30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجمۂ کنزالایمان : بھلا کیا اسے اور اس کی اولاد کو میرے سوا دوست بناتے ہو اور وہ تمہارے دشمن ہیں۔
علامہ محمود آلوسی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی(اَ لْمُتَوَفّٰی۱۲۷۰ھ)اس آیت کے تحت لکھتے ہیں : ’’ ظاہر یہ ہے کہ ذُرِّیَّت سے مراد اولاد ہے ، پس یہ آیت اس پر دلیل ہے کہ شیطان کی بھی اولاد ہوتی ہے۔ ‘‘ (رُوْحُ الْمَعَانِیْ ، ج۱۵ ، ص۳۷۰)
سورۃ الرحمن میں ارشاد ہوتا ہے :
فِیْهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِۙ-لَمْ یَطْمِثْهُنَّ اِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَ لَا جَآنٌّۚ(۵۶) (پ۲۷ ، الرحمٰن : ۵۶)
ترجمہء کنز الایمان : ان بچھو نوں پر وہ عورتیں ہیں کہ شوہر کے سوا کسی کو آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتیں ان سے پہلے انہیں نہ چھوا کسی آدمی اور نہ جن نے ۔
امام فخرالدین رازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی(اَ لْمُتَوَفّٰی۶۰۶ھ)اس آیت کے تحت لکھتے ہیں : ’’جنات کی بھی اولاد ہوتی ہے ۔ ‘‘
(تفسیر کبیر ، سورۃ الرحمن ج۱۰ ، ۳۷۶)
حضرت سیدنا ابو الشیخ اصبہانی علیہ رحمۃ اللہ الغنی(اَ لْمُتَوَفّٰی۳۹۶ھ) ’’ کتاب العظمۃ ‘‘ میں اللہ تعالیٰ کے فرمان{اَفَتَتَّخِذُوْنَہٗ وَذُرِّیَّتَہٗ }کی تفسیرمیں حضرت ِ سیدنا قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا : ’’ جنات کی بھی اسی طرح اولادپیداہوتی ہے جس طرح انسانوں کی پیدا ہوتی ہیں اورجنات کثیر تعداد میں پیدا ہوتے ہیں۔ ‘‘ (کِتَابُ الْعَظْمَۃِ ، ذکر الجن وخلقھم ، الحدیث۱۱۴۸ ، ص۴۳۱)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللہ تعالیٰ نے جنوں کو بعض ایسے غیرمعمولی اوصاف عطا کئے ہیں جوانسان میں عموماً نہیں پائے جاتے ۔
حضرت سلیمان عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلیہِ الصَّلٰوۃ والسَّلام کی بارگاہ میں ایک جن نے شہر سبا کی ملکہ بلقیس کا تخت (جوکہ بہت دور تھا)بہت کم وقت میں لانے کی پیش کش کی تھی ، چنانچہ قراٰن پاک میں ہے :
قَالَ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَیُّكُمْ یَاْتِیْنِیْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ یَّاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ(۳۸) قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَۚ-وَ اِنِّیْ عَلَیْهِ لَقَوِیٌّ اَمِیْنٌ(۳۹) (پ۱۹ ، النمل ۳۸ ، ۳۹)
ترجمۂ کنزالایمان : سلیمان نے فرمایا اے درباریو تم میں کون ہے کہ وہ اس کا تخت میرے پاس لے آئے قبل اس کے کہ وہ میرے حضور مطیع ہوکر حاضر ہوں۔ ایک بڑا خبیث جن بولا میں وہ تخت حضور میں حاضر کردوں گا قبل اس کے کہ حضور اجلاس برخاست کریں اور میں بیشک اس پر قوت والا امانتدار ہوں۔
نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی تشریف آوری کی خبر
حضورِاکرم ، نورِ مجسمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی بعثت ِ مبارَکہ کی خبرمدینہ منورہ میں سب سے پہلے جنات نے دی۔ چنانچہ حضرتِ سیدنا جابر بن عبداللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُماسے مروی ہے کہ مدینہ منورہ میں حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی تشریف آوری کی خبر سب سے پہلے اس طرح پہنچی کہ مدینہ منورہ میں ایک عورت رہتی تھی جس کے تابع ایک جن تھا۔ وہ ایک پرندے کی شکل میں آیا اوراس عورت کے گھر کی دیوار پر بیٹھ گیا ۔ عورت نے اس سے کہا : ’’آؤ ہم تمہیں کچھ سنائیں اورکچھ تم ہمیں سناؤ۔ ‘‘ اس نے کہا : ’’اب ایسا نہیں ہوسکتا کیوں کہ مکہ میں ایک نبی مبعوث ہوئے ہیں جس نے ہمیں دوستی سے منع کردیا ہے اورہم پر زنا کو بھی حرام کردیاہے۔ ‘‘
(اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَطُ ، الحدیث۷۶۵ ، ج۱ ، ص۲۲۴)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع