دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qom e Loot Ki Tabahkariyan | قوم لوط کی تباہ کاریاں

book_icon
قوم لوط کی تباہ کاریاں

بھی گنہگار اورجہنّم کا حقدار ہے۔

قومِ لُوط کے قبرِستان میں 

              حضرتِ سیِّدُنا وَکیع رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے: ’’جو شخص قومِ لوط کا سا عمل (یعنی بد فعلی)کرتا ہوگا اور بِغیر توبہ مرے گا ،تو تدفین کے بعد اُسے قومِ لوط کے قبرِستان میں   منتقل کردیا جائے گا اور اُس کا حَشر قومِ لُوط کے ساتھ ہوگا۔‘‘ (یعنی قوم لوط کے ساتھ قِیامت  میں   اُٹھے گا) (اِبنِ عَساکِر ج۴۵ص۴۰۶)

اِغلام باز کی دُنیا میں   سزا

            حنفی مذہب میں   اِغلام باز (یعنی بد فِعلی کرنے والے )کی سزا یہ ہے کہ اُس کے

اوپر دیوار گرا دیں   یا اونچی جگہ سے اُس کو اَوندھا کرکے گِرائیں   اور اُس پر پتَّھر برسائیں   یا اُسے قید میں   رکھیں   یہاں   تک کے مرجائے یا توبہ کرلے۔ یا چند بار یہ فعلِ بد کیا ہو تو بادشاہِ اسلام اسے قتل کر ڈالے۔(دُرِّمُختارو رَدُّالْمُحتار ج ۶ ص۴۳،۴۴)عوام کیلئے اجازت نہیں   کہ بیان کردہ سزائیں   دیں  ، صِرف حاکمِ اسلام دے گا۔

بد فِعلی کو جائز سمجھنا کیسا؟

          دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 692 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’کُفریہ کلمات کے بارے میں   سوال جواب‘‘ صَفْحَہ 397 تا398سے دوسُوال جواب مُلا حَظہ فرمایئے:سُوال: جوبد فِعلی کو جائز سمجھے یا جائز کہے کیا وہ مسلمان ہی رہے گا؟ 

جواب:نہیں  ، وہ کافِر ہو جائیگا ۔ فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں   : جس نے حرامِ اِجماعیکی حُرمَت کا انکار کیا یا اُس کے حرام ہونے میں   شک کیا وہ کافر ہے جیسے شراب(خَمر)، زِنا، لوِاطَت، سُود وغیرہا۔      (مِنَحُ الرَّوضص ۵۰۳ )

            میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت ، مولاناشاہ  امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن ، لوِاطَت کے حلال ہونے کے قائل کے بارے میں   ارشادفرماتے ہیں   : حِلِّ لِواطت کا قائل کافِرہے ۔ ( فتاوٰی رضویہ ج ۲۳ ص ۶۹۴)

’’کاش! بد فِعلی جائز ہوتی‘‘ کہنا کُفر ہے

سُوال: اُس شَخص کے لئے کیا حکم ہے جو جائز تو نہ کہے مگریہ تمنّا کر ے کہ کاش! بد فِعلی جائز ہوتی ۔

جواب: یہ تمنّا بھی کُفر ہے ۔ اَلْبَحْرُ الرّائِق جلد 5 صَفْحَہ 208 پر ہے: جو حرام کام کبھی حلال نہ ہوئے اُن کے بارے میں   حلال ہونے کی تمنّا کرنا کُفرہے مَثَلاً تمنّا کرناکہ کاش! ظُلم، زِنا اور قتلِ ناحق حلال ہوتے ۔

پیش امام کی کرامت

      اےاللہ  کی رَحمت سے جنَّتُ ا لفردوس میں   مکی مَدَنی آقا  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے پڑوس کے طلبگارو! بد فِعلی سے بچنے کیلئے نگاہوں   کی حفاظت بھی ضَروری ہے کہ یہ اِس خوفناک گناہ کی پہلی سیڑھی ہے،بد نِگاہی کی تباہ کاری کی ایک جھلک مُلاحَظہ ہو ،چُنانچِہ حافِظ ابوعَمرو مدرَسے میں   قراٰنِ پاک پڑھاتے تھے، ایک بار ایک خوبصورت لڑکا پڑھنے کیلئے آگیا، اُس کی طرف گندی لذّت کے ساتھ دیکھتے ہی اُن کو سارا قراٰن شریف بُھلادیا گیا، خوب توبہ کی اور روتے ہوئے مشہور تابِعی بُزُرگ حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی  کی بارگاہ میں   حاضِر ہوکر رُوداد عرض کر کے طالبِ دُعا ہوئے۔ فرمایا: اِسی سال حج کی سعادت حاصل کرو اور منیٰ شریف کی مسجدُالخَیف شریف میں   جاکر وہاں   پیش امام سے دعا کرواؤ۔ چنانچِہ (سابِقہ) حافِظ صاحِب نے حج کیا اورمسجدُالْخَیف شریف میں   ظُہر سے پہلے حاضِر ہوگئے، ایک نورانی چہرے والے بوڑھے پیش امام صاحِب لوگوں   کے جُھرمَٹ کے اندر مِحراب میں   تشریف فرما تھے۔ کچھ دیر کے بعد ایک صاحِب تشریف لائے، بَشُمُول امام صاحِب سب نے کھڑے ہو کر ان کا استِقبال کیا، نووارِد(نئے آنیوالے صاحِب) بھی اسی حلقے میں   بیٹھ گئے۔ اذان ہوئی اور نَمازظُہر کے بعد لوگ مُنتَشِر ہوگئے۔ پیش امام صاحِب کو تنہا پاکر( سابِقہ) حافِظ صاحِب آگے بڑھے اور سلام و دست بوسی کے بعد روتے ہوئے  مُدَّعا عرض کر کے دُعا کی التِجا کی، پیش امام صاحِب کے دُعا کرتے ہی سارا قراٰنِ مجید پھرحِفظ ہوگیا، امام صاحِب نے پوچھا: تمہیں   میرا پتا کس نے بتایا؟ عرض کی: حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی  نے۔ فرمانے لگے: اچّھا! اُنہوں   نے میرا پردہ فاش کیا ہے، اب میں   بھی اُن کا راز کھولتا ہوں  ، سنو! ظہر سے پہلے جن صاحِب کی آمد پر اُٹھ کر سب نے تعظیم کی تھی وہ حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی  تھے! وہ اپنی کرامت سے بصرہ شریف سے یہاں  مِنیٰ شریف کیمسجدُالْخَیف میں   تشریف لاکر روزانہ نَمازِ ظہر ادا فرماتے ہیں  ۔( ماخوذاً تذکرۃ الاولیاء ج۱ ص۴۰ ) اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری  بے حساب مغفِرت ہو۔    

                                                اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

آخِری عمر ہے کیا رونقِ دُنیا دیکھوں

اب تو بس ایک ہی دُھن ہے کہ مدینہ دیکھوں

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حافِظے کی تباہی کا ایک سبب

            اے دیدارِمدینہ کے آرزو مند عاشِقانِ رسول!دیکھا آپ نے! اَمْرَدکی طرف ’’گندی لذّت‘‘ کے ساتھ دیکھنے سے حافِظہ  بھی تباہ ہوسکتا ہے۔ آج کل یادداشت کی کمی کی   شکایت

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن