30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
انبیاءعَلَیْہِمُ السَّلَام اپنی اپنی قبروں میں اسی طرح زندہ ہیں جیسے دنیا میں تھے اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ) کا وعدہ پورا ہونے کے لیے ایک آن کو اُنہیں موت آئی ہے پھر زندہ ہوگئے، اُن کی زندگی شہیدوں کی زندگی سے بڑھ کر ہے۔ ([1])
عقیدہ۱۸ : نبی کا علم
اللّٰہتعالیٰ نے انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلَام کو غیب کی باتیں بتائیں ، زمین و آسمان کا ہر ذرہ ذرہ ہر نبی کی نظر کے سامنے ہے۔ یہ علم غیب اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ) کے دیئے سے ہے لہٰذا یہ علم عطائی ہوا اور اللّٰہ تعالیٰ کا علم چونکہ کسی کا دیا ہوا نہیں ہے بلکہ خود اُسے حاصل ہے لہٰذا ذاتی ہوا، اب جب کہ اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ) کے علم اور رسول کے علم کا فرق معلوم ہوگیا تو ظاہر ہوگیا کہ نبی و رسول کے لیے خدا کا دیا ہوا علم غیب ماننا شرک نہیں بلکہ ایمان ہے جیسا کہ آیتوں اور حدیثوں سے ثابت ہے۔([2])
عقیدہ۱۹: کوئی اُمتی زُہد و تقوی ، ([3]) اِطاعت و عبادت میں نبی سے نہیں بڑھ سکتا، انبیاء (عَلَیْہِمُ السَّلَام) سوتے جاگتے ہر وقت یاد ِالٰہی میں لگے رہتے ہیں ۔
عقیدہ۲۰: انبیاء (عَلَیْہِمُ السَّلَام) کی تعداد مقرر کرنی ناجائز ہے، ان کی پوری تعداد کا صحیح علم اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ) ہی کو ہے۔
انبیاء(عَلَیْہِمُ السَّلَام) کے رُتبے
سب سے پہلا انسان اور سب سے پہلا نبی
حضر ت آدم عَلَیْہِ السَّلَام سب سے پہلے انسان ہیں ، اُن سے پہلے انسان کا وجود نہ تھا، سب آدمی اُنہیں کی اولاد ہیں ، یہی سب سے پہلے نبی ہیں ، اللّٰہ تعالیٰ نے اُن کو بے ماں باپ کے مٹی سے پیدا کیا اپنا خلیفہ بنایا، تمام چیزوں اور اُن کے نام کا علم دیا، فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم عَلَیْہِ السَّلَام کو سجدہ کرو، سب نے سجدہ کیا، سوا شیطان کے اُس نے انکار کیا، اور ہمیشہ کے لیے ملعون و مردود ہوا، حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَامسے لے کر ہمارے نبی مُحَمَّدٌ رَّسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمتک بہت نبی آئے۔ حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ، حضرت عیسی (عَلَیْہِمُ السَّلَام) اور اُن کے علاوہ ہزاروں ، یہ چاروں نبی بھی تھے اور رسول بھی، سب سے آخری نبی اور رسول ساری مخلوق سے افضل سب کے پیشوا حبیب خدا ہمارے آقا حضرت احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہیں ، آپ کے بعد کوئی نبی نہ ہوا، نہ ہوگا۔ جو شخص ہمارے نبی کے بعد یا آپ کے زمانہ میں کسی اور کو نبی مانے یا نبوت ملنی جائز جانے وہ کافر ہے۔([4] )
ہمارے نبی کی خاص خاص فضیلتیں اور کمالات
اللّٰہ تبارَک و تعالیٰ نے ہمارے حضور(صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کو تمام جہان سے پہلے اپنے نور کی تجلی سے پیدا کیا۔ انبیاء، فرشتے، زمین، آسمان، عرش، کرسی تمام جہان کو حضور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِِ وَسَلَّم کے نور کی جھلک سے بنایا، اللّٰہ یا اللّٰہ کا برابر والا ہونے کے سوا جتنے کمال جتنی خوبیاں ہیں سب اللّٰہ تعالیٰ نے ہمارے حضور(صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کو دے دیں ، تمام جہان میں کوئی کسی خوبی میں حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کے برابر نہیں ہوسکتا، حضور افضل الخَلق اور اللّٰہ تعالیٰ کے نائب مطلق ہیں ، حضور(صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) تمام انبیاء (عَلَیْہِمُُ السَّلَام) کے نبی ہیں اور ہر شخص پر آپ کی پیروی لازم ہے اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے تمام خزانوں کی کنجیاں حضور(صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کو بخش دیں ، دنیا اور دین کی سب نعمتوں کا دینے والا خدا ہے اور بانٹنے والے حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) ہیں ۔ ([5])
[1] حضرت شیخ عبدالحق (رحمۃ اللّٰہ علیہ) اپنی کتاب تکمیل الایمان میں لکھتے ہیں :
مقام نبوت و رسالت بعد از موت ثابت است وخود انبیاء را موت نبود وایشاں حی و باقی اند وموت ہماں است کہ یکبار چشیدہ اند بعد ازاں ارواح را بہ ابدان ایشاں اعادہ کنند وحقیقت حیات بخشند چنانچہ در دنیا بودند کامل تر از حیات شہدا کہ آں معنوی است۔ (تکمیل الایمان، صدور کبائر از انبیاء جائز نیست، ص۱۲۲)
یعنی کمالِ نبوت و رسالت مرنے کے بعد بھی ثابت رہتا ہے اور خود نبی لوگ مرتے نہیں وہ لوگ زندہ اور باقی ہیں ان کے لیے موت بس اتنی ہے کہ ایک بار چکھا اور پھر اس کے بعد ان کی روحیں ان کے بدن میں واپس کردی گئیں اور ان کو وہی اصل زندگی دے دی گئی جیسی کہ دنیا میں تھی یہ ان کی زندگی شہیدوں کی زندگی سے کہیںبڑھ کر ہے۔مراقی الفلاح میں ہے:ومما ھو مقرر عندالمحققین انہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم حی یرزق ممتع بجمیع الملاذ والعبادات غیر انہ حجب عن ابصار القاصرین عن شریف المقامات ۔ (نور الایضاح مع مراقی الفلاح،کتاب الحج، فصل فی زیارۃ النبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ والہ وسلم،ص۳۸۰) ۔اقول: اور بہت حدیثوں میں آیا کہ نبی زندہ رہتا ہے اور روزی پاتا ہے انبیاء کے بدن کو مٹی نہیں کھا سکتی،ان اللّٰہ تعالٰی حرم علی الارض ان تاکل اجساد الانبیاء فنبی اللّٰہ حی یرزق۔ ( ابن ماجہ وغیرہ) (۱۲منہ) (ابن ماجہ،کتاب الجنائز،باب ذکر وفاتہ ودفنہ،۲/۲۹۱،حدیث:۱۶۳۷)
[2] قرآن شریف میں ہے کہ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ (۲۶) اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ (پ۲۹،الجن:۲۷) یعنی اللّٰہ تعالیٰ اپنے غیب کا علم اپنے پسندیدہ رسولوں کو دیتا ہے۔ (جمل) (حاشیۃ الجمل علی الجلالین، سورۃ الجن،تحت الآیۃ:۲۶،۸/ ۱۴۰) اور فرمایا: وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍۚ (۲۴) (پ۳۰،التکویر:۲۴) یعنی یہ رسول غیب کی باتیںبتاتے ہیں۔رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا :ان اللّٰہ قد رفع لی الدنیا فانا انظر الیھا والٰی ما ھو کائن الٰی یوم القیامۃ کانما انظر الی کفی ھذہ جلیان من امر اللّٰہ تعالٰی جلاہ لنبیہ کما جلاہ للنبین من قبلہ۔ (طبرانی و نعیم ابن حماد و ابو نعیم) (حلیۃ الاولیائ،حدیر بن کریب،۶/ $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع