دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 1 | قوت القلوب

book_icon
قوت القلوب

لوگ ہیں   کہ باتیں   کرنا سیکھ رہے ہیں  ([1])

… حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  روایت کرتے ہیں   کہ سرکارِ والا تَبار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’چار چیزوں   کا کسی میں   پایا جانا تعجب انگیز ہے: ٭… خاموشی،   جو عبادت کی بنیاد ہے ٭… تواضع ٭… اللہ عَزَّ وَجَلَّکا ذکر اور ٭… مال و اسباب کی کمی۔ ‘‘  ([2])

… حضرت سیِّدُنا حماد بن زید رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں   کہ میں  نے حضرت سیِّدُنا ایوب رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے  عرض کی:  ’’علم آج کل زیادہ ہے یا پہلے زیادہ تھا؟ ‘‘  تو آپ نے ارشاد فرمایا:  ’’اے میرے بیٹے! آج کلام زیادہ ہے جبکہ پہلے علم زیادہ ہوتا تھا۔ ‘‘  ([3])

منقول ہے کہ بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن جس طرح بول کر علم سے  نفع حاصل کیا کرتے تھے،   اسی طرح  خاموش رہ کر بھی اس سے  نفع حاصل کرتے۔

٭منقولہے کہ جس نے متکلم کی خاموشی سے  نفع حاصل نہ کیا وہ اس کے کلام سے  بھی نفع حاصل نہ کر پائے گا۔

٭علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام میں   سے  کسی سے  پوچھا گیا: ’’فلاں   زیادہ بڑا عالم ہے یا فلاں  ؟ ‘‘  تو انہوں  نے فرمایا: ’’فلاں   زیادہ علم رکھنے والا ہے اور فلاں   زیادہ کلام کرنے والا ہے۔ ‘‘  پس انہوں نے علم اور کلام میں   فرق کیا۔

٭خراسان کے ایک عالم دین سے  وقت اخیر عرض کی گئی: ’’ہماری راہنمائی کسی ایسے  شخص کی جانب فرمایئے کہ آپ کے بعد ہم اس کی مجلس میں   بیٹھا کریں  ۔ ‘‘  تو انہوں  نے ارشاد فرمایا کہ’’ فلاں   شخص کے پاس بیٹھنا۔ ‘‘  انہوں  نے ایک ایسے  شخص کا تذکرہ کیا جو حد درجہ خاموش رہنے والا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت میں   مصروف رہنے والا تھا اور جو بہت بڑا عالم ہونے کے لحاظ سے  معروف بھی نہ تھا۔ لہٰذا ان سے  عرض کی گئی:  ’’فلاں   کے پاس تو کوئی ایسا خاص علم نہیں   جو ہمارے سوالوں   کا جواب دے سکے۔ ‘‘  تو انہوں  نے فرمایا: ’’میں   جانتا ہوں   لیکن اس کے پاس ورع و تقویٰ ہے کہ وہ ایسی بات کرتا ہی نہیں   جو جانتا نہیں  ۔ ‘‘ 

٭حضرت سیِّدُنا اعمش رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرمایا کرتے کہ بعض باتیں   ایسی ہوتی ہیں   جن کا جواب خاموشی ہی ہے۔

عالم و جاہل میں   فرق: 

          سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن میں   سے  کسی سے  مروی ہے کہ خاموشی عالم کی زینت اور جاہل کی پردہ پوشی ہے اور ایک قول ہے کہ خاموشی جاہل کا جواب ہے۔  ([4])

                مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’خاموشی عالم کی زینت اور جاہل کے لئے عیب ہے۔ ‘‘   ([5])

            بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن فرماتے ہیں   کہ ایک بردبار عالم سے  بڑھ کر شیطان پر کوئی شخص بھاری نہیں   کیونکہ اگر وہ بات کرتا ہے تو علم کی بناپر اور خاموش رہتا ہے تو حلم کی وجہ سے ۔ پس شیطان اپنے حواریوں   کو کہتا ہے:  ’’اسے  دیکھو! اس کی خاموشی مجھ پر اس کے کلام سے  زیادہ سخت ہے۔ ‘‘   ([6])

خاموشی کے دو فائدے: 

        منقول ہے کہ جس طرح کلام کرنا سیکھتے ہو اسی طرح خاموش رہنا بھی سیکھا کرو کیونکہ اگر کلام تمہاری راہنمائی کرے گا تو خاموشی تمہیں   بچائے گی۔ چنانچہ خاموش رہنے سے  دو باتیں   حاصل ہوتی ہیں  :  (۱) … خاموشی سے  اس شخص کی جہالت دور کر سکتے ہو جو تم سے  بھی بڑا جاہل ہو  (۲) … اور خاموشی کے ذریعے اس شخص سے  علم حاصل کر سکتے ہو جو تم سے  بھی بڑا عالم ہو۔  ([7])

’’نہیں   جانتا ‘‘  اور ’’جانتا ہوں   ‘‘  میں   فرق: 

        علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں   کہ یہ جملہ سیکھ لیں  :  (لَاۤ اَدْرِیْ)  یعنی میں   نہیں   جانتا اور یہ جملہ ہر گز نہ سیکھیں  :  (اَدْرِیْ)  یعنی میں   جانتا ہوں  ۔ اگر آپ نے  (لَاۤ اَدْرِیْ)  کہا تو لوگ آپ کو سکھائیں   گے یہاں   تک کہ آپ جاننے لگیں   اور اگر آپ نے کہا:  (اَدْرِیْ)  تو وہ آپسے  سوال کریں   گے یہاں   تک کہ آپ اس سوال کا جواب نہ جانتے ہوں   گے۔ ([8])   مزید فرماتے ہیں   کہ جب عالم غلطی سے   (اَدْرِیْ)  کہہ دے تو اس کا سامنا کسی جھگڑا کرنے والے سے  ہو جاتا ہے۔  ([9])

            حضرت سیِّدُنا عیسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے  منقول ہے کہ ہر قسم کی خیر وبھلائی تین باتوں   میں   مضمر ہے: ٭… خاموشی میں   ٭… کلام میں   اور ٭… نظر میں  ۔ پس جس



[1]     موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب الورع، الحدیث: ۲۶، ج۱، ص۱۹۹ دون قولہ’’الصمت‘‘

[2]     المستدرک، کتاب الرقاق، باب اعلام النور فی الصدور، الحدیث: ۷۹۳۴، ج۵، ص۴۴۳

[3]     المعرفۃ والتاریخ، ایوب السختیانی، ج۲، ص۱۳۳

                                                اتحاف السادۃ المتقین، کتاب العلم، الباب السادس فی اٰفات العلم     الخ، ج۱، ص۶۵۹

[4]     حلیۃ الاولیاء، الرقم ۳۸۷سفیان ثوری، الحدیث: ۹۷۴۹، ج۷، ص۸۶

[5]     الجامع الصغیر للسیوطی، الحدیث: ۵۱۵۹، ص۳۱۸

[6]     حلیۃ الاولیاء، الرقم ۳۹۴ ابراھیم بن ادھم، الحدیث: ۱۱۲۶۴، ج۸، ص۲۷

[7]     کتاب الزھد لابن ابی عاصم، الحدیث: ۹۳، ص ۳۹

[8]     المرجع السابق

[9]     جامع بیان العلم، باب ما یلزم اذا سئل عما یدریہ، الحدیث: ۸۹۷، ص$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن