30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ مؤکدہ و مستحب دونوں کو ایک سلام کے ساتھ ادا کرے یعنی چار رکعت پر سلام پھیرے اور اس میں مطلق سنت کی نیت کافی ہے مؤکدہ یا مستحب کی تصریح نہ کرے، دونوں ادا ہو جائیں گی۔([1] ) (فتح القدیرو بہار)
مسئلہ۱۲: نفل و سنت کی سب رکعتوں میں قرأت فرض ہے۔
مسئلہ۱۳: سنت و نفل قصداً شروع کرنے سے واجب ہوجاتی ہے کہ اگر توڑ دے گا تو قضا پڑھنی پڑے گی۔
مسئلہ۱۴: نفل بلا عذر بھی بیٹھ کر پڑھ سکتے ہیں مگر کھڑے ہو کر پڑھنے میں دونا ثواب ہے۔ (ہدایہ)
مسئلہ۱۵: نفل بیٹھ کر پڑھے تو اِس طرح بیٹھے جیسے قعدہ میں بیٹھتے ہیں مگر قرأت کی حالت میں ہاتھ باندھے رہے جیسے کہ کھڑے ہونے کی حالت میں باندھا جاتا ہے۔ (درمختار و ردالمحتار)
مسئلہ۱۶: وتر کے بعد جو دو رکعت نفل پڑھی جاتی ہے اِس میں اَلْحَمْدکے بعد پہلی رکعت میں اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ اور دوسری میں قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ پڑھنا بہتر ہے۔
سنت و نفل کہاں پڑھنا بہتر ہے ؟
مسئلہ۱۷: سنت و نفل گھر میں پڑھنا بہتر ہے۔ (ہدایہ وغیرہ)
مسئلہ۱۸: سنت و فرض کے درمیان بات نہ کرے کہ ثواب کم ہوجاتاہے۔ (فتح القدیر) یہی حکم ہر اُس کام کا ہے جو منافی ٔتحریمہ([2] ) ہے۔ ( تنویر و بہار)
عشاء پڑھ کر سورہنے کے بعد جس وقت جاگے وہ تہجد کا وقت ہے مگر رات کے پچھلے تہائی حصہ میں پڑھنا افضل ہے۔ تہجد سنت ہے اور بہ نیت سنت پڑھی جاتی ہے کم سے کم دو رکعتیں اور زیادہ سے زیادہ آٹھ رکعتیں ۔ ( فتح القدیر وعالمگیری)
مسئلہ۱۹: دن کے نفل میں ایک سلام سے چار رکعت سے زیادہ اور رات کے نفل میں ایک سلام سے آٹھ رکعت سے زیادہ پڑھنا مکروہ ہے اور افضل یہ کہ دن ہو یا رات ہو چار رکعت پر سلام پھیردے۔ (درمختار)
مسئلہ۲۰: جب دو رکعت سے زیادہ نفل کی نیت ہو تو ہر دو رکعت پر قعدہ کرنا ہوگا۔
تنبیہ: ایک ساتھ دو رکعت سے زائد نفل میں شرائط دشوار ہیں ، اس لیے آسانی دو دو رکعت کرکے پڑھنے میں ہے۔
یہ بھی سنت ہے فجر پڑھ کر درود شریف وغیرہ پڑھتا رہے جب سورج ذرا اُونچا ہوجائے یعنی کم از کم نکلنے کے بعد بیس منٹ گزر جائیں تو دو رکعت پڑھے۔
یہ بھی سنت ہے کم سے کم دو رکعت اور زیادہ سے زیادہ بارہ رکعتیں ہیں اور بارہ ہی افضل ہیں ۔ اِس کا وقت سورج کے اچھی طرح اُونچے ہونے کے بعد سے ضحوئہ کبریٰ کے شروع ہونے تک ہے لیکن بہتر وقت چوتھائی دن چڑھے ہے۔
حدیثوں میں آیا ہے کہ جب کوئی کسی کام کا ارادہ کرے تو دو رکعت نفل پڑھے، جس کی پہلی رکعت میں اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ کے بعد قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙاور دوسری رکعت میں اَلْحَمْد کے بعد قُلْ هُوَ اللّٰهُ پڑھے پھر یہ دعا پڑھ کر باوُضو قبلہ رُو سورہے، دعا کے اَوَّل و آخر میں سورۂ فاتحہ اور درود شریف بھی پڑھے۔ دُعا یہ ہے:
اللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَسْتَخِیْرُکَ بِعِلْمِکَ وَاَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ وَاَسْئَلُکَ
مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیْمِ فَاِنَّکَ تَقْدِرُ وَلَآ اَقْدِرُ وَ تَعْلَمُ وَلَآ اَعْلَمُ وَاَنْتَ
عَلَّامُ الْغُیُوْبِ۔اَللّٰھُمَّ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ اَنَّ ھٰذَا الْاَمْرَ خَیْرٌلِّیْ فِیْ دِیْنِیْ
وَمَعَاشِیْ وَعَاقِبَۃِ اَمْرِیْ وَ عَاجِلِ اَمْرِیْ وَاٰجِلِہٖ فَاقْدُرْہُ لِیْ وَیَسِّرْہُ لِیْ
ثُمَّ بَارِکْ لِیْ فِیْہِ وَاِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ اَنَّ ھٰذَا الْاَمْرَ شَرٌّ لِّیْ فِیْ دِیْنِیْ وَ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع