30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بوجھ کر راستہ بھٹک جانا پھر جب تمہیں یہ آواز سنائی دے تو تم ان پردھاوا بول دینا اور دیکھنا کہ یہ لوگ کون ہیں۔ ان لوگوں نے ایسا ہی کیا اورجب انہیں آواز سنائی دی تو حملہ کردیا ۔ اُنہوں نے کہا تم لوگ ہمیں ہرگز نہیں دیکھ سکتے۔ حجاج کے آدمیوں نے پوچھا تم لوگ یہاں کتنے عرصے سے رہتے ہو؟ان لوگوں نے بتایا کہ ہم سالوں کا شمار نہیں کرتے البتہ یہ معلوم ہے کہ کہ ملک چین8مرتبہ ویران ہوا اور8 مرتبہ آبادہوا اورہم اسی وقت سے اس جگہ آباد ہیں۔ (لقط المرجان فی احکام الجان ، ذکر موتہم ، ص۱۲۳)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
جس طرح انسان اپنی مدّت حیات پوری کرنے کے بعد اس دنیاء فانی سے رخصت ہوجاتا ہے اسی طرح جنات کو بھی موت کے گھاٹ اترنا پڑتا ہے ۔ حضرت سیدنا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ ملک الموت کے ذمہ انسانوں کی روحیں قبض کرنے کا کام لگایا گیا ہے۔ وہی ان کی روحیں قبض کرتے ہیں۔ ایک فرشتہ جنوں کی روح قبض کرنے کے لئے ہے ، ایک فرشتہ شیاطین کی روحیں قبض کرنے کے لئے جبکہ ایک فرشتہ پرندوں ، وحشیوں ، درندوں ، مچھلیوں اور چیونٹیوں کو وفات دینے پر مامور ہے ، اس طرح یہ چار فرشتے ہیں۔
(اَلدُّرُّ الْمَنْثُورُ ، ج۶ ، ص۵۴۲)
ایک جن صحابیٔ رسول رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی وفات :
کچھ لوگ حضرتِ سیدنا ابو رجاء عطاردی علیہ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیکی خدمت میں حاضر ہوئے اوران سے پوچھا کہ کیا آپ ان جنوں کے بارے میں جانتے ہیں جنہوں نے اللہ عزوجل کے مَحبوب ، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے دستِ مبارک پر بیعت کی تھی۔ وہ مسکرائے اور فرمایا : میں تمہیں وہ بات بتاتاہوں جو میں نے خوددیکھی اورسنی ہے۔ ایک سفر کے دوران ہم نے پانی کے ذخیرے کے پاس پڑاؤ کیا اوراپنے خیمے گاڑلئے ۔ میں اپنے خیمہ میں قیلولہ (یعنی دوپہر کے آرام)کے لیے گیا تو میں نے دیکھا کہ ایک سانپ خیمہ میں داخل ہوا اور لوٹ پوٹ ہونے لگا۔ میں نے اس پر پانی چھڑکاتو وہ پُر سکون ہوگیا۔ جب میں نماز عصر سے فارغ ہواتو وہ مرچکا تھا۔ میں نے اپنے تھیلے سے ایک سفید رنگ کا کپڑا نکالااوراس سانپ کو اس میں لپیٹا اورایک گڑھاکھودکر اس میں دفن کردیا۔ پھر رات بھر ہم نے اپنا سفر جاری رکھا ، جب صبح ہوئی تو ہم پانی کے پاس اترے اورپھر سے اپنا خیمہ نصب کیا اورمیں قیلولہ کے لیے (خیمہ میں )چلا گیا تو میں نے دو مرتبہ السلام علیکم کی آواز سنی ۔ وہ لوگ ایک یادس یاسو یا ہزار نہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ تعداد میں تھے ۔ میں نے ان سے پوچھا : ’’تم لوگ کون ہو؟‘‘کہنے لگے : ’’ہم جنات ہیں اللہ تعالیٰ تمہیں برکت عطافرمائے تم نے ہمارا ایسا کام کردیاہے جس کا ہم تمہیں بدلہ نہیں دے سکتے۔ ‘‘ میں نے پوچھا : ’’میں نے تمہارا کون سا کام کیا ہے ؟‘‘انہوں نے کہا : ’’ جو سانپ تمہارے پاس مرگیا وہ ان جنوں میں سے آخری یاد گار جن تھا جنہوں نے حضور نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے بیعت کی تھی۔ ‘‘
(کتاب الھواتف لابن ابی الدنیا ، رقم ۳۵ ، ج ۲ ، ص۴۵۱)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
صحابی جن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا قتل
حضرت حبیب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے اپنے گھرمیں سانپ دیکھا ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے اسے مارنے کا حکم دیا چنانچہ اسے قتل کردیاگیا۔ رات کو وہ آپ کو خواب میں دکھائی دیا اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسےعرض کی گئی :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع