30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ۲۱: جو چیزیں نماز میں حرام ہیں جیسے کھانا پینا سلام و جوابِ سلام وغیرہ یہ سب خطبہ کی حالت میں بھی حرام ہیں یہاں تک کہ اَمْرٌ بِالْمَعْرُوْف([1] ) ہاں خطیب اَمْرٌ بِالْمَعْرُوْف کرسکتا ہے، جب خطبہ پڑھے تو تمام حاضرین پر سننا اور چپ رہنا فرض ہے جو لوگ اِمام سے دُور ہوں کہ خطبہ کی آواز اُن تک نہیں پہنچتی اُنہیں بھی چپ رہنا واجب ہے اگر کسی کو بُری بات کرتے دیکھیں تو ہاتھ یا سر کے اشارے سے منع کرسکتے ہیں ، زبان سے ناجائز ہے۔ (درمختار وبہار)
مسئلہ۲۲: خطبہ سننے کی حالت میں دیکھا کہ اندھا کنوئیں میں گرا چاہتا ہے یا کسی کو بچھو وغیرہ کاٹنا چاہتا ہے تو زبان سے کہہ سکتے ہیں اگر اِشارہ یا دبانے سے بتاسکیں تو اس صورت میں بھی زبان سے کہنے کی اجازت نہیں۔ (درمختار و ردالمحتار وبہار)
مسئلہ۲۳: خطیب نے مسلمانوں کے لیے دعا کی تو سامعین کو ہاتھ اُٹھانا یا آمین کہنا منع ہے۔ا گر ایسا کریں گے تو گنہگار ہوں گے، خطبہ میں دُرود شریف پڑھتے وقت خطیب کا دائیں بائیں منہ کرنا بدعت ہے۔
مسئلہ۲۴: حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا نام پاک خطیب نے لیا تو حاضرین دل میں دُرود شریف پڑھیں زبان سے پڑھنے کی اِس وقت اجازت نہیں ۔ یوہیں صحابہ کرام کے ذکر پر اس وقت رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُم زبان سے کہنے کی اجازت نہیں۔(درمختار و بہار وغیرہ)
جمعہ کے علاوہ دیگر خطبوں کا حکم
خطبہ ٔجمعہ کے علاوہ اور خطبوں کا سننا بھی واجب ہے۔ جیسے عیدین و نکاح وغیرہ کا خطبہ (درمختارو بہار)
مسئلہ۲۵: پہلی اَذان کے ہوتے ہی سعی واجب ہے اور بیع وغیرہ ان چیزوں کا جو سعی کے منافی ہوں چھوڑ دینا واجب ہے۔ یہاں تک کہ راستہ چلتے ہوئے اگر خرید و فروخت کی تو یہ بھی ناجائز ہے اور مسجد میں خرید و فروخت تو سخت گناہ ہے۔ کھانا کھارہا تھا کہ اذانِ جمعہ کی آواز آئی اگر یہ ڈر ہو کہ کھائے گا تو جمعہ جاتا رہے گا تو کھانا چھوڑ دے اور جمعہ کو جائے۔ جمعہ کے لیے اطمینان و وقار کے ساتھ جائے۔ (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ۲۶: خطیب جب منبر پر بیٹھے تو اُس کے سامنے دوبارہ اَذان دی جائے سامنے سے یہ مراد نہیں کہ مسجد کے اندر منبر کے پاس ہو، اس لیے کہ مسجد کے اندر اَذان کہنے کو فقہائے کرام مکروہ فرماتے ہیں ۔ (خلاصہ وعالمگیری وقاضی خان)
مسئلہ۲۷: اذان ثانی بھی بلند آواز سے کہیں کہ اس سے بھی اعلان مقصود ہے اور جس نے پہلی نہ سنی اُسے سن کر حاضر ہو۔ ( بحر وغیرہ)
مسئلہ۲۸: خطبہ ختم ہوجائے تو فوراً اِقامت کہی جائے خطبہ و اِقامت کے درمیان دنیا کی بات کرنا مکروہ ہے۔ (درمختار و بہار)
مسئلہ۲۹: جس نے خطبہ پڑھا وہی نماز پڑھائے۔ دوسرا نہ پڑھائے اور اگر دوسرے نے پڑھا دی جب بھی ہوجائے گی جب کہ وہ ماذون ([2] ) ہو۔
مسئلہ۳۰: نماز جمعہ میں بہتر یہ ہے کہ پہلی رکعت میں سورۃ جمعہ اور دوسری میں سورۃ منافقون یا پہلی میں سَبِّحِ اسْمَ اور دوسری میں ھَلْ اَتٰـکَ پڑھے مگر ہمیشہ اسی کو نہ پڑھے کبھی کبھی اور سورتیں بھی پڑھے۔
مسئلہ۳۱: جمعہ کے دن اگر سفر کیا اور زوال سے پہلے آبادیٔ شہر سے باہر ہوگیا تو حر َج نہیں ورنہ ممنوع ہے۔ (درمختار و بہار وغیرہ)
فائدہ :
جمعہ کے دن روحیں جمع ہوتی ہیں لہٰذا زیارتِ قبور کرنی چاہیے۔ (درمختار و بہار)
عیدین ( یعنی عید و بقر عید)کی نماز واجب ہے مگر سب پر نہیں بلکہ اُنہیں پر جن پر جمعہ واجب ہے اور اس کی ادا کی وہی شرطیں ہیں جو جمعہ کے لیے ہیں صرف اتنا فرق ہے کہ جمعہ میں خطبہ شرط ہے اور عیدین میں سنت ہے۔ اگر جمعہ میں خطبہ نہ پڑھا تو جمعہ نہ ہو ا اور عیدین میں نہ پڑھاتو نماز ہوگئی مگر بُرا کیا۔ دوسرا فرق یہ ہے کہ جمعہ کا خطبہ نماز سے پہلے ہے اور عیدین کا نماز کے بعد اگر عیدین کا خطبہ نماز سے پہلے پڑھ لیا تو بُرا کیا مگر نماز ہوگئی، لوٹائی نہیں جائے گی اور خطبہ کا بھی اِعادہ نہیں اور عیدین میں نہ اَذان ہے نہ اِقامت۔ صرف دو باراِتنا کہنے کی اجازت ہے: اَلصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌ ۔([3] ) ( قاضی، عالمگیری، درمختار وغیرہ)
مسئلہ۱: بلاوجہ عید کی نماز چھوڑنا گمراہی و بدعت ہے۔ (جوہرہ نیرہ و بہار)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع