30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جواب:ایسی دوستی ناجائز وحرام ہے بلکہ فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں : ’’اَمرَ د کی طرف شَہوَت سے دیکھنا بھی حرام ہے۔‘‘ (دُرِّمُختار ج ۲ ص۹۸، تفسیراتِ احمدیہ ص۵۵۹) اورشَہوَت کی وجہ سے اَمرَ د کو تحفہ دینا یا اُس کی دعوت کرنا بھی حرام اور جہنَّم میں لیجانے والا کام ہے۔
"محتاط بندہ سکھی رہتا ہے "کے انیس حروف کی نسبت سے امرد کیلئے احتیاط کے 19 مدنی پھول
(پیش کردہ اِحتیاطوں کی وجہ سے بِلا مَصلَحتِ شرعی والِدَین یاگھر والوں کی ناراضی مول نہ لیں )
٭ لڑکے کے لئے عافیت اِسی میں ہے کہ اپنے سے بڑی عمر والے سے دُور رہے۔ بَہُت نازُک دُور ہے مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّآج کل بعض اوقات’’ باپ بیٹی‘‘ نیز چھوٹے اور بڑے سگے بھائیوں کے’’ آپَسی گندے مُعامَلات‘‘ کی لرزہ خیز خبریں بھی سُنی جاتی ہیں ٭یقینا ہر بڑا فرد چھوٹے فردکے حق میں ’’ بُرا‘‘ نہیں ہوتا، تاہم آپ کسی ’’بڑے‘‘ سے دوستی گانٹھ کر اُس کو اور خود کو بربادی کے خطرے میں مت ڈالئی٭بالِغ اَمرَ دبھی آپَس میں بے تکلُّف ہو کر ایک دوسرے کو دَبوچنے، اُٹھانے، پٹخنے، گلے میں ہاتھ ڈال کر چپٹانے وغیرہ حرکتیں کر کے شیطان کا کِھلونا نہ بنیں ۔ شَہوَت کے ساتھ اَ مرَد کا بھی اِس طرح کی حَرَکتیں کرنا حرام ہی٭بِلامَصلَحتِ شَرعی اپنے سے بڑوں کے ساتھ’’ بَہُت زیادہ ملنساری ‘‘ کا مُظاہَرہ نہ فرمائیں ، ورنہ’’ آزمائش ‘‘میں پڑسکتے ہیں ٭ اگر کسی ’’بڑے‘‘ کو خواہ وہ استاذ ہی کیوں نہ ہو اپنے اندر غیر ضَروری دلچسپی لیتا، بار بار تحفے دیتا، بے جا تعریفیں کرتا اور اِسی ضِمن میں آپ کو ’’چھوٹا بھائی‘‘ کہتا پائیں توخوب محتاط ہو جائیے ٭اَمرَد کو(یعنی 22سال سے چھوٹے کو اور اگر 25سال یا اِس زائد عمر کے باوُجُوداَ مرَدِ حسین ہو تو اُس کو بھی )مَدَنی قافِلے میں سفر کی اِجازت نہیں ، اگر کوئی بڑا اسلامی بھائی اپنے ساتھ سفر کرنے کے لئے اِصرار کرے اور سفر کا خَرچ بھی پیش کرے تو مَدَنی مرکز کے حکمِ مُمانَعَت کی طرف اُس کی توجُّہ دلادے پھر بھی اگر مُصِرہو(یعنی اصرار کرے) تو اُس’’ بڑے ‘‘سے خوب محتاط ہو جائیے ٭ بڑے اسلامی بھائیوں سے بے شک الگ تھلگ رہئے، مگر خواہ مخواہ کسی پر بد گُمانی کرکے، غیبتوں ، تہمتوں اور مَدَنی ماحول کو خراب کرنے والی حرکتوں میں پڑ کر اپنی آخِرت داؤ پر نہ لگائیے ٭عید کے دن بھی لوگوں سے گلے ملنے سے بچئے، مگر کسی کو جِھڑکئے نہیں ۔ حکمتِ عملی کے ساتھ کَترا کر آگے پیچھے ہوجائیے، اَمرَد بھی ایک دوسرے سے گلے نہ ملیں ٭والِدَین اور ناناداداوغیرہ خاندان کے بُزُرگوں کے علاوہ کسی کے سَر یا پاؤں وغیرہ مت دَبائیں نیز کسی اسلامی بھائی کو اپنا سر یا پاؤں دبانے دیں نہ ہاتھ چُومنے دیں ٭کوئی پرہیزگار، خواہ رشتے دار بلکہ اُستاذہی کیوں نہ ہو احتیاط اِسی میں ہے کہ ہر بڑے کے ساتھ بلکہ اَمرَدبھی اَمرَدکے ساتھ تنہائی سے بچے۔ ہاں والِد، سگے بھائی وغیرہ کے ساتھ کوئی مانِع نہ ہو توتنہائی میں مُضایَقہ نہیں ٭مدرَسے وغیرہ میں کئی افراد جب ایک کمرے میں سوئیں تو اَمرَد وغیر اَمرَدسبھی کو چاہئے کہ پاجامے کے اوپر تہبندباندھ لیں نہ ہوتو کوئی چادر لپیٹ کر پردے میں پردہ کرکے، ہر دو کے درمِیان مُناسِب فاصِلہ رکھیں اور ممکن ہو توبیچ میں کوئی تکیہ یابیگ وغیرہ بڑی چیز آڑ بنا لیں ۔ گھر میں بلکہ اکیلے میں بھی پردے میں پردہ کرکے سونے کی عادت بنائیں ، مَدَنی قافلے اور اجتِماع وغیرہ میں بھی سوتے وَقت اِسی طرح کریں ٭جب بھی بیٹھیں پردے میں پردہ لازِمی کیجئے ٭بنے سنورے رہنے سے اِجتِناب فرمایئے ۔اِسی رسالے کے صَفحہ 25تا26پردی ہوئی امام اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کی حکایت کی روشنی میں اَمرَدکا حَلق کرواتے(یعنی سر مُنڈواتے)رَہنا بھی مناسِب ہے اور اگر سنّت کی نیّت سے زلفیں رکھنی ہوں تو آدھے کان سے زائد نہ رکھے ٭ گوٹا کَناری والے جاذبِ نظر بڑے عمامے کے بجائے سستے کپڑے کا سادہ سا چھوٹا عمامہ شریف اور وہ بھی خوبصورت انداز میں باندھنے کے بجائے قدرے ڈِھیلا سا باندھئے ٭ عمامہ شریف پر نقشِ نعلِ پاک وغیرہ نہ لگایئے کہ اِس طرح لوگوں کی نگاہیں اٹھتیں اور بعضوں کے لئے ’’ بدنِگاہی ‘‘ کا سامان ہوتا ہے ٭ چہرے پر Cream یا پاؤڈرہرگز ہرگز مت لگایئے ٭ ضَرورت ہو تو حتَّی الامکان سستے والا سادہ ساعینک استعمال کیجئے، دھات کی خوبصورت فریم لگا کر دوسروں کیلئے بدنگاہی کے گناہ کا سبب مت بنئے ٭ بدبو سے بچنا ہی چاہئے، لہٰذاعِطربے شک لگایئے مگر وہ کہ جس کی خوشبو نہ پھیلے ٭ اپنے لباس و انداز میں ہر اُس مُباح چیز (یعنی جائز چیز جس کا کرنا ثواب ہو نہ گناہ مَثَلاً اِستری کئے ہوئے کپڑے وغیرہ) سے بھی بچنے کی کوشش فرمایئے جس سے لوگ مُتَوَجِّہہو کر مَعَاذَ اللہ بدنگاہی کے گناہ میں پڑسکتے ہوں ۔(امامِ اعظم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اپنے اَمرَد شاگرد کیلئے سر منڈوانے اور پُرانا لباس پہنانے کا حُکم فرمایا اسے خوب ذہن میں رکھئے)مَدَنی التجا:والِدَین اور اساتِذہ وغیرہ کو بھی چاہئے کہ مذکورہ مَدَنی پھولوں کی روشنی میں اَمرَدوں کوہر طرح کی ’’ ٹِپ ٹاپ ‘‘ سے بچنے کا ذِہن دیں ۔
اَ مرَد کودوسروں کے ساتھ مل کر نعت شریف پڑھانے سے بچنا مُناسِب ہے۔ چُنانچِہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ561 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت‘‘ صَفْحَہ 545پر ہے: عرض : مِیلاد خواں (یعنی نعت شریف پڑھنے والے)کے ساتھ اگراَ مرَ د شامِل ہوں یہ کیسا ہے؟ارشاد :’’ نہیں چاہیے ۔‘‘ (ملفوظات اعلیٰ حضرت ص ۵۴۵) کاش! اَمرَ دصِرف اکیلے یا اپنے گھر کے افراد ہی میں نعت شریف پڑھ لیا کرے، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّکرم بالائے کرم ہوگا۔ سب کے سامنے جب اَمرَ د نعت شریف پڑھتا ہے تو بعض لوگوں کا بدنگاہی کے گناہ سے بچنا انتہائی مشکِل ہوجاتا ہے اور یوں بھی تَرَنُّم اور راگ سے پڑھنے میں ایک طرح کا جادو ہوتا ہے۔ عاشِقِ رسول کیلئے تو اکیلے میں نعت شریف پڑھنے کا لُطف ہی کچھ اور ہوتا ہے! ؎
دل میں ہو یاد تِری گوشۂ تنہائی ہو پھر تو خَلوت میں عجب انجمن آرائی ہو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع