دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 1 | قوت القلوب

book_icon
قوت القلوب

شہزادے: آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے تین شہزادے تھے جن کے اسمائے مبارکہ یہ ہیں: 

 (1) …    حضرت سَیِّدُنا قاسم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ۔

 (2) …    حضرت سَیِّدُنا ابراہیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ۔

 (3) …    حضرت سَیِّدُنا عبد للہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ،   انہی کا لقب طیب و طاہر ہے۔

شہزادیاں: آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی چار شہزادیاں تھیں جن کے اسمائے مبارکہ یہ ہیں: 

 (1) …    حضرت سَیِّدَتُنا زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا ۔

 (2) …   حضرت سَیِّدَتُنا رقیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا ۔

 (3) …   حضرت سَیِّدَتُنا ام کلثوم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا ۔

 (4) …   حضرت سَیِّدَتُنا فاطمۃ الزہرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا۔    ( المواھب اللدنیۃ،   الفصل الثانی فی ذکر اولادہ الکرام،   ج ۴،   ص ۳۱۳)

فصل:  19

جَہْرِی اور سِرِّیْ قراء ت کا بیان

سری قراء ت کے متعلق 5 فرامینِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ: 

 (1) … سری  (آہستہ آواز سے )  قراء ت  ([1]) کی فضیلت جہری  (بلند آواز سے )  قراء ت پر ایسے  ہے جیسے  اعلانیہ صدقہ کرنے سے  پوشیدہ صدقہ کرنا افضل ہے۔  ([2])

 (2) … بلند آواز سے  تلاوت کرنے والا علانیہ صدقہ کرنے والے کی طرح ہے اور آہستہ آواز میں   تلاوت کرنے والا پوشیدہ طور پر صدقہ کرنے والے کی طرح ہے۔ ([3])

 (3) … پوشیدہ عمل علانیہ عمل سے  70  گنا افضل ہوتا ہے۔ ([4])

 (4) … بہترین رزق وہ ہے جو کافی ہو اور بہترین ذکر وہ ہے جو مخفی ہو۔ ([5])

 (5) … نمازِ مغرب اور عشا کے درمیان تم ایک دوسرے پر بلند آواز سے  قراء ت نہ کیا کرو۔  ([6])

رَبّ کی رضا مقصود ہے یا بندوں   کی؟

            حضرت سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے ایک رات حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْعَزِیز کو مسجدِ نبوی میں   حالتِ نماز میں   بلند آواز سے  قرآنِ کریم پڑھتے سنا حالانکہ وہ بہت اچھے قاری تھے اس کے باوجود اپنے غلام سے  فرمایا کہ جاؤ اور اس نمازی کو کہو کہ اپنی آواز پست رکھے۔ لیکن غلامنے عرض کی :  ’’مسجد ہماری ملکیت نہیں   ہے،   اس شخص کا بھی اس میں   حق ہے۔ ‘‘  تو حضرت سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے خود ہی بلند آواز سے  کہا: ’’ اے نماز پڑھنے والے! اگر نماز کے ذریعے تیرا مقصود اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا ہے تو اپنی آواز پست کر لے اور اگر تیرا مقصود لوگوں   کی رضا ہے تو وہ تجھے اللہ عَزَّ وَجَلَّسے  بچا نہ پائیں   گے۔ ‘‘  راوی فرماتے ہیں   کہ اس پر حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْعَزِیز خاموش ہو گئے اور اپنی رکعت کو مختصر کر دیا،   جب سلام پھیرا تو اپنے جوتے اٹھا کر چل دیئے حالانکہ وہ اس وقت مدینہ منورہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّ تَعْظِیْمًا کے امیر تھے۔ ([7])

جہری قراء ت کے متعلق فرامینِ مصطفٰے صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم: 

 (1) … جب تم میں   سے  کوئی رات کے وقت اٹھ کر نماز پڑھے تو بلند آواز سے  قراء ت کیا کرے کیونکہ فرشتے اور جنات اس کی قراء ت سنتے ہیں   اور اس کی نماز کے ساتھ نماز



[1]     دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 496 صَفحات پر مشتمل کتاب،’’ نماز کے احکام‘‘ صَفْحَہ 206 تا 207 پر شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں: (۱) قراءَت اس کا نام ہے کہ تمام حروف مَخارِج سے ادا کئے جائیں کہ ہر حرف غیر سے صحیح طور پر ممتاز (نمایاں) ہو جائے۔ (عالمگیری، ج۱، ص۶۹) (۲) آہستہ پڑھنے میں بھی یہ ضروری ہے کہ خود سُن لے۔ (غنیۃ المتملی، ص ۲۷۱) (۳) اگر حروف تو صحیح ادا کئے مگر اتنے آہستہ کہ خود نہ سنا اور کوئی رُکاوٹ مثلاً شوروغل یا ثقل سماعت (یعنی اُونچا سننے کا مرض) بھی نہیں تو نماز نہ ہوئی۔ (عالمگیری، ج۱، ص ۶۹) (۴) اگرچہ خود سننا ضروری ہے مگر یہ بھی احتیاط رہے کہ سِرّی (یعنی آہستہ قراء ت والی) نمازوں میں قراءَ ت کی آواز دوسروں تک نہ پہنچے، اسی طرح تسبیحات وغیرہ میں بھی خیال رکھئے۔ (۵) نماز کے علاوہ بھی جہاں کچھ کہنا پڑھنا مقرر کیا ہے اس سے بھی یہی مراد ہے کہ کم از کم اِتنی آواز ہو کہ خو د سُن سکے۔ مثلاً طلاق دینے، آزاد کرنے یا جانور ذبح کرنے کے لیے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا نام لینے میں اتنی آواز ضروری ہے کہ خُود سن سکے۔(ایضاً) درود شریف وغیرہ اَوراد پڑھتے ہوئے بھی کم از کم اتنی آواز ہونی چاہئے کہ خود سُن سکے جبھی پڑھنا کہلائے گا۔

[2]     السنن الکبریٰ للنسائی، کتاب قیام اللیل، باب فضل السر علی الجھر، الحدیث:۱۳۷۴، ج۱، ص۴۳۲

[3]     سنن ابی داود، کتاب التطوع، باب رفع الصوت بالقراء ت، الحدیث: ۱۳۳۳، ص۱۳۲۲

[4]     التاریخ الکبیر للبخاری، باب الحاء، الحدیث: ۳۰۰۵، ج۳، ص۳۰

[5]     مسند ابی یعلیٰ، مسند سعد بن ابی وقاص، الحدیث: ۷۲۷، ج۱، ص۳۱۱المسند للامام احمد بن حنبل، مسند ابی اسحاق سعد بن ابی وقاص، الحدیث: ۱۴۷۷، ج۱، ص۳۶۴

[6]     سنن ابی داود، کتاب التطوع، باب رفع الصوت بالقراء ت، الحدیث: ۱۳۳۲، ص۱۳۲۲بدون ذکر المغرب والعشاء    السنن الکبریٰ للنسائی، کتاب فضائل القراٰن، باب ذکر قول النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم لا یجھر الخ، الحدیث :۸۰۹۱، ج۵، ص۳۲

[7]    $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن