30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یَا رَبَّ السَّمٰواتِ وَمَا اَظَلَّتْ وَرَبَّ الْاَرْضِیْنَ وَمَا اَقَلَّتْ وَرَبَّ الرِّیَاحِ وَمَا اَذَرَّتْ وَرَبَّ الشَّیَاطِیْنِ وَمَا اَضَلَّتْ اَنْتَ الْمَنَّانُ بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ذُوْالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ ، تَاْ خُذُ لِلْمَظْلُوْمِ مِنَ الظَّالِمِ حَقَّہُ ، خُذْلِیْ حَقِّیْ مِنْ فُلاَنٍ فَاِنَّہُ ظَلَمَنِیْ
( ترجمہ : اے اللہ( عزوجل) آسمانوں او ر ان چیزوں کے رب جن پر آسمانوں نے سایہ کیا ، زمینوں اور ان کے رب جن کو زمینوں نے اٹھا رکھا ہے اور ہواؤں کےرب اور ان کے جن کو ہواؤں نے اڑادیا ہے شیطانوں اوران چیزوں کے رب جن کو شیطان نے گمراہ کیا ، تو احسان فرمانے والا ہے ، آسمانوں اور زمین کو ایجاد کرنے والا ہے ، جلال اور بزرگی والے اے اللہ! تو ظالم سے مظلوم کا حق دلاتا ہے ، میرا حق بھی فلاں سے دلادے کیونکہ اس نے مجھ پر ظلم کیا ہے ۔ )
میں نے اس عورت سے کہا : ایک مرتبہ پھر پڑھو۔ اس نے وہ دعا میرے سامنے دہرا دی۔ میں نے اسی وقت وہ دعا مانگی اور کہا : ’’ اے اللہ عزوجل ! اس عورت نے مجھ پر ظلم کیا اور میرے بھائی کو کھالیا ۔ ‘‘ اتنا کہنا تھا کہ آسمان سے ایک آگ آئی اور اس کے کپڑوں کو جلانا شروع کردیا اور اسے دو حصو ں میں چیر دیا ، ایک حصہ ایک طر ف اور دوسرا دوسری طر ف گرگیا ۔ وہ ان جنوں میں سے ایک چڑیل تھی جو لوگوں کا گوشت کھاتے ہیں۔ (کتاب العظمۃ ، ذکر الجن وخلقھم ، الحدیث ۱۱۲۴ ، ص۴۲۶)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
حضرتِ سیِّدنا احمد بن نصر بن مالک خزاعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں کہ ایک عجمی کنیز کو کوئی (جن ) ایسی اذیت دیتا کہ وہ تکلیف کے مارے زمین پر گر جاتی۔ میں نے اس (جن) سے کہا : ’’اے مخلوق خدا ! تم اس کنیز کو نہیں بلکہ درحقیقت ہمیں اذیت دیتے ہو۔ ‘‘ (اس پر ) کنیز نے (عجمی ہونے کے باوجود)فصیح عربی زبان میں گفتگو شروع کی اورکہنے لگی : ’’ اے احمد بن نصر! ٹھیک ہے میں چلا جاتا ہوں اور کبھی لوٹ کرنہیں آؤں گا لیکن حضرت جب آپ رات کو نماز کیلئے اٹھتے ہیں اور وضو کرتے ہیں تو اپنا ہاتھ دیوار پر نہ رکھا کریں کیونکہ آپ کا ہاتھ ہمارے جن بھائیوں پر جاپڑتا ہے جس سے ہمیں تکلیف پہنچتی ہے نیز اپنی بیٹی سے کہئے کہ رات کے وقت اپنے بال نہ کھولا کرے ۔ ‘‘آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایا : ’’تم نے ہمیں بھلائی کی باتیں بتائیں ، اب کوئی ایسا طریقہ بھی بتاؤ جس کے ذریعے ہم تم سے چھٹکارا حاصل کر سکیں ؟ ‘‘اُس جن نے کاغذ قلم لانے کا مطالبہ کیا ۔ جب یہ دونوں چیزیں فراہم کردی گئیں تو اس نے کہا : لکھئے
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمَآءَ وَوَضَعَ الْاَرْضَ وَنَصَبَ الْجِبَالَ وَاَجْرٰی الْبِحَارَ ، وَاَظْلَمَ اللَّیْلَ وَاَضَاءَ النَّہَارَ وَخَلَقَ مَایُرٰی وَمَالَا یُرٰی لَمْ یَحْتَجْ فِیْہِ اِلٰی عَوْنِ اَحَدٍ مِّنْ خَلْقِہٖ وَفَرَ قَ الْاَدْیَانَ فَجَعَلَ اَخَصَّ الْاَدْیَانِ الْاِسْلَامَ ، فَسُبْحَانکَ َما اَعْظَم شَاٰنَکَ ِلمَنْ تَفَکَّرَفِیْ ُقدْرَ ِتِکَ عَلَوْتَ بِعُلُوِّکَ وَدَنَوْتَ بِدَنُوِّی ، وَقَھَرْ تَ خَلْقَکَ بِسُلْطَانِکَ فَالْمَعَادِی لَکَ مِنْھُمْ فِیْ النَّارِ وَالْمُذْلَلِ لَکَ نَفْسَہُ مِنْھُمْ فِیْ الْجَنَّۃِ ، اَمَرْتَ بِالدُّعَاءِ وَضَمَنْتَ الْاِجَابَۃَ اَنْتَ الْقَوِیّ فَلاَ اَحَدٌ اَقْوٰی مِنْکَ ، وَاَنْتَ الرَّحِیْمُ فَلَیْسَ اَحَدٌ اَرْحَمَ مِنْکَ وَرَحِمْتَ یُوْسُفَ فَنَجَّیْتَہُ مِنَ الْجُبِّ وَرَحِمْتَ یَعْقُوْبَ فَرَ دَدْتَ عَلَیْہِ بَصَرَہُ وَرَحِمْتَ اَیُّوْبَ فَکَشَفْتَ عَنْہُ بَلَاءَ ہُ وَرَحِمْتَ یُوْنُسَ فَنَجَّیْتَہُ مِنْ بَطَنِ الْحُوْتِ اَسْئَالُکَ وَاَرْغَبُ اِلَیْکَ فَاِنَّکَ مَسْؤُوْلٌ لَمْ یُسَأْلْ مِثْلُکَ ، یَا قَاصِمَ الْجَبَابِرَۃِ وَ یٰادَیَّانَ الدِّیْنِ الَّذِیْ یُحْیِی الْعَظَامَ وَھِیَ رَمِیْمٌ وَیَا مُجِیْبَ الْمُضْطَرِیْنَ قَضْیَۃٌ لِخَلْقِکَ عَلٰی اَنْ یَّمُرُّ وْ ا عَلٰی اَدَقَّ مِنَ الشَّعْرِ وَاَحَدَّ مِنَ السَّیْفِ عَلٰی وَادِیْ جَھَنَّمَ ، فَاَنْقَذْتَ مَنْ شِئْتَ وَاَغْرَقْتَ مَنْ شِئْتَ مِنْھُمْ فِیْ نَارِ جَھَنَّمَ اَنْتَ ابْتَلَیْتَ فُلَانَ اِبْنَ فُلَانَۃِ بِھَذِہٖ الْاَوْجَاعِ وَالْاَسْقَامِ وَالرِّیَاحِ وَاَنْتَ الْقَادِرُ عَلٰی الذِّھَابِ بِہٖ فَاذْھَبْ بِہٖ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنْ۔
(ترجمہ : تمام تعریفیں اس اللہ عزوجل کیلئے ہیں جس نے آسمان کو بلند کیا اور زمین کو بچھا یا ، پہاڑوں کو کھڑا کیا ، سمندروں کو رواں کیا ، رات کو تاریک اور دن کو روشن کیا ، ہر نظر آنے والی اور نہ نظر آنے والی چیز کو تخلیق کیا ، وہ ان کا موں میں مخلوق میں سے کسی کامحتاج نہیں ، جس نے ادیان میں فرق کیا اور ان میں سب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع