دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 1 | قوت القلوب

book_icon
قوت القلوب

کے دن روزہ رکھنا سال بھر کا کفارہ ہے۔ ‘‘   ([1])

یومِ جمعہ وماہِ رمضان میں   گناہوں   سے  محفوظ رہنے کی فضیلت: 

            حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  مروی ہے کہ نبیوں   کے سَرْوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا  فرمانِ عالیشان ہے: ’’جب یومِ جمعہ  (گناہوں   سے )  محفوظ رہا تو بقیہ ایام بھی محفوظ رہیں   گے اور جب ماہِ رمضان  (نافرمانیوں   سے )  سلامت رہا تو پورا سال سلامت رہے گا۔ ‘‘   ([2])

دنیا میں   پانچ ایام کی قدر و منزلت: 

            علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں   کہ جس نے دنیا میں   رہ کر ان پانچ ایام میں   اپنی من پسند اشیاء حاصل کیں   وہ آخرت میں   اپنی من پسند اشیاء سے  محروم رہے گا۔ مزید فرماتے ہیں   کہ ان ایام میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکے فضل اور زیادتی کی امید کی جاتی ہے،   پس جب تو ان ایام میں   اپنی خواہشات اور دنیاوی کاموں   میں   مشغول ہو گا تو کب اس کے فضل و زیادتی کی امید رکھ پائے گا؟ اور وہ پانچ ایام یہ ہیں  : دو دن عیدین کے،   جمعہ ،   عرفہ اور عاشورا کے دن۔

افضل دن: 

            مذکورہ ایام کے بعد افضل دن دو ہیں   یعنی پیر اور جمعرات کا دن۔ ان دنوں   میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں   لوگوں   کے اعمال پیش ہوتے ہیں  ۔

حرمت والے مہینے: 

            فضیلت والے مہینوں   میں   سے  جن کی حرمت بیان کی گئی ہے وہ چار ہیں   :  (۱)  ذو القعدہ  (۲)  ذو الحجہ  (۳)  محرم الحرام اور  (۴) رجب المرجب۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان مہینوں   کی حرمت کی وجہ سے  ان میں   ظلم نہ کرنے کا خاص طور پر ذکر فرمایا ہے۔ چنانچہ ان مہینوں   میں   کئے گئے اعمال بھی دوسرے مہینوں   سے  افضل ہوتے ہیں  ۔ سب سے  زیادہ فضیلت ماہِ ذی الحج کی ہے کیونکہ اس میں   حج ہوتا ہے اور اس لئے بھی کہ اسی میں   اَیامِ مَعْلُومَات اور اَیامِ مَعْدُوْدَات ہیں  ۔ اس کے بعد ذی القعدہ افضل ہے کیونکہ اس میں   دو وصف جمع ہیں  ،   یعنی اس کاشمار حرمت والے مہینوں   کے علاوہ حج کے مہینوں   میں   بھی ہوتا ہے جبکہ محرم الحرام اور رجب المرجب حج کے مہینے نہیں   ہیں  ۔ شوال اگرچہ حرمت والے مہینوں   میں   سے  نہیں   لیکن اس کا شمار حج کے مہینوں   میں   ہوتا ہے۔

افضل عشرے: 

            عشرہ کے اعتبار سے  افضل دو عشرے ہیں  : یعنی ذی الحج کا پہلا اور آخری عشرہ۔ ان دونوں   عشروں   کے بعد سب سے  زیادہ فضیلت محرم الحرام کے پہلے عشرے کی ہے۔ پس ان ایام میں   اعمال کی بجا آوری بقیہ مہینوں   میں   اعمال بجا لانے سے  افضل ہے۔

دنوں   کی فضیلت کے متعلق  (5 )  احادیثِ مبارکہ: 

 (1) … جس نے ماہِ حرام کے تین روزے رکھے اللہ عَزَّ وَجَلَّاسے  آگ سے  سات سو سال دور فرما دے گا یعنی جمعرات،   جمعہ اور ہفتہ کے دن کا روزہ۔ ([3])

 (2) … ماہِ حرام میں   ایک دن کا روزہ رکھنا عام دنوں   میں   30 روزے رکھنے کے برابر ہے اور ماہِ رمضان المبارک میں   ایک روزہ رکھنا ماہِ حرام میں   تیس روزے رکھنے کے برابر ہے۔  ([4])

 (3) … جب رمضان المبارک کا آخری عشرہ آتا تو سرورِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بستر لپیٹ دیتے اور چادر کَس لیتے۔ ([5])

 (4) … جب آخری عشرہ آتا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خود بھی محنت و کوشش سے  عبادت میں   مصروف ہو جاتے اور اپنے اہلِ خانہ کو بھی تندہی سے  عبادت میں   لگا دیتے یعنی خود بھی عبادت میں   مصروف ہو کر خوب تھکتے اور انہیں   بھی خوب تھکاتے۔ ([6])

 (5) … ذی الحج کے دس دنوں   سے  بڑھ کر کوئی دن ایسا نہیں   کہ جس میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک عمل کرنا افضل اور محبوب ہو ([7])  کیونکہ اس کے ایک دن کا روزہ رکھنا سال بھر کے روزے رکھنے کے برابر ہے اور اس میں   ایک رات قیام کرنا لیلۃ القدر میں   قیام کرنے کے برابر ہے۔ عرض کی گئی: ’’اور کیا راہِ خدا میں   جہاد کرنا بھی  (اس سے  افضل یابرابر)  نہیں  ؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ راہِ خدا میں   جہاد کرنا بھی  (اس سے  افضل)  نہیں   سوائے اس شخص کے جو جان اور مال کے ساتھ نکلے لیکن کوئی شے واپس لے کر نہ لوٹے۔ ‘‘  ([8])  ایک روایت میں   ہے کہ ’’سوائے اس شخص کے جس کے گھوڑے کی کونچیں   کاٹ ڈالی جائیں   اور اس کا خون بہایا جائے۔ ‘‘ 

توفیق یا  تذلیل: 

 



[1]     النسنن الکبریٰ للنسائی، کتاب الصیام، باب صوم یوم عرفۃ، الحدیث: ۲۸۰۰، ج۲، ص۱۵۱

[2]     الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی، الرقم ۱۴۲۵ عبدالعزیز بن ابان، ج۶، ص۵۰۴۔ عن عائشۃ۔ بتقدم و تاخر

[3]     المعجم الاوسط، الحدیث:۱۷۸۹، ج۱، ص۴۸۴۔ ’’بعدہ    الی عام‘‘ بدلہ ’’کتب لہ عبادۃ سنتین‘‘

[4]     المعجم الصغیر،الحدیث:۹۶۰، ج۲، ص۷۱بدون ذکر الصیام رمضان

[5]     صحیح مسلم، کتاب الاعتکاف، باب الاجتھاد فی     الخ، الحدیث:۲۷۸۷، ص۸۶۸۔ بتغیر قلیل

[6]     المعجم الاوسط، الحدیث: ۴۸۲۸، ج۳، ص۳۵۴

[7]     المعجم الاوسط، الحدیث: ۶۶۹۶، ج۵، ص۹۶

[8]     $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن