30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس کی تسخیر جو سفلیات (یعنی جادو)سے ہو وہ تو حرام قطعی بلکہ اکثر صُوَر(یعنی صورتوں ) میں کفر ہے کہ بے ان کے خوشامد اور مدائح ومرضیات کے نہیں ہوتی ، اور جو علویات سے ہو تو اگرچہ بصولت وسطوت(یعنی دبدبہ) ہے مگر اس کا ثمرہ غالباً اپنے کاموں میں شیطان سے ایک نوع استعانت(یعنی مدد طلب کرنے ) سے خالی نہیں ہوتا ۔
مزید لکھتے ہیں : کافر شیطان کی مخالطت ضرور مورث تغیر احوال وحدوث ظلمت(یعنی صحبت شیطان ‘احوال کی تبدیلی اور گمراہی پیدا ہونے کا سبب ہے) ، حضرت سیدنا شیخ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ کم از کم وہ ضرر(یعنی نقصان) کہ صحبت ِجن سے ہوتاہے یہ کہ آدمی متکبر ہوجاتاہے والعیاذباللہ ، تو راہ سلامت اس سے بعد ومجانبت (یعنی دور رہنے)ہی میں ہے۔ والعیا ذ باللہ تعالٰی واللہ تعالٰی اعلم
دستِ غیب اور مصلیٰ کے نیچے سے اشرفی نکلنا :
اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِسنّت ، مجددِ دین وملت الشاہ مولانا احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن جلد21صفحہ218پر لکھتے ہیں :
ہاں (دستِ غیب اور مصلیٰ کے نیچے سے اشرفی نکلنا) صحیح ہے مگر اس عملداری میں کمیاب بلکہ نایاب ہے۔ دستِ غیب کے نہایت درجہ کا حاصل اب صرف فتوح ظاہرہ ووسعت رزق ہونا ہے۔ پھر اگردست غیب اس طرح ہو کہ جن کو تابع کرکے اس کے ذریعہ سے لوگوں کے مال معصوم منگوائے جائیں توا شد سخت حرام کبیرہ ہے اور اگر سفلیات سے ہوتو قریب بکفر اور علویات سے ہو تو خود یہ شخص ماراجائے گا یا کم از کم پاگل ہوجائے گا یا سخت امراض وبلا یا میں گرفتار ہوا اعمال علویہ کو ذریعہ حرام بنانا ہمیشہ ایسے ثمرے لاتاہے۔ اور اس کے حرام قطعی ہونے میں کیا شبہہ ہے۔
قال اﷲ تعالٰی( یعنی اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا )
وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ (پ۲ ، البقرۃ۱۸۸)
ترجمۂ کنزالایمان : اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ
اور اگر کسی دوسرے کی ملک معصوم نہ لائی جاتی ہو بلکہ خزانہ غیب سے اس کو کچھ پہنچایا جائے یا مال مباح غیر معصوم اور وہ جن کہ مسخر کیا جائے مسلمان ہو نہ کہ شیطان ، اور اعمال علویہ سے ہو نہ کہ سفلیہ سے اور اسے منگا کر مصارف محمودہ یا مباحہ میں صرف کرے ، نہ کہ معاذاللہ حرام واسراف میں ، تو یہ عمل جائز ہے ، اور جو اس طریقے سے ملے اس کا صرف کرنا بھی جائز کہ جس طرح کسب حلال کے اور طُرق (طریقے)ہیں اسی طرح ایک طریقہ یہ بھی ہے۔
اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِسنّت ، مجددِ دین وملت الشاہ مولانا احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے پوچھا گیا کہ ایک عورت کے اوپر جِن آتاہے اور وہ علانیہ اُس کو دیکھتیہے اور وہ اُس کے پاس آکر روپے وغیرہ نوٹ دے کر جاتاہے تو آیا اُس نوٹ اور روپے کو صرف کرناچاہئے یا نہیں ؟ اور استعمال میں لانا شرعاً جائز ہے یانہیں ؟
آپ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰننے جواباً ارشاد فرمایا : وہ جِن جو کچھ اُس عورت کو دیتاہے اس کالینا حرام ہے کہ وہ زنا کی رشوت ہے۔ درمختار میں ہے : مایدفعہ متعاشقان رشوۃیعنی آپس میں معاشقہ کرنے والے جو کچھ دیں وہ رشوت میں شمار ہے۔ اگر وہ لینے پرمجبور کرے لے کرفقراء پرتصدّق کردیاجائے اپنے صَرف میں لاناحرام ہے۔ واﷲ تعالیٰ اعلم (فتاویٰ رضویہ تخریج شدہ ، ج۲۳ ، ص۵۶۶)
سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے جنّ کو قابو کرلیا :
حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب ، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع