30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’گذشتہ شب ایک زبردست جِنّ میری طرف بڑھا تا کہ میری نماز توڑدے لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے میرے قابو میں کردیا ۔ میں نے اس کا گلا گھونٹ دیا اور ارادہ کیا کہ اسے مسجد کے ستونو ں میں سے کسی ستون کے ساتھ باندھ دوں حتّٰی کہ کل صبح ہوتے ہی تم سب اسے دیکھ لو۔ پھر مجھے اپنے بھائی حضرت سلیمان عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلیہِ الصَّلٰوۃ والسَّلامکی یہ دعا یاد آئی : ’’اے اللہ !مجھے معاف فرما دے اور مجھے ایسی سلطنت دے جو میرے بعد کسی اور کو نہ ملے۔ ‘‘پھر اللہ تعالیٰ نے اس جِنّ کو ناکام ونامراد لَوٹا دیا ۔
(صحیح مسلم ، کتاب المساجد وموضع الصلاۃ ، الحدیث۵۴۱ ، ص۲۷۴)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
حضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلام نے شیاطین کو گھڑوں میں بند کردیا :
حضر ت موسیٰ بن نصیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ وہ جہاد کے لئے سمندرکے راستہ سے چلے یہاں تک کہ وہ سمندر کی تاریکی میں پہنچے اورکشتیوں کو ان کے رخ پر چلتا ہوا چھوڑدیا ۔ اچانک انہوں نے کشتیوں میں کھٹکھٹانے کی آوز سنی جب دیکھا تو سبز رنگ کے مہر لگے ہوئے گھڑے نظرآئے ۔ ان میں سے ایک گھڑا اٹھا لیا تو اس کی مہر توڑنے سے ڈرگئے ۔ فرمایا : اس کو نیچے سے سوراخ کرو جب گھڑے کا منہ ایک پیالے کے برابر ہوگیا تو ایک چیخنے والے نے چیخ ماری : ’’ اللہ عزوجل کی قسم! اے اللہ کے نبی ! میں واپس نہیں آؤں گا ۔ ‘‘یہ سن کر حضرت موسیٰ بن نصیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا : ’’ یہ تو ان شیطانوں میں سے ہے جن کو حضرت سلیمان بن داودعَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلیہِ الصَّلٰوۃ والسَّلام نے قید کیا ہے ۔ ‘‘ پھرحکم دیا کہ گھڑے کے اس سوراخ کو بند کردیا جائے۔ پھر اچانک کشتی پر ایک آدمی دکھائی دیا جو گھوررہا تھا اوران کو دیکھ کر کہہ رہا تھا اللہ کی قسم تم لوگ وہی ہوا گر تمہارا مجھ پر احسان نہ ہوتا تو میں تم سب کو غرق کردیتا۔
(لقط المرجان ، فی خوف الجن من الانس ، ص۱۸۵)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
کیا جنات انسان کو تکلیف دے سکتے ہیں ؟
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
جنات انسان کو دو طرح سے تکلیف دیتے ہیں :
(1) اس کے جسم سے باہر رہتے ہوئے ،
(2) اس کے جسم میں داخل ہوکر
{1}جسم سے باہر رہ کر تکلیف دینا
پیدائش کے وقت بچے کی رونے کی وجہ :
حضرتِ سیدناابو ہریر ہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکہتے ہیں کہ میں نے شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ ، صاحبِ معطر پسینہ ، باعثِ نُزولِ سکینہ ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کویہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’اِبنِ آد م کا جو بچہ پیدا ہوتا ہے اس کی پیدائش کے وقت شیطان اس کو مس کرتا (یعنی چھوتا)ہے اور شیطان کے مس کرنے سے وہ بچہ چیخ مار کرروتا ہے ماسوا حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَااور ان کے بیٹے کے ۔ ‘‘
(صَحِیْحُ الْبُخَارِیْ ، کتاب احادیث الانبیاء ، الحدیث ۳۴۳۱ ، ج۲ ، ص۴۵۳)
حضرت سیدناابو موسی رضی اللہ تعالی عنہسے روایت ہے کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب ، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ میری امت طعن اور طاعون سے ہلاک ہوگی ۔ ‘‘عرض کی گئی : ’’یا رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم! طعن کے بارے میں تو ہم نے جان
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع