30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تر جمعہ ٔ کنز الایمان: وہ اللہ کے یہاں درجہ درجہ ہیں اور اللہ ان کے کام دیکھتا ہے۔
اگر اس آیتِ مبارکہ کو دوسری قراء ت کے مطابق پڑھیں تو اس میں منافقین کی مذمت بیان کی گئی ہے یعنی اسنے تمہیں تمہارے اعمال دکھائے لیکن تمہیں ان کی مثل نہ بنایا کیونکہ تمہارے اعمال ان کے اعمال کی مثل نہ تھے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ اسنے ارشاد فرمایا:
فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ عَلَیْهِمْ وَ اَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِیْبًاۙ (۱۸) (پ۲۶، الفتح: ۱۸)
تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو اللہنے جانا جو ان کے دلوں میں ہے تو ان پر اطمینان اتارا اور انہیں جلد آنے والی فتح کا انعام دیا۔
اس کے بعد ہمارے دلوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَلِیْمًا (۵۱) (پ۲۲، الاحزاب: ۵۱)
تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اللہ جانتا ہے جو تم سب کے دلوں میں ہے اور اللہ علم و حلم والا ہے۔
اس کے بعد ایسا قولِ فیصل ارشاد فرمایا جو ان دونوں کے درمیان فرق کرنے والا ہے:
اِنْ یَّعْلَمِ اللّٰهُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ خَیْرًا یُّؤْتِكُمْ خَیْرًا (پ۱۰، الانفال: ۷۰)
تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اگر اللہنے تمہارے دلوں میں بھلائی جانی تو (جو تم سے لیا گیا) اس سے بہتر تمہیں عطا فرمائے گا۔پھر ان لوگوں کی ضد کے متعلق ایسا کلام فرمایا جو مفصل کی تفصیل اور مجمل کی تفسیر بیان کرنے والا ہے۔ چنانچہ ارشادفرمایا:
وَ لَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِیْهِمْ خَیْرًا لَّاَسْمَعَهُمْؕ-وَ لَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ (۲۳) (پ۹، الانفال: ۲۳)
تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اگر اللہ ان میں کچھ بھلائی جانتا تو انہیں سنا دیتا اور اگر سنا دیتا جب بھی انجام کار منہ پھیر کر پلٹ جاتے۔
یعنی خیر وبھلائی میں سے ان کے لئے کچھ نہیں اور نہ ہی ان کے لئے اس میں سے کوئی حصہ ہے۔ کیونکہ ان کے ہاں خیر و بھلائی کی کوئی جگہ ہی نہیں بنائی گئی کہ اس میں وہ پائی جاتی۔ پس یہ ایک واضح خطاب ہے اور اربابِ عقل کے لئے ایک کھلا پیغام ہے اور یہ فرمانِ عالیشان بھی اس کا شاہد ہے:
اَفَلَمْ یَایْــٴَـسِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِیْعًاؕ- (پ۱۳، الرعد: ۳۱)
تر جمعہ ٔ کنز الایمان: تو کیا مسلمان اس سے ناامید نہ ہوئے کہ اللہ چاہتا تو سب آدمیوں کو ہدایت کردیتا۔
پس مومنین ان لوگوں کے راہِ راست پر آنے سے مایوس ہو گئے کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو ان سے اس کے متعلق کبھی بھی کوشش کرنے کی امید نہ تھی، اس لئے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّجسے گمراہ کرتا ہے اسے کبھی ہدایت نہیں دیتا۔
ایک قول ہے کہ مایوس ہونے سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے جان لیا جو کچھ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے انہیں بتایا اور یہی معنی مراد ہونے کا شاہد بھی موجود ہے کیونکہ اس سے مراد ہے: کیا ایمان والوں پر واضح نہیں ہوا، پس اسنے ان پر واضح کر دیا ہے، لہٰذا وہ اسے تسلیم کر لیں اور مان لیں اور ان سے اعراض کریں تا کہ محفوظ رہیں ۔ چنانچہ ایک جگہ ارشاد فرمایا:
وَ كَذٰلِكَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضًۢا (پ۸، الانعام: ۱۲۹)
تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور یونہی ہم ظالموں میں ایک کو دوسرے پر مسلّط کرتے ہیں ۔
نیز ارشاد فرمایا:
تَشَابَهَتْ قُلُوْبُهُمْؕ- (پ۱، البقرۃ: ۱۱۸)
تر جمعہ ٔ کنز الایمان: ان کے اُن کے دل ایک سے ہیں ۔
اور ایک جگہ ارشادفرمایا:
فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ (پ۳، اٰل عمران: ۷)
تر جمعہ ٔ کنز الایمان: (جن کے دلوں میں کجی ہے) وہ اشتباہ والی کے پیچھے پڑتے ہیں ۔
ان دو افراد میں کتنی دوری ہے جن میں سے ایک کا دل ثابت ہو اور اس میں علم راسخ ہو اور دوسرے شخص کے دل میں کجی ہو۔ اس لئے کہ دل میں کجی والا انسان تاویل کے فتنے میں مبتلا ہوتا ہے۔ اسی طرح جب کوئی شخص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے خالص ہو اور وہ اسے اس کے نفس کا والی بنا دے تو ایسے شخص اور اس شخص کے درمیان کتنی دوری ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے روگردانی کرے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ نفس کو ہی اس کا والی بنا دے۔
جس طرح مقربین کے مقامات بیان ہوئے اسی طرح یہ مقامات اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ سے دور رہنے والوں کے ہیں ۔ ایسے افراد دو حکموں کے تحت داخل ہیں اور وہ ان میں سے کسی ایک سے بھی چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتے، ان میں سے افضل ترین اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فضل و کرم کے تحت داخل ہیں جبکہ کم تر لوگ اس کے عدل سے خارج نہیں ۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان کے اوصاف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْ فَضْلِهٖؕ- (پ۲۱، الروم : ۴۵)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع