30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اے بروزِ قِیامت مکّی مَدَنی آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی مُسکراتی نُور برساتی حسین صُورت دیکھنے کے آرزو مند عاشِقانِ رسول! غور توکیجئے! جب بَنَظرِشَہوَت دیکھنے کا انجام اِس قَدَر ہولناک ہے تو پھر شَہوَت کے ساتھ اَ مرَد کی مسکراہٹ سے لُطف اندوز ہونا، بلکہ خود اس کے سامنے’’ گندی لذّت‘‘ کے ساتھ اِس لئے مسکرانا تاکہ وہ بھی مسکرائے یہ کس قدر تباہ کُن ہو گا!نیز اَ مرَد کے ساتھ مزیدیہ کام بھی شَہوَت کے ساتھ کرنا حرام ہیں : اِس سے دوستی اور ہنسی مذاق کرنا، اس کو چھیڑ کر، غصّہ دلا کر اِس کے اِضطِراب (یعنی بے چینی) سے’’ گندا مزا‘‘ حاصِل کرنا، اس کو آگے یا پیچھے اسکوٹر پر سُوار کرنا، اُس سے لپٹنا، اُس سے ہاتھ ملانا، گلے ملنا، اس سے اپنا جسم ٹکرانا، اُس سے اپنا سر پاؤں یا کمر وغیرہ دَبوانا،مَرَض وغیرہ میں اٹھتے بیٹھتے یا چلتے ہوئے اُس کے ہاتھ کا سہارا لینا، اُس کو تیمارداری کیلئے رکھنا، اُس کواپنے یہاں ملازِم رکھنا، مذاق میں اُس کو دبوچ کر گرانا، اُس کا ہاتھ پکڑ کر یا اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر چلنا،اجتِماع وغیرہ میں اُس کے قریب بیٹھنا، اُس کے پاس بیٹھ کر اس کی ران پر اپنا گُھٹنا رکھنا یا اس کا گُھٹنا اپنی ران پر رہنے دینا،_مسجِد کے اندرنَمازِ باجماعت میں اُس سے کندھا چِپکا کر کھڑا ہونا، وغیرہ وغیرہ۔ مسئلہ:جماعت میں اِس طرح مل کر کھڑا ہونا واجِب ہے کہ کندھے سے کندھا چِھل رہا ہو یعنی ایک کا کندھا دوسرے کے کندھے سے خوب ملا ہوا ہوالبتّہ برابر میں اَ مرَدکھڑا ہو اور کندھا ملا کر کھڑے ہونے سے شَہوَت آتی ہو تو وہاں سے ہٹ جائے، ورنہ گنہگار ہوگا۔
منقول ہے: ’’جو کسی لڑکے کا (شَہوَت کے ساتھ) بوسہ لے گا وہ پانچ سو سال جہنَّم کی آگ میں جلایا جائے گا۔‘‘ (مُکاشَفۃُ الْقُلوب ص۷۶)
اے عذابِ نار کی سَہار نہ رکھنے والے زارو نَزار بندو!اگر کبھی ’’ اَ مرَد‘‘ کے تعلُّق سے بدنِگاہی یا بوسہ بازی وغیرہ کسی طرح کا بھی گناہ کر بیٹھے ہیں تو خوفِ خداعَزَّ وَجَلَّ سے لرز اٹھئے اور گھبرا کر اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں رُجوع کرلیجئے، سچّی پکّی توبہ کرکے اِس طرح کے بلکہ ہر طرح کے گناہوں سے آیَندہ بچنے کا عزمِ مُصَمَّم کر لیجئے۔ خبردار! اَ مرَدکی دوستی سے باز رہنے کی تلقین کرنے والے خیر خواہ پر ناراض مت ہوں ، شیطان کے اُکسانے پر، تاؤ میں آکر، بل کھا کر ، ناصِح (یعنی نصیحت کرنے والے ) کو دلائل میں اُلجھا کر، اُس پر اپنی پارسائی کا سکّہ جما کر ہوسکتا ہے کہ چند روزہ زندَگی میں آپ رُسوائی سے بچ بھی جائیں ، مگر یاد رکھئے! ربِّ ذوالجلالعَزَّ وَجَلَّدلوں کے اَحوال سے باخبر ہے۔
چُھپ کے لوگوں سے کئے جس کے گناہ
وہ خبردار ہے کیا ہونا ہے(حدائقِ بخشش شریف)
سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا:’’تم یا تو اپنی نگاہیں نیچی رکھو گے اور اپنی شَرمگاہوں کی حفاظت کرو گے یاپھر اللہ عَزَّ وَجَلَّتمہاری شکلیں بگاڑ دے گا۔‘‘ (اَلْمُعْجَمُ الْکبِیر لِلطّبَرانی ج۸ ص۲۰۸حدیث۷۸۴۰)
قبر میں کیڑے سب سے پہلے تیری آنکھ کھائیں گے
عورَتوں اور اَمرَدوں وغیرہ سے بدنگاہی کرنے والو خبردار!دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 54 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’ نصیحتوں کے مَدَنی پھول ‘‘ صَفْحَہ 44پرہے:(اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّفرماتا ہے اے ابنِ آدم!)میری حرام کردہ چیزوں کی طرف مت دیکھ (قَبر میں ) کیڑے سب سے پہلے تیری آنکھ کھائیں گے ۔ یادرکھ ! حرام پر نظراوراس کیمَحَبَّتپرتیر امُحاسَبہ (یعنی پوچھ گچھ) کیا جائے گا۔اورکل بروزِ قِیامت میرے حُضور کھڑے ہونے کو یاد رکھ! کیونکہ میں لمحہ بھر کے لئے بھی تیرے رازوں سے غافِل نہیں ہوتا،بے شک میں دلوں کی بات جانتا ہوں ۔
نظر کی حفاظت کرنے والے کیلئے جہنَّم سے اَمان ہے
جو اَمرَدوں اورغیر عورَتوں وغیرہ کی موجودَگی میں آنکھیں جھکاتا،اپنی گندی خواہِش دباتا اور ان کو دیکھنے سے خود کو بچاتا ہے وہ قابلِ صد مبارَکباد ہے چُنانچِہ ’’ نصیحتوں کے مَدَنی پھول‘‘ صَفحَہ30پر ہے :( اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّفرماتا ہے)جس نے میری حرام کردہ چیزوں سے اپنی آنکھوں کو جُھکا لیا(یعنی انہیں دیکھنے سے بچا)میں اسے جہنَّم سے اَمان(پناہ) عطاکر دوں گا۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکیمَحبوب ، دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمانِ حَلاوَت نشان ہے کہ حدیثِ قُدسی(یعنی فرمانِ خدائے رحمن عَزَّ وَجَلَّ) ہے:نظر ابلیس کے تیروں میں سے ایک زَہر میں بُجھاہواتِیر ہے پَس جو شخص میرے خوف سے اِسے ترک کر دے تو میں اُسے ایسا ایمان عطا کروں گاجس کی حَلاوت(یعنی مٹھاس)
وہ اپنے دل میں پائے گا۔ ( اَلْمُعْجَمُ الْکبِیْرلِلطَّبَرانِی ج۱۰ص۱۷۳حدیث۱۰۳۶۲)
اَمرَد کے ساتھ تنہائی سات دَرِندوں سے بھی زیادہ خطرناک
ایک تابِعی بُزُرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں :’’میں نوجوان سالِک (یعنی عبادت گزار نوجوان )کے ساتھ بے رِیش لڑکے کے بیٹھنے کو سات دَرِندوں سے زیادہ خطرناک سمجھتا ہوں ۔‘‘ مزید فرماتے ہیں :’’کوئی شخص ایک مکان میں کسی اَ مرَد کے ساتھ تنہا رات نہ گزارے۔‘‘امام ابنِ حَجَر مکّی شافِعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں :بعض عُلَمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے اَمرَد کو عورَت پر قِیاس کرتے ہوئے گھر، دُکان یا حمّام میں اِس کے ساتھ خَلوَت (یعنی تنہائی) کو حرام قرار دیا کیونکہشَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن ، اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمانِ حقیقت نشان ہے :’’جو شخص کسی عورت ( اَجْنَبِیَّہ) کے ساتھ تنہا ہوتا ہے تو وہاں تیسرا شیطان ہوتا ہے۔‘‘ (تِرْمِذِی ج۴ ص۶۷ حدیث ۲۱۷۲)
اَمرَد عورَت سے بھی زیادہ خطرناک ہے!
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع