30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مُمِیْتُکا وِرد کرتے کرتے سو جائے ۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ فائدہ ہوگا۔(جب بھی لیٹے لیٹے کچھ پڑھیں تو پاؤں سِمٹے ہوئے ہونے چاہئیں ) {۵}روزانہ صبح (اول آخِر تین بار یا ایک بار دُرُود شریف اور)11 بار سُوْرَۃُ الْاِخْلَاص پڑھے ، شیطان مَع لشکر بھی اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ گناہ نہ کروا سکے جب تک یہ (پڑھنے والا) خود نہ کرے۔ (آدھی رات کے بعد سے لیکر سورج کی پہلی کرن چمکنے تک صُبح کہلاتی ہے)
"یا کریم" کے چھ حُرُوف کی نسبت سے اس گناہ سے بچنے کی 6تدبیریں
{۱}اَمرَ د پسندی ، بد نِگاہی اور ہینڈ پریکٹس کے عذابات اور دُنیوی نقصانات پر غو ر کرے اور خود کو خوب ڈرائے{۲}جس کو شَہوت تنگ کرتی ہو، وہ فوراً شادی کرلے {۳} شادی شدہ کا پردیس میں نوکری یا کاروبار وغیرہ کیلئے چار ماہ سے زیادہ اپنی زوجہ سے دُور رہنا (میاں بیوی دونوں کیلئے) انتہائی خطرناک ہے ،دُوری کے سبب دونوں اس فعلِ بد میںمبتَلا ہو کر دنیا و آخِرت برباد کر بیٹھیں تو تَعَجُّب نہیں ۔اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفتاوٰی رضویہ جلد 23صَفحَہ 388پر فرماتے ہیں :بِلاضَرورت سفر میں زیادہ رَہنا کسی کو نہ چاہئے ، حدیث میں حکم فرمایا ہے کہ’’ جب کا م ہو چکے سفر سے جلد واپَس آؤ۔‘‘[ مُسلِم ص۱۰۶۳ حدیث۱۹۲۷] اور جو وطن میں زَوجہ چھوڑ آیا ہو اُسے حکم ہے کہ جہاں تک بن پڑے چار ماہ کے اندر اندر واپَس آئے(کہ امیرُالْمُؤمِنِین حضرتِ سیِّدُنا عُمَرفاروقِ اَعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے مسلمانوں کو یہی حکم فرمایا تھا) {۴}ہر اُس کام و مَقام سے بچے جس سے شَہوَت کو تحریک ملتی ہو مَثَلاً جن کاموں یا جگہوں پر اَمرَ دوں سے واسِطہ پڑتا ہو اُن سے دُور رہے{۵} بھابھی،تائی،چچی، مُمانی، چچا زاد، خالہ زاد، ماموں زاد اور پھوپھی زاد کا شَرعاً پردہ ہے، جومعاذ اللہ اِن سے نِگاہیں نہ بچاتا ہو، بے تکلُّف بنتا ، ہنسی مذاق کرتا ہو اور شَہوَت کی کثرت کی شکایت بھی کرتا ہووہ احمقوں کا سردار ہے کہ خود ہی آگ میں ہاتھ ڈالتا پھر چلّاتا ہے کہ بچاؤ! بچاؤ! میرا ہاتھ جَلاجاتاہے! یِہی حال فلمیں ، ڈرامے دیکھنے والے اور گانے باجے سننے والے کا ہے {۶} رُومانی ناولیں ، عِشقیہ وفِسقیہ افسانے اور اسی طرح کے اخباری مضامین، بلکہ’’ گندی خبروں ‘‘ اور عورَتوں کی تصویروں سے بھرپوراخبار ات پڑھنے سے اجتِناب کرے ۔ورنہ بدنگاہی سے خود کو بچانا انتہائی دشواراورشَہوَت کی کثرت سے بچنا مشکل ترین ہوگا۔ کہا جاتا ہے: ’’ خود کردہ را علاجے نَیست‘‘ یعنی اپنے ہاتھوں کے کئے کا کوئی علاج نہیں ۔(شَہوَت پرستیوں اور مَرد و عورت کی ہینڈ پریکٹس کی جُداجُداتباہ کاریوں کی مزید معلومات کے لیے خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، مبلِّغ اسلام، حضرتِ مولانا عبدالعلیم صدّیقی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِیکی مختصر کتاب ’’ بہارِ شباب‘‘ کا مُطالعہ فرمایئے)
چُھپ کے لوگوں سے کئے جس کے گناہ وہ خبردار ہے کیا ہونا ہے
کام زِنداں کے کئے اور ہمیں شوقِ گلزار ہے کیا ہونا ہے
ارے او مجرمِ بے پروا! دیکھ سر پہ تلوار ہے کیا ہونا ہے
ان کو رَحم آئے تو آئے ورنہ وہ کڑی مار ہے کیا ہونا ہے
(حدائقِ بخشش شریف)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
تُوبُوا اِلَی اللّٰہ! اَسْتَغْفِرُاللّٰہ
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بیان کواختتام کی طرف لاتے ہوئے سنت کی فضیلت اور چند سنتیں اور آداب بیان کرنے کی سعادَت حاصِل کرتا ہوں ۔ تاجدارِ رسالت، شَہَنشاہِ نُبُوَّت، مصطَفٰے جانِ رَحمت،شَمعِ بزمِ ہدایت ،نَوشَۂ بز م جنت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمانِ جنت نشان ہے: جس نے میری سنت سے مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی ا و ر جس نے مجھ سیمَحَبَّت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا ۔ (اِبنِ عَساکِر ج۹ص۳۴۳)
سینہ تری سنت کا مدینہ بنے آقا
جنت میں پڑوسی مجھے تم اپنا بنانا
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
’’نامِ محمد میٹھا لگتا ہے‘‘ کے اٹھارہ حُرُوف کی نسبت سے نام رکھنے کے بارے میں 18 مَدَنی پھول
٭دو فرامین ِمصطَفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ :(۱) اچّھوں کے نام پر نام رکھو (اَلْفِردَوس بمأ ثور الْخطّاب،ج۲ ص۵۸ حدیث ۲۳۲۹ )(۲)قِیامت کے دن تم کو تمہارے اور تمہارے باپوں کے نام سے پکارا جائے گا لہٰذا اپنے اچّھے نام رکھو(ابوداوٗد ج۴ ص۳۷۴حدیث ۴۹۴۸)٭صدرُ الشَّریعہ ،بدرُ الطَّریقہحضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِیفرماتے ہیں : بچّے کا اچّھا نام رکھا جائے، ہندوستان میں بَہُت لوگوں کے ایسے نام ہیں جن کے کچھ معنٰی نہیں یا ان کے بُرے معنی ہیں ایسے ناموں سے اِحتِراز(یعنی پرہیز) کریں ۔ انبیائے کرام عَلَيْهِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکے اسمائے طیِّبہ اور صَحابہ و تابِعِین و بُزُرگانِ دین(رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِم اَجمَعِین) کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، اُمّید ہے کہ ان کی بَرَکت بچّے کے شاملِ حال ہو(بہارِ شریعت ج۳ ص ۶۵۳)٭بچّہ زندہ پیدا ہوا یا مُردہ اُس کی خِلقت(یعنی پیدائش) تمام (یعنی مکمَّل )ہو یا نا تمام(نامکمَّل) بَہَرحال اس کا نام رکھا جائے اور قِیامت کے دن اُس کا حشر ہو گا(یعنی اُٹھایا جائیگا ) (دُرِّمُختارج۳ ص ۱۵۳۔۱۵۴ ،بہارِ شریعت ج۱ ص ۸۴۱)معلوم ہوا جو بچّہ کچّا گر جائے اُس کا بھی نام رکھا جائے۔ جیسا کہمکتبۃُالمدینہ کے مطبوعہ رسالے ’’اولاد کے حقوق‘‘صَفحہ17پرہے:نام رکھے یہاں تک کہ کچے بچے کابھی جوکم دنوں کاگرجائے ورنہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے یہاں شاکی ہوگا۔( یعنی شکایت کریگا)
فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے: کچے بچے کا نام رکھو کہاللہ تعالٰیاس کے ذَرِیعے تمہاری میزان(یعنی عمل کے ترازو) کو بھاری کرے گا$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع