٓ السجدۃ: ۴۴)
تر جمعہ ٔ کنز الایمان: گویا وہ دور جگہ سے پکارے جاتے ہیں ۔
یعنی وہ مکان ان کے دلوں سے دور ہے۔ پھر توبہ کی جانب دلوں کے میلان اور ارادے کے متعلق ارشاد فرمایا:
اِنْ تَتُوْبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَاۚ- (پ۲۸، التحریم: ۴)
تر جمعہ ٔ کنز الایمان: نبی کی دونوں بیبیو اگر اللہکی طرف تم رجوع کرو تو ضرور تمہارے دل راہ سے کچھ ہٹ گئے ہیں ۔
سورۂ توبہ میں ارشاد فرمایا:
وَ هَمُّوْا بِمَا لَمْ یَنَالُوْاۚ- (پ۱۰، التوبۃ: ۷۴)
تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور وہ چاہا تھا جو انہیں نہ ملا۔
اس کے بعد ارشاد فرمایا:
فَاِنْ یَّتُوْبُوْا یَكُ خَیْرًا لَّهُمْۚ- (پ۱۰، التوبۃ: ۷۴)
تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو اگر وہ توبہ کریں تو ان کا بھلا ہے۔
دلوں کے اندھے پن کے متعلق ارشاد فرمایا:
فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَ لٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ (۴۶) (پ۱۷، الحج: ۴۶)
تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو یہ کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں ۔
الغرض اہلِ دل مخلوق میں سے بغیر کسی نصیحت کرنے والے کے نصیحت حاصل کرتے ہیں اور ظاہر میں بغیر کسی روکنے والے کے رک جاتے ہیں ۔
(صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکیعَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ) ہم نے جن خیالات کا تذکرہ کیا ہے وہ سب مومنین کے دلوں میں پائے جاتے ہیں ۔ دل اللہ عَزَّ وَجَلَّکے غیب کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے اور معانی و مفاہیم اللہ عَزَّ وَجَلَّکے لشکری ہیں جو دل کے گرد جمع رہتے ہیں ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّان میں سے جس خیال کو چھپانا چاہتا ہے اسے مخفی رکھتا ہے اور جو چاہتا ہے ظاہر فرما دیتا ہے اور جس خیال سے چاہتا ہے دل کو کھول دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے دل کو بند کر دیتا ہے۔
علم مقامِ توحید پر فائز کرتا ہے:
مذکورہ صورت میں علم مقامِ توحید بن جاتا ہے اور موحد مقامِ توحید پر اپنے مقام و مرتبہ کے اعتبار سے فائز ہو جاتا ہے۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے: فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ (پ۲۶، محمد: ۱۹)
تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو جان لو کہ اللہکے سوا کسی کی بندگی نہیں ۔
اور ایک جگہ ارشاد فرمایا:
فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰهِ وَ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ- (پ۱۲، ھود: ۱۴)
تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو سمجھ لو کہ وہ اللہکے علم ہی سے اترا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی سچّامعبود نہیں ۔
یہاں علم کا تذکرہ توحید سے پہلے ہوا ہے گویا کہ یہ اس کی ابتدا ہو، پس جب بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّکے عطا کردہ علم اور دنیا میں زہد اختیار کرنے سے دل میں وسعت پیدا ہو گی تو ایمان اور درجات میں زیادتی ہوتی جائے گی کیونکہ موحد اپنے مقام و مرتبہ کی بلندی میں وہ کچھ دیکھتا ہے جو اس کے علاوہ دوسرے نہیں دیکھ پاتے اور اپنے علم کی وسعت میں وہ کچھ جان لیتا ہے جو دوسرے نہیں جان پاتے۔
ایمان میں کمی و بیشی اور مومنین کے درمیان فرق:
بندۂ مومن جب اللہ عَزَّ وَجَلَّکی کبریائی بیان کرتا ہے (یعنی اللہ اکبرکا نعرہ لگاتا ہے) تو اس کا ایسا کرنا اس کے ایمان اور قوت میں اضافے کا باعث بنتا ہے اور اس کے بعد جب وہ ہر اس بات کا مشاہدہ کرتا ہے جس پر ایمان لایا تھا تو اس کے سبب اس کے نفس کی قوت اور مشاہدے میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔ چنانچہ جب بھی دل میں علمِ الٰہی، صفاتِ باری تعالیٰ کے معانی و مفاہیم اور ملکوت کے احکام کم ہوتے ہیں تو بندے کے ایمان میں بھی کمی آجاتی ہے۔ پھر وہ جن باتوں پر ایمان لایا تھا ان کا مشاہدہ حجاب زدہ ہو کر کرتا ہے کیونکہ اب اس پر اسباب کی محبت غالب ہے اور وہ نیکی کی طرف جلدی کرنے سے عاجز ہونے کی وجہ سے اللہ عَزَّ وَجَلَّکا کلام پردے کے پیچھے سے سنتا ہے، پس اس سبب سے اس کا ایمان کمزور ہو جاتا ہے اور اس کا مشاہدہ محض تخیلات پر مبنی رہ جاتا ہے اور متحقق نہیں ہوتا۔
جو شخص اللہ عَزَّ وَجَلَّکی صفات اور اس کی آیات کی قدرت میں سے ایک لاکھ معانی کا علم حاصل کر لے اور پھر ان سب معانی ومفاہیم کا بڑے قریب سے کشف کے ذریعے مشاہدہ بھی کر لے تو وہ اس شخص جیسا نہیں ہو سکتا جسے صرف ان معانی و مفاہیم میں سے صرف دس کا علم حاصل ہو اور وہ ان کا مشاہدہ بھی دور سے حجاب میں رہ کر کرے۔ ایمان میں تو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع