30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
کشمیر (پا کستا ن )کے شہر میر پو ر کے مقیم اسلا می بھائی کا بیان ہے : غا لباً 2000ء کی با ت ہے کہ ہم چند اسلا می بھا ئی امیر اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کی بار گا ہ میں حا ضر ی کی نیت سے با ب المد ینہ (کرا چی )کی طرف روانہ ہوئے ۔ جب ہم عالَمی مَدَنی مرکزفیضا ن مد ینہ باب المدینہ کراچی پہنچے تو وہا ں ہمیں کو ئی ایسا اسلا می بھائی نہ مل سکا جو ہمیں امیر اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے گھر پر پہنچاسکے۔ ہم پریشانی کے عا لم میں فیضا ن مدینہ سے با ہر نکل آئے۔ سا منے چند کتے بیٹھے ہو ئے تھے ۔ ایک اسلامی بھا ئی کے دل میں نہ جانے کیا آئی کہ ایک کتے کے سامنے جاکربڑی سنجیدگی سے کہنے لگے : ’’ہم امیر اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے گھر پر جا نا چا ہتے ہیں مگر ہمیں راستہ معلوم نہیں کیا تم را ستہ بتا سکتے ہو ۔ ‘‘
یہ دیکھ کر ہماری حیرت کی انتہانہ رہی کہ وہ کتا اٹھ کھڑا ہوا اور دُم ہلا تے ہوئے ایک سمت کو چلنے لگا ۔ ہم بے سا ختہ اسکے پیچھے ہو لئے ۔ وہ کتا مختلف گلیو ں سے ہو تا ہو ا ہمیں امیر اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہکے درِ دولت تک لے گیااورہمیں وہاں چھوڑ کر وا پس ہولیا۔ ہم نے امیر اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کی با ر گا ہ میں حا ضر ی دی اور را ت کم وبیش 00 : 11 بجے وا پس فیضا ن مدینہ پہنچ گئے ۔ ہمیں چا ئے کی طلب محسوس ہو رہی تھی مگر کسی ہو ٹل کے با رے میں معلوما ت نہیں تھیں ۔ اُنہی اسلا می بھا ئی نے پھر کہا کہ جو ہمیں امیر اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے گھر پہنچا کر آیاتھا چلو اُسی سے کہہ کر دیکھتے ہیں۔ یہ کہتے ہوئے وہ اسلا می بھائی اٹھے اور اس کتے کے قر یب پہنچ کر جب ہوٹل کے بارے میں دریافت کیا تو حیرت انگیز طو ر پر وہ کتا( جو غا لباً کو ئی جن تھا) اُٹھا اورایک سمت چل دیا۔ ہم اسکے پیچھے پیچھے ایک گلی میں پہنچے تو سا منے چا ئے کا ہو ٹل نظر آگیا ۔ واللہ اعلم بحقیقۃ الحال
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
حضرت یحییٰ بن ثابت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں کہ میں حضرت حفص طائفی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے ساتھ منیٰ میں تھا کہ (ہم نے دیکھا)ایک شیخ جو سفید سر والا اورسفید داڑھی والا تھا (یعنی جس کے سر اورداڑھی کے بال سفید تھے)لوگوں کو فتویٰ دے رہا ہے۔ حضرت حفص رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے مجھ سے فرمایا : ’’اے ابو ایوب!کیا تم اس بوڑھے کو دیکھ رہے ہو جو لوگوں کوفتوے دے رہا ہے ، یہ عفریت جن ہے۔ ‘‘ یہ فرمانے کے بعد حضرت حفص رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِاس کے قریب گئے اورمیں بھی ان کے ساتھ تھا۔ جب حضرت حفص رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے ا س کی طرف غور سے دیکھنا شروع کیا تو اس نے اپنے جوتے اٹھائے اوربھاگنا شروع کر دیا ، لوگ بھی اس کے پیچھے بھاگے ۔ حضرت حفص رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکہنے لگے : ’’اے لوگو!یہ عفریت جن ہے۔ ‘‘ (آکَامُ الْمَرْجَانِ فِیْ اَحْکَامِ الْجَانِ ، الباب الثامن والثلاثون فی تحمل الجن العلم ، ص۸۰)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
شیطان سراقہ بن جعثم کی صورت میں
جب قریش نے بدر میں جانے پر اتفاق کرلیا تو انہیں یاد آیا کہ ان کے اور قبیلہ بنی بکر کے درمیان عداوت ہے ممکن تھا کہ وہ یہ خیال کرکے واپسی کا قصد کرتے ، یہ شیطان کو منظور نہ تھا اس لئے اس نے یہ فریب کیا کہ وہ سراقہ بن مالک بن جعثم بنی کنانہ کے سردار کی صورت میں نمودار ہوا اور ایک لشکر اور ایک جھنڈا ساتھ لے کرمشرکین سے آملا اور ان سے کہنے لگا کہ میں تمہارا ذمہ دار ہوں ، آج تم پر کوئی غالب آنے والا نہیں ۔ جب مسلمانوں اور کافِروں کے دونوں لشکر صف آرا ہوئے اور رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ایک مشتِ خاک
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع