دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qanoon-e-Shariat | قانون شریعت

book_icon
قانون شریعت

مسئلہ۷:  سنّت یہ ہے کہ دو خطبے پڑھے جائیں اور بڑے بڑے نہ ہوں ۔ اگر دونوں مل کر طِوالِ مفصَّل سے بڑھ جائیں تو مکروہ ہے خصوصاً جاڑے میں ۔ (غنیۃ ودرمختار و بہار)

خطبہ میں کیا چیزیں سنت ہیں ؟ 

مسئلہ۸خطبہ میں یہ چیزیں سنت ہیں : خطیب کا پاک ہونا،  کھڑا ہونا،  خطبہ سے پہلے خطیب کا بیٹھنا،  خطیب کا منبر پر ہونا اور سامعین کی طرف منہ اور قبلہ کی طرف پیٹھ کیے رہنا، حاضرین کا امام کی طرف متوجہ رہنا،  خطبہ سے پہلے اَعُوْذُ بِاللّٰہ آہستہ پڑھنا،  اتنی بلند آواز سے خطبہ پڑھنا کہ لوگ سنیں ،  اَلْحَمْد سے شروع کرنا،  اللّٰہ       عَزَّوَجَلَّ کی ثناء کرنا،   اللّٰہتعالیٰ کی وحدانیت اور رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی رسالت کی شہادت دینا،  حضور پر دُرود بھیجنا ، کم سے کم ایک آیت کی تلاوت کرنا،  پہلے خطبہ میں وعظ و نصیحت کا ہونا،  دوسرے میں حمد و ثناء و شہادت و دُرود کا اِعادہ کرنا اور دوسرے مسلمانوں کے لیے دعا کرنا،  دونوں خطبے ہلکے ہونا،  دونوں خطبوں کے درمیان بقدر تین آیت پڑھنے کے بیٹھنا،  مستحب یہ ہے کہ دوسرے خطبہ میں آواز بہ نسبت پہلے کے پست ہواور خلفائے راشدین و عمین مکر مین حضرت حمزہ و عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ   کا ذکر ہو۔ بہتر یہ ہے کہ دوسرا خطبہ اِس سے شروع کریں ۔

اَلْحَمْدُلِلّٰہِ نَحْمَدُہٗ وَنَسْتَعِیْنُہٗ وَنَسْتَغْفِرُہٗ وَنُؤْمِنُ بِہٖ وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْہِ وَنَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا وَمِنْ سَیِّاٰتِ اَعْمَالِنَا مَنْ یَّھْدِہِ اللّٰہُ فَلَامُضِلَّ لَہٗ وَمَنْ یُّضْلِلْہٗ فَلَا ھَادِیَ لَہٗ وَنَشْھَدُ اَنْ لَّا ٓ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَنَشْھَدُ اَنَّ سَیِّدَنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ۔([1] )  

            مرد اگر امام کے سامنے ہو تو امام کی طرف منہ کرے اور داہنے بائیں ہو تو اما م کی طرف مڑ جائے اور امام سے قریب ہونا افضل ہے مگر یہ جائز نہیں کہ امام سے قریب ہونے کے لیے

لوگوں کی گردنیں پھلانگے البتہ اگر امام ابھی خطبہ کو نہیں گیا ہے اور آگے جگہ باقی ہے تو آگے جاسکتا ہے اور اگر خطبہ شروع ہونے کے بعد مسجد میں آیا تو مسجد کے کنارے ہی بیٹھ جائے،  خطبہ سننے کی حالت میں دوزانو بیٹھے جیسے نماز میں بیٹھتے ہیں ۔   (عالمگیری،  درمختار،  غنیۃ وبہار وغیرہ)

مسئلہ۹بادشاہ ِاسلام کی ایسی تعریف جو اس میں نہ ہو حرام ہے مثلاً  مَالِکُ رِقَابِ الْاُمَم ([2] ) کہ یہ محض جھوٹ اور حرام ہے۔  (درمختار)

مسئلہ۱۰خطبہ میں آیت نہ پڑھنا یا دونوں خطبوں کے درمیان جلسہ نہ کرنا یا خطبہ پڑھنے میں بات کرنا مکروہ ہے البتہ اگر خطیب نے نیک بات کا حکم دیا یا بُری بات سے منع کیا تو اس میں حر َج نہیں ۔ (عالمگیری و بہار)

مسئلہ۱۱عربی کے سوا کسی دوسری زبان میں خطبہ پڑھنا یا عربی کے ساتھ دوسری زبان خطبہ میں ملانا خلافِ سنت متوارَثہ ہے۔ یوہیں خطبہ میں اَشعا ر پڑھنا بھی نہ چاہیے اگرچہ عربی زبان ہی کے ہوں ہاں دو ایک شعر پند و نصائح([3] )  کے اگر کبھی پڑھ لے تو حر َج نہیں ۔ (بہارِ شریعت)

پانچویں شرط:  جماعت

            یعنی امام کے علاوہ کم سے کم تین مرد ہونے چاہئیں ورنہ جمعہ نہ ہوگا۔       (ہدایہ،  شرح وقایہ ،  عالمگیری ،  قاضی خان)

 مسئلہ۱۲اگر تین غلام یا مسافر یا بیمار یا گونگے یا اَن پڑھ مقتدی ہوں تو جمعہ ہوجائے گا اور اگر صرف عورتیں یا بچے ہوں تو نہیں ۔ (عالمگیری،  ردالمحتار)

چھٹی شرط:  اذنِ عام

            اس کا یہ مطلب ہے کہ مسجد کا دروازہ کھول دیا جائے تاکہ جس مسلمان کا جی چاہے آئے کسی کی روک ٹوک نہ ہو،  اگر جامع مسجد میں جب لوگ جمع ہوگئے دروازہ بند کرکے جمعہ پڑھا جمعہ نہ ہوا۔ (عالمگیری)

مسئلہ۱۳عورتوں کو اگر مسجد جامع سے روکا جائے تو اِذنِ عام کے خلاف نہ ہوگا کہ اُن کے آنے میں خوف ِفتنہ ہے۔ (ردالمحتار)

جمعہ واجب ہونے کے لیے شرطیں

            جمعہ واجب ہونے کے لیے گیارہ شرطیں ہیں ،  اُن میں سے اگر ایک بھی نہ پائی گئی تو فرض نہیں پھر بھی اگر پڑھے گا تو ہو جائے گا بلکہ مرد عاقل بالغ کے لیے جمعہ پڑھنا افضل ہے اور عورت کے لیے ظہر افضل۔

پہلی شرط:  شہر میں مقیم ہونا۔

دوسری شرط:  صحت ۔ یعنی مریض پر جمعہ فرض نہیں مریض سے مراد وہ ہے کہ مسجد جمعہ تک نہ جاسکتا ہو یا چلا تو جائے گا مگر مرض بڑھ جائے گایا دیر میں اچھا ہوگا۔ (غنیۃ) شیخ



[1]     حمد ہے اللّٰہ  (عَزَّوَجَلَّ) کے لیے، ہم اُس کی حمد کرتے ہیں اور اس سے مدد طلب کرتے ہیں اور مغفرت چاہتے ہیں اور اس پر ایمان لاتے ہیں اور اس پر توکل کرتے ہیں اور اللّٰہ  (عَزَّوَجَلَّ) کی پناہ مانگتے ہیں اپنے نفسوں کی برائی سے اور اپنے اعمال کی بدی سے جس کو اللّٰہ  (عَزَّوَجَلَّ)  ہدایت کرے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جس کو گمراہ کرے اُسے ہدایت کرنے والا کوئی نہیں، ہم گواہی دیتے ہیں کہ اللّٰہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں،وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ ہمارے سردار اور ہمارے مددگار محمد اس کے خاص بندے اور رسول ہیں۔

[2]     لوگوں کی گردنوں کا مالک

[3]     نصیحتیں

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن