30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تیرا گھر تیرے لئے وسیع ہو اور اپنے گناہوں پر رویا کرو۔ ‘‘ ([1])
(2) … جو سلامت رہنے سے خوش ہوتا ہو اسے چاہئے کہ خاموش رہا کرے۔ ([2])
(3) … سرورِ دو جہاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیِّدُنا معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو نماز اور روزے وغیرہ کی وصیت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’کیا میں تجھے ایسی شے نہ بتاؤں جس پر تم ان سب سے زیادہ قدرت رکھتے ہو؟ وہ یہ ہے۔ ‘‘ اس کے ساتھ ہی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی زبانِ حق ترجمان کی جانب اشارہ فرمایا، حضرت سیِّدُنا معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی: ’’ یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا ہماری زبانیں جو کچھ بولتی ہیں اس کے سبب بھی ہمارا مواخذہ ہو گا؟ ‘‘ ارشاد فرمایا: ’’اے معاذ! تجھ پر تیری ماں روئے! زبانوں کی کاٹی ہوئی فصل کے علاوہ لوگوں کو کوئی شے اوندھے منہ جہنم میں نہیں گرائے گی کیونکہ اگر تمنے اسے قابو میں رکھا تو محفوظ رہو گے اور جب بولو گے تو یہ گفتگو تمہارے حق میں ہو گی یا تمہارے خلاف۔ ‘‘ ([3])
(4) … حضرت سیِّدُنا سفیان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی: ’’یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! مجھے اسلام کے متعلق کسی شے کی وصیت کیجئے کہ میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد کسی سے بھی کچھ نہ پوچھوں ۔ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’یہ کہو: میرا پَرْوَرْدگار اللہ عَزَّ وَجَلَّہے اور پھر اس پر ڈٹ جاؤ۔ ‘‘ فرماتے ہیں کہ میں نے پھر عرض کی: ’’اس کے بعد میں کس شے سے بچوں ؟ ‘‘ ([4]) اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’مجھے اس شے کے متعلق بتائیے جو میرے لئے سب سے زیادہ نقصان دہ ہے؟ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’یہ شے۔ ‘‘ اور اس کے ساتھ ہی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی زبانِ اقدس کی جانب اشارہ فرمایا۔
(5) … بندہ اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرنے کا صحیح حق ادا نہیں کر سکتا یہاں تک کہ اپنی زبان کے معاملے میں غمزدہ رہے۔ ([5])
(6) … بندے کے معاملات اس وقت تک درست نہیں ہو سکتے جب تک کہ اس کا دل درست نہ ہو اور اس کا دل اس وقت تک درست نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کی زبان درست نہ ہو۔ ([6])
… حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ زبان سے بڑھ کر کوئی شے نہیں جو طویل قید کی حق دار ہو۔ ([7])
٭…ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ میں نے ورع و تقویٰ کی جانچ پڑتال کی تو زبان سے کم تر کسی شے میں نہ پایا۔ ([8])
٭…لمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام میں سے کسی کا قول ہے کہ جس بندے کی زبان درست ہو تو میں جان لیتا ہوں کہ اس کے تمام اعمال بھی درست ہیں اور جس کی زبان میں کوئی اختلاف ہو تو مجھے معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کے تمام اعمال میں فساد ہے۔ ([9])
٭…کسی حکیم و دانا کا قول ہے کہ جب عقل زیادہ ہوتی ہے تو گفتگو کم ہو جاتی ہے اور جب عقل کم ہوتی ہے تو باتیں زیادہ ہو جاتی ہیں ۔
٭…حضرت سیِّدُنا احمد بن حنبل عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْاَ وّل فرماتے ہیں کہ علمِ کلام کے علما زندیق ہیں ۔
٭…ایک صوفی بزرگ کا قول ہے: جو بہت زیادہ باتیں کرے اور خوب اچھی کرے تب تو بہتر ہے لیکن اس سے
بھی بہتر یہ ہے کہ خاموش رہے۔ ([10])
… حضرت سیِّدُنا ذو النون مصری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ خوفِ الٰہی بے چینی پیدا کرتا ہے اور حیا خاموشی کا باعث بنتی ہے۔ ([11])
… ایک عارف کا قول ہے کہ علم کی دو قسمیں کر دی گئی ہیں : نصف علم خاموش رہنا ہے اور نصف علم اس بات کا جاننا ہے کہ اس علم کو کہاں رکھا جائے۔
… سیِّدُنا ضحاک بن مزاحم عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْحَاکِم فرماتے ہیں کہ میں نے بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کو پایا کہ وہ خاموش رہتے اور ورع و تقویٰ کی باتیں سیکھا کرتے تھے اور آج کے دور میں
[1] جامع الترمذی، ابواب الزھد، باب ما جاء فی حفظ اللسان، الحدیث: ۲۴۰۶، ص۱۸۹۳
[2] مسند ابی یعلی، مسند انس بن مالک، الحدیث: ۳۵۹۵، ج۳، ص۲۷۱
[3] المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث معاذ بن جبل، الحدیث: ۲۲۱۲۹، ج۸، ص۲۴۸
[4] صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب جامع اوصاف الاسلام، الحدیث: ۱۵۹، ص۶۸۷
المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث سفیان، الحدیث: ۱۵۴۱۷، ج۵، ص۲۵۵
[5] شعب الایمان للبیھقی، باب فی حفظ اللسان، فصل فی فضل السکوت، الحدیث: ۵۰۰۴، ج۴، ص۲۵۹
[6] المسند للامام احمد بن حنبل، مسند انس بن مالک، الحدیث: ۱۳۰۴۷، ج۴، ص۳۹۵ ’’لایصلح‘‘ بدلہ ’’لا یستقیم‘‘
[7] المعجم الکبیر، الحدیث: ۸۷۴۷، ج۹، ص۱۴۹
[8] موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب الورع، باب الورع فی اللسان، الحدیث: ۹۳، ج۱، ص۲۱۰
[9] حلیۃ الاولیاء، الرقم ۲۱۰ یحییٰ بن ابی کثیر، الحدیث: ۳۲۴۳$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع