دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 1 | قوت القلوب

book_icon
قوت القلوب

نہیں   دیکھا؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’میں  نے تجھے دیکھا کہ تونے دیر کی اور تکلیف پہنچائی۔‘‘   ([1])   یعنی تاخیر سے  مسجد آیا اور پہلے سے  موجود لوگوں   کو تکلیف پہنچائی۔

            جمعہ کے دن قصاص نہ لیا جائے کہ یہ مکروہ ہے اور نہ ہی نماز سے  قبل حلقہ بنا کر بیٹھا جائے۔ چنانچہ،   حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  مروی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نماز سے  قبل جمعہ کے دن حلقہ بنا کر بیٹھنے سے  منع فرمایا۔  ([2]) مگر٭... جو عالم باللہ ہو٭... اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ایام کا ذکر کرتا ہو اور٭... اس کے دین کی باتیں   سمجھاتا ہو اس کے لئے حلقہ بنانے میں   کوئی حرج نہیں  ۔ پس جوصبح کے وقت سے  لے کر نمازِ جمعہ تک جامع مسجد میں بیٹھا دین کی باتیں کرتا رہے تو وہ نمازِ جمعہ کی جانب جلد آنے اور علم کی باتیں   سننے جیسے  دونوں   امور کو جمع کرنے والا ہے۔

قبولیت کی گھڑی: 

        سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن سے  منقول ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ بندوں   کو ان کے رزق کے علاوہ ایک خاص رزق اس وقت عطا فرماتا ہے جب ان میں   سے  کوئی شبِ جمعہ اور روزِ جمعہ اس خاص فضل کا سوال کرے۔

        مروی ہے کہ نبیوں   کے تاجور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’بے شک  جمعہ میں   ایک ساعت ایسی ہے جو کسی مسلم بندے کو حاصل ہو جائے اور وہ اس میںاللہ عَزَّ وَجَلَّسے  جو بھی مانگے وہ اسے  عطا فرماتا ہے۔‘‘([3])

            ایک روایت میں   یہ الفاظ ہیں  :  ’’ وہ کسی بندے کے موافق ہو جائے اور وہ اس میں   نماز پڑھے۔ ‘‘   ([4])

            اس ساعت میں   اختلاف ہے اور اس بارے میں   مختلف اقوال مروی ہیں:

 (۱) … یہ طلوعِ آفتاب کا وقت ہے۔  (۲) … یہ وہ وقت ہے جب لوگ نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں  ۔  ([5])

 (۳) … زوال کا وقت ہے۔  ([6])   (۴) … یہ اذان کی ساعت ہے۔  ([7])

 (۵) … یہ وہ ساعت ہے جب امام منبر پر جا کر خطبہ شروع کر دیتا ہے۔  ([8])

 (۶) … نمازِ عصر کے بعد سے  لے کر آخر وقت تک۔  ([9])

 (۷) … غروبِ آفتاب کا وقت کہ جب سورج جھک جاتا ہے۔  ([10])

            حضرت سیِّدَتُنا فاطمۃ الزہرا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا اس ساعت کا خاص طور پر خیال رکھا کرتیں   اور اپنی خادِمہ سے  ارشاد فرماتیں   کہ وہ سورج کی طرف دیکھتی رہے اور اس کے جھکنے کی اطلاع دے۔ پس وہ دعا و استغفار میں   مصروف ہو جاتیں   یہاں   تک کہ سورج غروب ہو جاتا۔ آپ فرمایا کرتیں   کہ یہی وہ ساعت ہے جس کا انتظار کیا جاتا ہے اور اس قول کو اپنے والد ِ محترم،   نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  نقل فرماتیں  ۔ ([11])

                 (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ)  اس ساعت کے متعلق جو مختلف اقوال مروی ہیں   وہ ہم نے اختصار سے  ذکر کر دیئے ہیں  ،   پس ان تمام اوقات کو غنیمت جاننا چاہئے اور ان میں   دعا اور نماز وغیرہ جو بھی ممکن ہو بجا لانا چاہئے۔ ([12])

            بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام سے  منقول ہے کہ مقبولیت کی یہ ساعت تمام ایام میں   پوشیدہ ہے جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی نہیں   جانتاگویا کہ یہ ماہِ رمضان المبارک میں   پوشیدہ شبِ قدر یا صلوٰۃ الوسطیٰ کی مثل ہے۔ ([13])

            ایک قول ہے کہ یہ ساعت جمعہ کے دن بدلتی رہتی ہے جیسا کہ بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں   کہ شبِ قدر پورے مہینے میں   بدلتی رہتی ہے تا کہ بندہ اس دن مکمل



[1]     المرجع السابق

[2]     سنن ابی داود، باب التحلق یوم الجمعۃ قبل الصلاۃ، الحدیث: ۱۰۷۹، ص۱۳۰۳

[3]     صحیح البخاری، کتاب الجمعۃ، باب الساعۃ التی فی یوم الجمعۃ، الحدیث: ۹۳۵، ص۷۳

[4]     سنن ابی داود، کتاب الصلاۃ، باب فضل یوم الجمعۃ و لیلۃ الجمعۃ، الحدیث: ۱۰۴۶، ص ۱۳۰۰

[5]     احیاء علوم الدین، کتاب اسرار الصلاۃومھماتھا، ج۱،ص۲۵۱

[6]     المصنف لعبدالرزاق، کتاب الجمعۃ، باب الساعۃ فی یوم الجمعۃ، الحدیث: ۵۵۹۳، ج۳، ص۱۴۳

[7]     المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الجمعۃ، باب الساعۃ التی ترجیٰ یوم الجمعۃ، الحدیث: ۱۲، ج۲، ص۵۲

[8]     سنن ابی داود، کتاب الصلاۃ، باب الاجابۃ ایۃ ساعۃ ھی فی یوم الجمعۃ، الحدیث: ۱۰۴۹، ص ۱۳۰۱مفھوماً

[9]     المرجع السابق، الحدیث: ۱۰۴۸مفھوماً

[10]     جامع الترمذی، ابواب الجمعۃ، باب ما جاء فی الساعۃ التی ترجی فی یوم الجمعۃ، الحدیث: ۴۸۹، ص۱۶۹۲

[11]     شعب الایمان للبیھقی، باب فی الصلوات، فضل الجمعۃ، الحدیث: ۲۹۷۷، ج۳، ص۹۳

[12]     ساعتِ جمعہ کے بارے میں اگرچہ اَقوالِ علما چالیس سے زائد ہیں مگر وہ قول جسے اکابرمحققین علما اورکثیر ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام نے اختیار فرمایا دو ہیں: (۱)ساعتِ اَخیرہ یعنی غروبِ آفتاب سے کچھ ہی پہلے ایک لطیف وقت۔ (۲) جب امام منبر پر بیٹھے اس وقت سے فرضِ جمعہ کے سلام تک ساعتِ مَوعُودَہ ہے۔ (یعنی یہ وہ ساعت ہے جس میں دعا کی قبولیت کا وعدہ ہے) (ماخوذ از فضائلِ دعا، ص $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن