30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیلئے اس کا نام محمد رکھے وہ اور اس کا لڑکا دونوں جنّت میں جائیں (جَمْعُ الْجَوامِع ج۷ ص۲۹۵ حدیث۲۳۲۵۵ ) {۲}روزِ قِیامت دو شخص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حُضُور کھڑے کئے جائیں گے ،حکم ہوگا: انہیں جنّت میں لے جاؤ۔ عرض کریں گے: الٰہی عَزَّ وَجَلَّ!ہم کس عمل پر جنّت کے قابِل ہوئے؟ہم نے تو جنّت کا کوئی کام کیا نہیں ! فرمائے گا : جنّت میں جاؤ، میں نے حَلَف کیا ہے کہ جس کا نام احمد یا محمد ہو دوزخ میں نہ جائے گا(فتاوٰی رضویہ ج۲۴ ص ۶۸۷، اَلْفِردَوس بمأثور الْخطّابج۵ ص۵۳۵حدیث۹۰۰۶){۳}تم میں کسی کا کیا نقصان ہے اگر اس کے گھر میں ایک محمد یا دو محمد یا تین محمد ہوں (الطبقات الکبری لابن سعد ج۵ ص۴۰ )یہ حدیثِ پاک نقل کرنے کے بعد اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے جو لکھا ہے اُس کا خلاصہ ہے: اِسی لئے میں نے اپنے سب بیٹوں ، بھتیجوں کا عقیقے میں صرف محمد نام رکھاپھر نامِ مبارک کے آداب کی حفاظت اور بچّوں کی پہچان ہو سکے اِس لئے عُرف( یعنی پکارنے والے نام) جُدا مُقرَّر کئے۔ بِحَمدِ اللّٰہ پانچ محمد اب بھی موجود ہیں جبکہ پانچ سے زائد اپنی راہ کو گئے یعنی وفات پا چکے ہیں ۔ (مُلَخَّص از فتاوٰی رضویہ ج۲۴ ص ۶۸۹)حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام ابوحامد محمدبن محمدبن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالیکا اپنا ، والد صاحب کا اور داداجان کا مبارک نام محمد تھایعنی محمد بن محمد بن محمد ٭اولاد نرینہ کیلئے عمل:سیِّدُنا امامِ عظم ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے استاذِ گرامی جلیل القدر تابِعی امام عطا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :جو چاہے کہ اس کی عورت کے حَمل میں لڑکا ہو، اسے چاہئے اپنا ہاتھ(حامِلہ) عورت کے پیٹ پر رکھ کر کہے: اگر لڑکا ہے تو میں نے اس کا نام محمد رکھا۔ اِن شاءَ اللّٰہُ الْعَزیز لڑکا ہی ہو گا (فتاوٰی رضویہ ج۲۴ ص ۶۹۰) ٭آج کلمَعاذَاللّٰہنام بگاڑنے کی وَباعام ہے اور محمد نام کا بگاڑنا تو بَہُت ہی سخت تکلیف دِہ ہے۔لہٰذا ہر مرد کا نام محمد یا احمد رکھ لیجئے اورعُرف یعنی پکارنے کیلئے مَثَلاً بِلال رضا ، ہِلال رضا ،جمال رضا،کمال رضااور زید رضاوغیرہ رکھ لیا جائی٭فرشتوں کے مخصوص نام پر نام رکھنا دُرُست نہیں ، لہٰذا کسی کا جبریل یا میکائیل وغیرہ نام نہ رکھئے۔فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے: فرشتوں کے نام پر نام نہ رکھو(شُعَبُ الْاِیمان ج۶ ص۳۹۴ حدیث ۸۶۳۶)٭ محمدنبی، احمدنبی، نبی احمد نام رکھناحرام ہے (مُلَخَّص ازفتاوٰی رضویہ ج ۲۴ ص ۶۷۷) ٭جب بھی نام رکھیں اُس کے معنیٰ پر غور کر لیجئے یا کسی عالم سے پوچھ لیجئے، بُرے معنیٰ والے نام نہ رکھئے مَثَلاًغَفورُالدین کے معنیٰ ہیں : دین کامٹانے والا، یہ نام رکھنا سخت بُرا ہے ٭ بُرے نام بُری تاثیر رکھتے ہیں چُنانچِہ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : میں نے بُرے ناموں کا سخت بُرا اثر پڑتے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، بھلے چنگے سُنّی صورت کو آخرِ عُمر میں ’’ دین پوش اور ناحق کوش‘‘ ( یعنی دین چھپانے والااور باطل کیلئے کو شش کرنے والا) ہوتے پایا ہے (مُلَخَّص ازفتاوٰی رضویہ ج۲۴ ص۶۸۱۔۶۸۲ ) ٭نام کے اثرات آیَندہ نسل میں بھی آ سکتے ہیں ، ’’بہارِ شریعت‘‘ جلد 3 صفحہ 601پر حدیث نمبر 21ہے: ’’صحیح بخاری ‘‘میں سعید بِن مُسَیَّب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی کہتے ہیں :میرے دادا نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حُضُور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) نے پوچھا: تمہارا کیا نام ہے؟ انھوں نے کہا: حَزْن۔ فرمایا: تم سَہْل ہو۔ یعنی اپنا نام’’ سَہْل‘‘ رکھو کہ اس کے معنی ہیں نرم اور’’ حَزْن‘‘ سخت کو کہتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ جو نام میرے باپ نے رکھا ہے اُسے نہیں بدلوں گا ۔ سعید بِن مُسَیَّب کہتے ہیں :اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم میں اب تک سختی پائی جاتی ہے( بُخاری ج ۴ ص۱۵۳حدیث۶۱۹۳) ٭یٰسین یاطٰہٰ نام رکھنا منع ہے (فتاوٰی رضویہ ج ۲۴ ص۶۸۰) محمدیٰسین نام بھی نہیں رکھ سکتے ہاں غلام یٰسین اور غلام طٰہٰ نام رکھنا جائز ہے ٭بہارِ شریعت حصّہ 15’’ عقیقے کا بیان‘‘ میں ہے :عبدُ اللّٰہ و عبدالرحمن بَہُت اچّھے نام ہیں مگر اس زمانہ میں یہ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ بجائے عبدالرحمن اس شخص کو بہت سے لوگ رحمن کہتے ہیں اور غیر خدا کو رحمن کہنا حرام ہے۔ اسی طرح عبدالخالق کو خالق اور عبدالمعبود کو معبود کہتے ہیں اس قسم کے ناموں میں ایسی ناجائز ترمیم ہرگز نہ کی جائے۔ اسی طرح بہت کثرت سے ناموں میں تصغیر (تَص۔غِیْر یعنی چھوٹا کرنے)کا رواج ہے یعنی نام کو اس طرح بگاڑتے ہیں جس سے حقارت نکلتی ہے اور ایسے ناموں میں تصغیر(یعنی چھوٹائی) ہرگز نہ کی جائے لہٰذا جہاں یہ گمان ہو
کہ ناموں میں تَصغِیر کی جائے گی یہ نام نہ رکھے جائیں دوسرے نام رکھے جائیں ۔ (بہارِ شریعت ج ۳ ص ۳۵۶ )٭جو نام بُرے ہوں ان کو بدل کر اچھا نام رکھنا چاہیے کہ حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بُرے نام کو(اچھے نام سے) بدل دیا کرتے تھے۔( تِرمِذی ج۴ ص۳۸۲ حدیث ۲۸۴۸) ایک خاتون کا نا م ’’عا صیہ‘‘(یعنی گنہگار) تھا، حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس کے نام کو بدل کر جمیلہ رکھا (مُسلِم ص۱۱۸۱حدیث۲۱۳۹) ٭ایسے نام مَنع ہیں جن میں اپنے منہ سے خود کو اچھا بتانا یعنی اپنے’’ منہ میاں مٹّھو‘‘ بننا پایا جائے۔ پارہ 27 سُ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع