30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تشریف لے گئے۔ پھر حضرتِ سیِّدُنا جبریل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام اِس شہر کی پانچوں بستیوں کو اپنے پروں پر اُٹھا کر آسمان کی طرف بُلند ہوئے اور کچھ اُوپر جا کر اُن بستیوں کو زمین پر اُلٹ دیا ۔ پھر ان پر اِس زور سے پتھروں کا مینہ برسا کہ قومِ لوط کی لاشوں کے بھی پَرَخچے اُڑ گئے! عین اُس وَقت جب کہ یہ شہر اُلَٹ پَلَٹ ہو رہا تھا حضرتِ سیِّدُنالوطعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکی ایک بیوی جس کا نام ’’واعِلہ‘‘ تھا جو کہ درحقیقت مُنافِقہ تھی اور قوم کے بدکاروں سے محَبَّت رکھتی تھی اُس نے
پیچھے مُڑ کر دیکھ لیا اوراُس کے منہ سے نکلا : ’’ہائے رے میری قوم!‘‘ یہ کہہ کر کھڑی ہو گئی پھر عذابِ الٰہی کا ایک پتھَّر اُس کے اوپر بھی گر پڑا اور وہ بھی ہلاک ہو گئی۔پارہ 8 سُوْرَۃُ الْاَعْرَاف آیت 83اور84 میں ارشادِ ربُّ العِباد عَزَّ وَجَلَّ ہوتا ہے:
فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ ﳲ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ(۸۳)وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًاؕ-فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ۠(۸۴)
ترجَمۂ کنزالایمان: تو ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کونجات دی مگر اُس کی عورت ، وہ رہ جانے والوں میں ہوئی۔ اور ہم نے اُن پر ایک مینہ برسایا، تو دیکھو کیسا انجام ہوا مجرموں کا۔
بدکار قوم پر برسائے جانے والے ہر پتھرپر اُس شخص کا نام لکھا تھا جو اس پتھر سے ہلاک ہوا۔ (ماخوذ ازعجائب القرآ ن ص ۱۱۰تا ۱۱۲، تفسیرِ صاوی ج۲ص۶۹۱)
حضرتِ سیِّدُنالوطعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکی قوم کا ایک تاجِر اُس وَقت کاروباری طور پر مکّۃُالمکرَّمہزادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْمًا آیا ہوا تھا، اُس کے نام کا پتھر وَہیں پَہُنچ گیا مگر فِرشتوں نے یہ کہہ کر روک لیا کہ یہاللہ عَزَّوَجَلَّ کا حرم ہے۔ چُنانچِہ وہ پتھر 40 دن تک حرم کے باہَر زمین و آسمان کے درمیان مُعَلّق ( یعنی لٹکا) رہا جُوں ہی وہ تاجِر فارِغ ہوکر مکّۃُالمکرَّمہزادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْمًاسے نکل کر حرم سے باہَرہواکہ وہ پتھر اُس پر گر ا اوروہ وَہیں ہلاک ہوگیا۔
(مُکاشَفۃُ الْقُلوب ص ۷۶ماخوذاً)
مُفَسِّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّانفرماتے ہیں : فاحشہ(بے حیائی) وہ گناہ ہے جسے عَقل بھی بُرا سمجھے ۔کُفر اگرچِہ بدترین گناہِ کبیرہ ہے مگر اسے رب(عَزَّوَجَلَّ)نے فاحِشہ(یعنی بے حیائی) نہ فرمایا کیونکہ نفسِ انسانی اس سے گِھن نہیں کرتی ۔ بَہُتَیرے عاقِل(عقلمند کہلانے والے) اِس میں گرفتارہیں مگر اِغلام ( یعنی بدفِعلی )تو ایسی بُری چیز ہے کہ جانور بھی اس سے مُتَنَفِّر ہیں سوائے سُؤر کے ۔ لڑکوں سے اِغلام حرامِ قَطعی ہے اِس کے حرام ہونے کا مُنکِر (یعنی انکار کرنے والا)کافر ہے۔ لُوطی(یعنی اِغلام باز) مرد، ’’عورت ‘‘کے قابِل نہیں رَہتا۔ (نورالعرفان ص ۲۵۵ )
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ گناہ
حضرتِ سیِّدُناسُلَیمانعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنے ایک مرتبہ شیطان سے پوچھا کہاللہعَزَّوَجَلَّ کو سب سے بڑھ کر کون سا گناہ ناپسند ہے؟ ابلیس بولا:اللہ تعالٰی کو یہ گناہ سب سے زیادہ ناپسند ہے کہ مَرد،مَرد سے بدفِعلی کرے اور عورت، عورت سے اپنی خواہِش پوری کرے۔ ( روحُ البیان ج۳ص۱۹۷)خاتَمُ الْمُرسَلین، رَحمَۃٌ لّلْعٰلمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمانِ عبرت نشان ہے:جب مرد مرد سے حرام کاری کرے تووہ دونوں زانی ہیں اور جب عورت عورت سے حرام کاری کرے تو وہ دونوں زانیہ ہیں ۔ (السّننُ الکبری ج ۸ص۴۰۶ حدیث۱۷۰۳۳)
حضرتِ سیِّدُناابو سعید خُدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ آخِری زمانے میں کچھ لوگ ’’لُوطِیَّہ‘‘کہلائیں گے اور یہ تین طرح کے ہوں گے {۱} وہ کہ جو(شَہوَت کے ساتھ) صِرف اَمرَدوں کی صورَتیں دیکھیں گے اور(باوُجُودِشَہوَت) ان سے بات چیت کریں گے {۲}جو (شَہوَت کے ساتھ) ان سے ہاتھ ملائیں گے اور گلے بھی ملیں گے {۳} جو اُن کے ساتھ بد فعلی کریں گے۔ ان سبھوں پراللہعَزَّوَجَلَّکی لعنت ہے مگر وہ جو توبہ کرلینگے ۔(تواللہعَزَّوَجَلَّ ان کی توبہ قبول فرمالے گا اور وہ لعنت سے بچے رہیں گے)
(اَلْفِردَوس بمأثور الْخطّاب ج۲ ص۳۱۵ حدیث ۳۴۲۵)
حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ رُوحُ اللّٰہعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنے ایک بار جنگل میں دیکھا کہ ایک ’’مَر د‘‘ پر آگ جل رہی ہے۔ آپعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنے پانی لے کر آگ بجھانی چاہی تو آگ نے اَ مرَد کی صورت اختیار کرلی۔حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ رُوحُاللّٰہعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنےاللہعَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں عرض کی:یااللہعَزَّوَجَلَّ!ان دونوں کو اپنی اصلی حالت پر لوٹادے، تاکہ میں ان سے ان کا گناہ پوچھوں ۔ چُنانچِہمَرد اور اَ مرَد آگ سے باہَر آگئے۔مَرد کہنے لگا: یا روحَ اللّٰہعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام! میں نے اِس اَ مرَدسے دوستی کی تھی، افسوس!شَہوَت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع