30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جِنَّات اصلی شکل میں نظر کیوں نہیں آتے؟
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
جنات بھی ہمارے ساتھ اس زمین میں رہتے ہیں لیکن وہ ہمیں دیکھتے ہیں اور ہم انہیں نہیں دیکھ سکتے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :
اِنَّهٗ یَرٰىكُمْ هُوَ وَ قَبِیْلُهٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَهُمْؕ-اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ(۲۷) (پ۸ ، الاعراف : ۲۷)
ترجمہء کنز الایمان : بے شک وہ اور اس کا کنبہ تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں کہ تم انہیں نہیں دیکھتے بے شک ہم نے شیطانوں کو ان کا دوست کیا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔
صدر الافاضل حضرت مولانا سیدمحمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی (اَ لْمُتَوَفّٰی۱۳۶۷ھ) اس آیت کے تحت تفسیر خزائن العرفان میں لکھتے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ نے جنوں کو ایسا اِدراک دیا ہے کہ وہ انسانوں کو دیکھتے ہیں اور انسانوں کو ایسا اِدراک نہیں ملا کہ وہ جنوں کو دیکھ سکیں۔‘‘
حضرتِ سیدنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے : جب اللہ تعالیٰ نے سموم(یعنی جہنم کی آگ کے سترویں حصے )سے ابوالجنات کو پیدا فرمایا اور اس سے پوچھا : ’’اے ابوالجن ! تمہاری کیا خواہش ہے ؟ اس نے کہا میری تمنا یہ ہے کہ ہم سب کو دیکھیں اور ہمیں کو ئی نہ دیکھے اورہم زمین میں چھپ جائیں اور ہمارا ادھیڑ عمر بھی نہ مرے یہاں تک کہ اس کی جوانی واپس آجائے (یعنی ہمارا ادھیڑ عمر بھی جوان ہو کر مرے)۔ ‘‘ تو اللہ تعالیٰ نے اس کی یہ تمنا پوری فرمادی اسی لئے جنات ہم سب کو دیکھتے ہیں لیکن ہم لوگ انہیں نہیں دیکھ پاتے اور جب وہ مرتے ہیں تو زمین میں غائب ہو جاتے ہیں اور ان کا بوڑھا بھی جوان ہو کر مرتا ہے۔ ‘‘ (اٰکام الْمَرْجَانِ فِیْ اَحْکَامِ الْجَانِ ، الباب الثانی فی ابتداء خلق الجن ، ص ۱۲)
علامہ بدر الدین شبلی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی (اَ لْمُتَوَفّٰی۷۶۹ھ)لکھتے ہیں : حضرت ربیع بن سلیمان علیہ رحمۃ اللہ الحنان فرماتے ہیں کہ میں نے امام شافعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو عادل شخص یہ گمان کرے کہ اس نے جن کو دیکھا ہے تو میں اس کی گواہی باطل قرار دیتا ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا
{اِنَّهٗ یَرٰىكُمْ هُوَ وَ قَبِیْلُهٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَهُمْؕ-اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ(۲۷) (پ۸ ، الاعراف : ۲۷)}
مگریہ کہ وہ نبی ہو ۔ (آکام المرجان فی احکام الجانّ ، الباب السادس فی تطور الجن و تشکلہم ، ص۲۳)
یاد رہے کہ عام انسان جنات کو اصل حالت میں نہیں دیکھ پاتا لیکن اگر یہ کسی اور شکل میں ہوں تو انسان کا ان کو دیکھنا کثیر روایات سے ثابت ہے۔
علامہ بدر الدین شبلی حنفیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی (اَ لْمُتَوَفّٰی۷۶۹ھ)اپنی کتاب’’اٰکَامُ الْمَرْجَانِ فِیْ اَحْکَامِ الْجَانِ‘‘میں لکھتے ہیں : ’’ بلاشبہ جنات انسانوں اور جانوروں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں چنانچہ وہ سانپوں ، بچھوؤں ، اونٹوں ، بیلوں ، گھوڑوں ، بکریوں ، خچروں ، گدھوں اور پرندوں کی شکلوں میں بدلتے رہتے ہیں۔ (آکام المرجان فی احکام الجان ، الباب السادس فی تطور الجن و تشکلہم ، ص۲۱)
حضرت ِسیدنا ابو ثعلبہ خشنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ ، صاحبِ معطر پسینہ ، باعثِ نُزولِ سکینہ ،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع