30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ ، رقم ۳۴۸۵ ، ج۳ص۱۴۸)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(1)حضرت سیدنا معاذ بن عبید اللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں امیر المؤمنین حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص حاضر خدمت ہوا اور کہنے لگا : ’’ یاا میر المومنین! کیا میں آپ کو ایک دلچسپ بات نہ بتاؤں ؟‘‘ حضرتِ سیدنا عثمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی طرف سے اجازت ملنے پر وہ گویا ہوا : ’’ میں ایک وسیع بیابان میں تھا کہ ہوا کے دو بگولے آئے ، جوآپس میں گھتم گھتا ہوئے او رپھر جدا ہوگئے ۔ میں ان کے گتھم گتھا ہونے والی جگہ پر گیا تو وہاں میں نے ایسے سانپ دیکھے کہ اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے ۔ اچانک مجھے ان سے کستوری کی خوشبو محسوس ہوئی تو میں ان سانپوں کو الٹ پلٹ کر نے لگا کہ اتنی پیاری اور پاکیزہ خوشبو کس سانپ سے آرہی ہے؟ بالآخرمعلوم ہوا کہ یہ ایک چھوٹے سے پیلے سانپ سے آرہی ہے جو مر چکا تھا ۔ میں نے گمان کیا کہ یہ ان میں سے بہتر ہے ۔ چنانچہ میں نے اسے پکڑا اور اپنے عمامے میں لپیٹ کر دفن کردیا ۔ دفن سے فارغ ہونے کے بعد ابھی میں تھوڑی دور ہی گیا تھا کہ ایک منادِی نے مجھے آواز دی کہ توہدایت یافتہ ہے ، یہ سانپ درحقیقت جن تھے جو آپس میں جھگڑے تھے اور جس کوتم نے پکڑا اور دفن کیا تھا وہ شہید تھا اور یہ ان سعادت مند جنو ں میں سے تھا جنہوں نے حضور اکرم نور مجسم شاہ بنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے قراٰن سنا تھا ۔
(کتاب العظمۃ ، ذکر الجن وخلقھم ، الحدیث ۱۱۱۲ ، ص۴۲۲)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(2) حضرتِ سیدنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَرِیْم مکہ مکرمہ کی طرف جارہے تھے۔ ایک چٹیل میدان میں انہوں نے ایک مرا ہوا سانپ دیکھا ۔ انہوں نے کہا کہ اس کو دفن کرنا مجھ پر لازم ہے اورجنوں نے کہا ہم تمہارے لئے کافی ہیں (ہم آپ کو اس سے منع کرتے ہیں اللہ تعالیٰ آپ کی اصلاح فرمائے )اللہ تعالیٰ تمہاری بھلائی فرمائے یعنی بہتر بدلہ دے۔ حضرتِ سیدنا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا : ’’نہیں ایسا نہیں ہوسکتا ۔ ‘‘پھر سانپ کو اٹھا یا اور ایک گڑھا کھودا پھر ایک کپڑے میں اسے لپیٹ کر دفن کردیا ۔اچانک ایک عجیب سی آواز دینے والے نے آواز دی جو نظر نہیں آرہا تھا : ’’ اے سُرّق ! تم پر اللہ کی رحمت ہے میں گواہی دیتاہوں کہ میں نے اللہ کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو فرماتے سنا ہے اے سرّق!تم ایک چٹیل میدان میں مروگے اورتم کو میری امت کا بہترین آدمی دفن کریگا۔ ‘‘
یہ سن کر حضرت عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَرِیْم نے اس سے پوچھا : ’’تم کون ہو؟اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے۔ ‘‘ اس نے کہا : ’’میں ایک جن ہوں اوریہ سُرّق ہے اوران جنوں میں سے ہم دونوں کے سوا کوئی باقی نہ رہا جس نے رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے بیعت کی ہے اور میں گواہی دیتاہوں کہ میں نے رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو فرماتے سنا ہے : ’’اے سرّق!تو چٹیل میدان بیابان میں مرے گا اورتجھے میرا بہترین امتی دفن کرے گا۔ ‘‘ (دلائل النبوۃ ، باب ماجاء فی اخبارہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بالشر الذی...الخ ، ج۶ ، ص۴۹۴)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
فیضانِ مدینہ (حیدرآباد باب الاسلام سندھ)کے خادِم کا حلفیہ بیان کچھ اس طرح سے ہے کہ ایک روزمیرے پاس ایک صاحب آئے ۔ انہوں نے سفیدمَدَنی لباس پہن رکھا تھااور سر پر سنّت کے مطابق زُلفیں جلوہ نما تھیں۔ مجھ سے فرمانے لگے کہ ہمارے والِد صاحب کا انتقال
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع