30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(7) … عابدین جمعہ کے دن 1000 بار سورۂ اخلاص پڑھنے کو مستحب قرار دیتے ہیں ، اگر کوئی 10 یا 20 رکعتوں میں اتنی تعداد میں پڑھے تو ایک قرآنِ کریم ختم کرنے سے افضل ہے ۔
(8) … 1000 مرتبہ درودِ پاک پڑھا کرتے ۔
(9) … 1000بار (سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ لَاۤ اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ) بھی پڑھتے۔
پس یہ تینوں اوراد و وظائف جمعہ کے دن پڑھنا بہت اچھا ہے اور ان میں سے کسی ایک کو بھی ترک نہ کرے کیونکہ اس دن کے اعمال میں یہ سب سے فضیلت والا عمل ہے۔
(10) …اگر زوال سے قبل جمعہ کے دن صلوٰۃ التسبیح پڑھے تو انتہائی عمدہ اور کثیر عمل ہے۔ چنانچہ،
سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ برکت نشان ہے: ’’ ہر جمعہ ایک مرتبہ صلوٰۃ التسبیح ادا کیا کرو۔ ‘‘ ([1])
حضرت سیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے متعلق ذکر کیا جاتا ہے کہ وہ روزانہ بلاناغہ زوال کے بعد یہ نماز ادا کیا کرتے اور اس نماز کی بہت زیادہ فضیلت بتاتے۔
(11) …اگر مسبحاتِ ستہ ([2]) شبِ جمعہ یا روزِ جمعہ پڑھے تو یہ بھی بہتر ہیں ۔
شہنشاہِ خوش خِصال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے روزِ جمعہ یا شبِ جمعہ کے علاوہ کسی دوسرے دن متعین سورتیں پڑھنا مروی نہیں ہے۔ چنانچہ،
(12) … آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم شبِ جمعہ نمازِ مغرب میں (قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ) اور (قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ) پڑھتے۔ ([3])
(13) … نمازِ عشا میں سورۂ جمعہ اور سورۂ منافقون پڑھتے۔ ([4])
(14) … ایک روایت میں ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یہ دونوں سورتیں نمازِ جمعہ میں پڑھتے تھے۔([5])
(15) … جمعہ کے دن نمازِ فجر میں سورۂ سجدہ اور سورۂ دہر پڑھتے۔ ([6])
یقین و معرفت کی باتیں سننے کی خاطر علم کی محافل میں شریک ہونا اور ذکر کی محفلوں میں حاضر ہونا نوافل پڑھنے سے افضل ہے اور نوافل پڑھنا قصہ گو کی محفل میں جانے سے بہتر ہے۔ چنانچہ،
حضرت سیِّدُنا ابو ذر غفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ علم کی مجلس میں حاضر ہونا 1000 نَفْل پڑھنے سے افضل ہے۔ ([7])
ایک روایت میں ہے کہ رسولِ بے مثال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’تم میں سے کوئی علم کا ایک باب سیکھے یا سکھائے تو یہ 1000 نَفْل پڑھنے سے بہتر ہے۔ ‘‘ ([8]) ایک روایت میں ہے کہ عرض کی گئی: ’’ یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا قرآنِ کریم کی قراء ت سے بھی (افضل ہے) ؟ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’کیا قرآنِ کریم علم کے بغیر نفع دے سکتا ہے؟ ‘‘ ([9])
جمعہ کے دن جب کوئی شخص علم کی مجلس میں حاضر نہ ہو سکے تو اس کا نوافل پڑھتے رہنا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے دین میں غورو فکر کرنا قصہ گوئی کی محفل میں جانے اور قصے کہانیاں سننے سے زیادہ پاکیزہ ہے کیونکہ علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے نزدیک قصہ گوئی ایک بدعت ہے اور وہ قصہ گو افراد کو جامع مسجد سے نکال باہر کیا کرتے تھے۔ چنانچہ،
مروی ہے کہ ایک دن حضرت سیِّدُنا ابنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا مسجد میں اپنی مخصوص نشست کے پاس آئے تو وہاں ایک قصہ گو کو قصے سناتے پایا، پس اس سے ارشاد فرمایا: میرے بیٹھنے کی جگہ سے اٹھ جاؤ۔ وہ بولا: ’’میں نہیں اٹھوں گا، میں اس جگہ بیٹھ چکا ہوں ۔ ‘‘ یا پھر اسنے یہ کہا کہ میں آپسے پہلے بیٹھ چکا ہوں ۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے سپاہی بلا کر اسے اس جگہ سے اٹھا دیا۔ ([10])
اگر قصہ گوئی سنت ہوتی تو حضرت سیِّدُنا ابنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اس قصہ گو کو کبھی اس جگہ پر بیٹھنے کے بعد اٹھانا جائز نہ سمجھتے بالخصوص اس صورت میں کہ وہ آپسے پہلے اس جگہ بیٹھ چکا تھااور ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ انہوں نے ہی تو سرکارِ والا تَبار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے یہ روایت بیان کی ہے کہ’’تم میں سے کوئی بھی اپنے بھائی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود نہ بیٹھے، بلکہ
[1] سنن ابی داود، کتاب التطوع، باب صلاۃ التسبیح، الحدیث: ۱۲۹۷، ص ۱۳۱۹
[2] اس سے مراد وہ چھ سورتیں ہیں جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تسبیح سے شروع ہوتی ہیں یعنی سورۂ الحدید، الحشر، الصف، الجمعہ، التغابن اور الاعلیٰ۔
[3] الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، الحدیث: ۱۸۳۸، ج۳، ص۱۵۸
[4] المرجع السابق
[5] صحیح مسلم، کتاب الجمعۃ، باب مایقرأ فی یوم الجمعۃ، الحدیث: ۲۰۳۱، ص۸۱۵
[6] المرجع السابق
[7] تفسیر روح البیان،پ۲۹، المزمل،تحت الایۃ ۲۰، ج۱۰، ص۲۲۱
[8] سنن ابن ماجہ، کتاب السنۃ باب فضل من تعلم القرآن، الحدیث: ۲۱۹، ص۲۴۹۰
[9]$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع