30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور جو ایسا کرے تو وہی لوگ نقصان میں ہیں ۔
یعنی جو دنیا کے دھوکے میں مبتلا ہیں وہی آخرت میں نقصان اٹھانے والے ہوں گے کیونکہ انہوں نے رزق دینے والے خالق پر مال و اولاد کو ترجیح دی۔ اس کے بعد انہیں جو رزق دیا ہے اسے خرچ کرنے کا حکم دیا اور اس کا تذکرہ ایمان کے ساتھ ملا کر کیا اور اس بات کی خبر دی کہ اسنے ہم انسانوں کو ہماری آزمائش کی خاطر اپنی سلطنت میں اپنا خلیفہ بنایا ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا:
اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْهِؕ- (پ۲۷، الحدید: ۷)
تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اللہاور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کی راہ کچھ وہ خرچ کرو جس میں تمہیں اوروں کا جانشین کیا۔
پس غافلین نے نصف کلام سنا اور صرف ایمان لائے اور خرچ نہ کیا لیکن عاملین نے پورا کلام سنا اور ایمان لانے کے ساتھ ساتھ خرچ بھی کیا اور یہ ایسی باتیں ہیں جنہیں علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے علاوہ کوئی نہیں سمجھتا۔ چنانچہ،
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَ اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍۙ-فَاَصَّدَّقَ وَ اَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ (۱۰) (پ۲۸، المنافقون: ۱۰)
تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور ہمارے دیئے میں سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرو قبل اس کے کہ تم میں کسی کو موت آئے پھر کہنے لگے اے میرے ربّ تونے مجھے تھوڑی مدت تک کیوں مہلت نہ دی کہ میں صدقہ دیتا اور نیکوں میں ہوتا۔
حضرت سیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے کہ یہ آیتِ مبارکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکو ایک ماننے والوں پر بہت سخت ہے کیونکہ کوئی بھی یہ تمنا نہیں کرے گا کہ وہ دنیا میں لوٹ جائے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکے پاس اس کے لئے جو خیر وبھلائی ہے وہ اس سے پیچھے رہ جائے۔ ([1])
ایامِ دنیا کے فوت ہو جانے پر حسرت:
حسرت سب سے بڑی ندامت ہے اور یہ کسی ایسی شے کے فوت ہو جانے کو کہتے ہیں جس کی تلافی نہ ہو سکتی ہو۔ چنانچہاللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:
وَ اَنِیْبُوْۤا اِلٰى رَبِّكُمْ وَ اَسْلِمُوْا لَهٗ (پ۲۴، الزمر: ۵۵)
تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اپنے ربّ کی طرف رجوع لاؤ اور اس کے حضور گردن رکھو۔
مراد یہ ہے کہ اس کی جانب متوجہ ہو جاؤ اور توبہ کر لو، اس کے فرمانبردار بن جاؤ اور اپنے دل اور جان و مال اس کی طاعت وعبادت میں لگا دو۔ جیسا کہ اس کا فرمان ہے:
وَ اتَّبِعُوْۤا اَحْسَنَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ (پ۲۴، الزمر: ۵۴)
تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور اس کی پیروی کرو جو اچھی سے اچھی تمہارے ربّ سے تمہاری طرف اتاری گئی۔
مطلب یہ کہ فضیلت والے اعمال کی پیروی کرو کہ یہی سب سے بہتر رخصتیں اور مباح کام ہیں مثلاً زہد، ورع اور خوف و یقین۔ پس یہی وہ بہترین امور ہیں جو ہمارے ربّ عَزَّ وَجَلَّنے ہماری جانب نازل فرمائے ہیں ۔ اس کے بعد اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا:
اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ یّٰحَسْرَتٰى عَلٰى مَا فَرَّطْتُّ فِیْ جَنْۢبِ اللّٰهِ وَ اِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِیْنَۙ (۵۶) اَوْ تَقُوْلَ لَوْ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰىنِیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَۙ (۵۷) اَوْ تَقُوْلَ حِیْنَ تَرَى الْعَذَابَ لَوْ اَنَّ لِیْ كَرَّةً فَاَكُوْنَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ (۵۸) (پ۲۴، الزمر: ۵۶تا ۵۸)
تر جمعہ ٔ کنز الایمان: کہ کہیں کوئی جان یہ نہ کہے کہ ہائے افسوس ان تقصیروں پر جو میں نے اللہ کے بارے میں کیں اور بے شک میں ہنسی بنایا کرتا تھا۔ یا کہے اگر اللہ مجھے راہ دکھاتا تو میں ڈر والوں میں ہوتا۔ یا کہے جب عذاب دیکھے
کسی طرح مجھےواپسی ملے کہ میں نیکیاں کروں ۔
یعنی آخرت میں ملنے والی جزاکے فوت ہو جانے پر لوگ حسرت میں مبتلا ہوں گے۔ ایک قول ہے کہ یہاں مراد ایامِ دنیا میں فوت ہو جانے والا حصہ ہے اور بروزِ قیامت واپسی کی تمنا سے مراد یہ ہے کہ اگر دوسری مرتبہ دنیا کی جانب پلٹنا ہوتا تو یقیناً نیکیاں کرتا۔ پس اللہ عَزَّ وَجَلَّنے تمام مخلوق کو خبردار کرتے اور ڈراتے ہوئے ارشاد فرمایا:
حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوْا یٰحَسْرَتَنَا عَلٰى مَا فَرَّطْنَا فِیْهَاۙ- (پ۷، الانعام: ۳۱)
تر جمعہ ٔ کنز الایمان: یہاں تک کہ جب ان پر قیامت اچانک آگئی بولے ہائے افسوس ہمارا اس پر کہ اس کے ماننے میں ہم نے تقصیر کی۔
یعنی ہمیں دنیا میں اپنے وقت کو برباد کرنے پر اور آخرت میں اجر و ثواب سے محروم ہو جانے پر افسوس و ندامت ہے ۔ ([2]) اور ایک روایت میں سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’کسی کوبھی حسرت و ندامت کے بغیر موت نہ آئے گی، اگر گناہ گار ہو گا تو اس کی حسرت اس وجہ سے ہو گی کہ اچھے اعمال کیوں نہ کئے؟ اور اگر نیکو کار ہو گا تو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع