30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللّٰہ تعالیٰ نے آپ(صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کو معراج عطا فرمائی یعنی عرش پر بلایا اپنا دیدار آنکھوں سے دکھایا۔([1]) اپنا کلام سنایا جنت دوزخ عرش کرسی وغیرہ تمام چیزوں کی سیر کرائی، یہ سب کچھ رات کے تھوڑے سے وقت میں ہوا، قیامت کے دن آپ(صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) ہی سب سے پہلے شفاعت کریں گے یعنی اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ)کے یہاں لوگوں کی سفارش کریں گے گناہ معاف کرائیں گے درَجے بلند کرائیں گے اس کے علاوہ اور بہت سے خصائص ہیں جن کے ذکر کی اِس مختصر میں گنجائش نہیں ۔
عقیدہ ۲۱: نبی کی کسی چیز کو ہلکا جاننے کا حکم
حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے کسی قول و فعل و عمل و حالت کو جو حقارت کی نظر سے دیکھے کافر ہے۔([2]) (قاضی خان و شفاء قاضی عیاض وغیرہ )
وہ عجیب وغریب کام جو عادتاً ناممکن ہو جسے نبی اپنی نبوت کے ثبوت میں پیش کرے اور اس سے منکرین عاجز ہوجائیں وہ معجزہ ہے جیسے مردہ کو زندہ کرنا، اُنگلی کے اشارے سے چاند کے دو ٹکڑے کردینا ایسی عجیب وغریب بات اگر ولی سے ظاہر ہو تو اُسے کرامت کہتے ہیں اور نڈر ، بدکار یا کافر سے ہو تو اس کو اِستدراج کہتے ہیں ۔معجزہ کو دیکھ کر نبی کی سچائی کا یقین ہوتا ہے کہ جس کے ہاتھ پر قدرت کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوں جس کے مقابل سب لوگ عاجز و حیران ہوں ضرور وہ خدا کا بھیجا ہوا ہے کوئی جھوٹا نبوت کا دعویٰ کرکے معجزہ ہر گز نہیں دکھا سکتا، اللّٰہ تعالیٰ جھوٹے کو معجزہ ہر گز نہیں عطا فرماتا ور نہ سچے اور جھوٹے میں فرق نہ رہے۔
مسئلہ ضروریہ: نبی کی لغزش کا حکم
انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلَام سے جو لغزشیں ([3])ہوئیں ان کا ذکر تلاوتِ قرآن و روایت حدیث کے سوا حرام اور سخت حرام ہے اوروں کو ان سرکاروں میں لب کشائی کی کیا مجال اللّٰہ تعالیٰ ان کا مالک ہے جس محل پر جس طرح چاہے تعبیر([4]) فرمائے وہ اس کے پیارے بندے ہیں اپنے رب کے لیے جس قدر چاہیں تواضع کریں ، دوسرا اِن کلمات کو سند نہیں بناسکتا، یعنی نبی کی بھول چوک کے موقعہ پر اللّٰہ تعالیٰ نے جو کلمہ کسی نبی کو کہا یا نبی نے اِنکساری عاجزی کے طور پر اپنے کو کہا کسی اُمتی کو نبی کے حق میں ایسے کلمات کہنا ناجائز و حرام ہے۔ ([5])
اللّٰہ تعالٰی کی کتابیں
اللّٰہتعالیٰ نے اپنے پیغمبروں پر اپنا کلا م پاک اُتارا، حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَامپر توریت اُتری ، حضرت داؤدعَلَیْہِ السَّلَام پر زبور، حضرت عیسیٰعَلَیْہِ السَّلَامپر انجیل اورنبیوں پر دوسری کتابیں اُتریں ان نبیوں کی اُمتوں نے ان کتابوں کو گھٹا بڑھا دیا اوراللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ)کے اَحکام کو بدل ڈالا، تب اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ)نے ہمارے آقا مُحَمّدٌ رَّسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم پر قرآنِ پاک اُتارا، قرآن ایسی بے مثل کتاب ہے کہ ویسی کوئی دوسرا نہیں بناسکتا چاہے تمام جہان مل کر کوشش کریں ایسی کتاب نہیں بناسکتے۔ قرآن میں سارے علم ہیں اور ہر چیز کا روشن بیان ہے ساڑھے تیرہ سو برس سے آج تک ویسا ہے جیسا اُترا اور ہمیشہ ویسا ہی رہے گا سارا زمانہ چاہے تو بھی اِس میں ایک حرف کا فرق نہیں آسکتا جو شخص کہے کہ قرآنِ پاک میں کسی نے کچھ گھٹایا بڑھادیا، اصلی قرآن امام غائب کے پاس ہے، وہ کافر ہے۔ یہی اصل قرآن ہے اِسی قرآن پر ایمان لانا ہر شخص کے لیے لازم ہے اب نہ کوئی نبی آئے گا، نہ کوئی اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ) کی کتاب ۔جو اس کے خلاف مانے وہ مومن نہیں ۔
فرشتے نوری جسم کی مخلوق ہیں ، جن کو اللّٰہ تعالیٰ نے یہ طاقت دی ہے کہ جو شکل چاہیں بن جائیں انسان کی ہو یا کوئی اور، فرشتے اللّٰہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف کچھ نہیں کرتے نہ جان بوجھ کر نہ بھول کر اس لیے کہ معصوم ہیں ہر قسم کے گناہِ صغیرہ و کبیرہ سے پاک ہیں ، اللّٰہ تعالیٰ نے بہت سے کام فرشتوں کے سپرد کیے ہیں ، کوئی فرشتہ جان نکالنے پر مقرر ہے کوئی پانی برسانے پر کوئی ماں کے پیٹ میں بچہ کی صورت بنانے پر کوئی نامہ اعمال لکھنے پر کوئی کسی کام پر کوئی کسی کام پر، فرشتے نہ مرد ہیں نہ عورت اُن کو قدیم ماننا یا خالق جاننا کفر ہے کسی فرشتہ کی ذرا
[1] شرح عقائد میں لکھا ہے کہ حضور عَلَیْہِ السَّلام کو معراج جسمانی جاگتے میں ہوئی صرف روحانی معراج کا قائل ہونا بدعت و گمراہی ہے مسجد حرام سے بیت المقدس تک تشریف لے جانا تو قطعی ہے قرآن سے ثابت ہے لہٰذا مطلقاً معراج کا انکار کفر ہے اور زمین سے آسمان تک اور اس کے آگے احادیث مشہورہ سے ثابت ہے اس کا انکار بدعت وگمراہی ہے۔ (شرح عقائد النسفیۃ،والمعراج لرسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم فی الیقظۃ،ص۳۱۰) حضرت شیخ محدث دہلوی (رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ) نے فرمایا: کہ حق آنست کہ وی صلی اللّٰہ علیہ وسلم پروردگار خود را بچشم سردید جمھور صحابہ بر ایں اند یعنی معراج میں حضورنے اللّٰہ تعالیٰ کو انہیں آنکھوں سے دیکھا جمہور صحابہ کا یہی مذہب ہے۔ ( تکمیل الایمان،پنچ تن فاضل ترین رسل اند،ص۱۲۹) مرقاۃ شرح مشکوۃ میں ہے : والحق الذی علیہ اکثر الناس و معظم السلف وعامۃ المتاخرین من الفقہاء والمحدثین والمتکلمین انہ اسری بجسدہ الشریف۔۱۲منہ (مرقاۃ المفاتیح،کتاب الفضائل، باب المعراج ،۱۰/ ۱۵۱) ایکم مثلیتم میں میری مثل کون؟ (بخاری،کتاب الصوم، باب التنکیل لمن اکثر الوصال ،۱/ ۶۴۶، حدیث:۱۹۶۵) عینان تنامان ولا ینام قلبی آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔ (بخاری،کتاب التہجد،باب قیام النبی باللیل فی رمضان وغیرہ،۱/ ۳۸۹، حدیث: ۱۱۴۷) کان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم یذکر اللّٰہ فی کل احیان حضور ہر وقت یا د الٰہی میں رہتے۔ (بخاری وغیرہ) (۱۲منہ) (بخاری،کتاب الاذان،باب ہل یتتبع المؤذن فاہ...الخ،۱/ ۲۲۹)
[2] قال الا مام الفقیہ قاضی خان رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ:لوعاب الرجل النبی فی شیء کان کافرا۔۱۲ (منہ) (فتاوی قاضی خان،کتاب السیر، باب ما یکون اسلاما من الکافر...الخ ،۲/ ۴۶۴) و قال القاضی عیاض رحمہ اللّٰہ فی ’’الشفاء‘‘: ان جمیع من سب النبیصلی اللّٰہ علیہ وسلم او عابہ او الحق بہ نقصاً فی نفسہ او نسبہ او دینہ او خصلۃ من خصالہ او عرض بہ او شبھہ بشیء علی طریق السب لہ او الازراء علیہ او التصغیر لشانہ او الغض منہ والعیب لہ فھو ساب لہ والحکم فیہ حکم الساب۔ ( جلد ۲) یعنی جو شخص نبی کا کسی بات میں کسی طرح عیب نکالے وہ کافر ہے۔ (۱۲منہ) (الشفا، الباب الاول فی بیان ما ہو فی حقہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم...الخ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع