30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لکھی تو اس لیے کہ یہ آدمی بُرائی کرنے والا تھا اگر یہ بھلائی کرنے والا ہوتا تو اُس کی قسمت میں بھلائی ہی لکھتا، اللّٰہ تعالیٰ کے علم نے یا اللّٰہ تعالیٰ کے لکھ دینے نے کسی کو مجبور نہیں کردیا۔
مسئلہ۱: تقدیر کے مسئلہ میں غور و بحث منع ہے، بس اِتنا سمجھ لینا چاہیے کہ آدمی پتھر کی طرح بالکل مجبور نہیں ہے کہ اُس کا اِرادہ کچھ ہو ہی نہیں بلکہ اللّٰہ تعالیٰ نے آدمی کو ایک طرح کا اِختیار دیا ہے کہ ایک کام چاہے کرے چاہے نہ کرے، اِسی اِختیار کی بناء پر نیکی بدی کی نسبت بندے کی طرف ہے اپنے آپ کو بالکل مجبور یا بالکل مختار سمجھنا دونوں گمراہی ہے۔
مسئلہ۲ : برے کام کی نسبت کس کی طرف کی جائے؟
بُرا کام کرکے یہ نہ کہنا چاہیے بے ادَبی ہے کہ ’’ خدا نے چاہا تو ہوا، تقدیر میں تھا کیا ‘‘ بلکہ حکم یہ ہے کہ اچھے کام کو کہے کہ خدا کی طرف سے ہوا اور بُرے کام کو اپنے نفس کی شرارت شامت جانے۔
جس طرح اللّٰہ تعالیٰ کی ذات اور صفتوں کا جاننا ضروری ہے اسی طرح یہ بھی جاننا لازمی ہے کہ نبی میں کیا کیا باتیں ہونی چاہئیں اور کیا کیا نہ ہونا چاہیے تاکہ آدمی کفر سے بچارہے۔
رسول کے معنی ہیں خدا کے یہاں سے بندوں کے پاس خدا کا پیغام لانے والا۔
نبی وہ آدمی ہے جس کے پاس وحی یعنی خدا کا پیغام آیا لوگوں کو خدا کا راستہ بتانے کے لیے ، خواہ یہ پیغام نبی کے پاس فرشتہ لے کر آیا ہو یا خود نبی کو اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ) کی طرف سے اس کا علم ہوا ہو، کئی نبی ا ور کئی فرشتے رسول ہیں ، نبی سب مرد تھے نہ کوئی جن نبی ہوا نہ کوئی عورت نبی ہوئی۔عبادت، ریاضت کے ذریعے سے آدمی نبی نہیں ہوتا محض اللّٰہ تعالیٰ کی مہربانی سے ہوتا ہے اس میں آدمی کی کوشش نہیں چلتی البتہ نبی اللّٰہ تعالیٰ اُسی کو بناتا ہے جس کو اس لائق پیدا کرتا ہے جو نبی ہونے سے پہلے ہی تمام بُری باتوں سے دور رہتا ہے اور اچھی باتوں سے سنور چکتا ہے، نبی میں کوئی ایسی بات نہیں ہوتی جس سے لوگ نفرت کرتے ہوں ۔
نبی کا چال چلن، شکل و صورت حسب و نسب
نبی کا چال چلن، شکل و صورت، حسب و نسب، طور طریقہ، بات چیت سب اچھے اور بے عیب ہوتے ہیں ، نبی کی عقل کامل ہوتی ہے، نبی سب آدمیوں سے زیادہ عقل مند ہوتا ہے، بڑے سے بڑے حکیم فلسفی کی عقل نبی کی عقل کے لاکھویں حصے تک بھی نہیں پہنچتی۔ جو یہ مانے کہ کوئی شخص اپنی کوشش سے نبی ہوسکتا ہے وہ کافر ہے اور جو یہ سمجھے کہ نبی کی نبوت چھینی جاسکتی ہے وہ بھی کافر ہے۔
نبی اور فرشتہ معصوم ہوتا ہے یعنی کوئی گناہ اس سے نہیں ہوسکتا، نبی اور فرشتہ کے علاوہ کسی امام اور ولی کو معصوم ماننا گمراہی اور بد مذہبی ہے اگرچہ اماموں اور بڑے بڑے ولیوں سے بھی گناہ نہیں ہوتا لیکن کبھی کوئی گناہ ہوجائے تو شرعاً محال بھی نہیں ، اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ) کا پیغام پہنچانے میں نبی سے بھول چوک نہیں ہوسکتی محال ہے۔
نبی کی طرف تقیہ کی نسبت کا حکم
جو یہ کہے کہ کچھ احکام تَقِیَّۃً یعنی لوگوں کے ڈر سے یا کسی اور وجہ سے نہیں پہنچائے وہ کافر ہے۔ انبیاء (عَلَیْہِمُ السَّلَام) تمام مخلوق سے افضل ہیں یہاں تک کہ ان فرشتوں سے بھی افضل ہیں جو رسول ہیں ۔
ولی کو نبی سے افضل ماننے کا حکم
ولی کتنے ہی بڑے مرتبے والا ہو کسی نبی کے برابر نہیں ہوسکتا، جو کسی غیر نبی کو کسی نبی سے افضل بتائے وہ کافر ہے۔([1])
عقیدہ۱۷: نبی کی عظمت
نبی کی تعظیم فرضِ عین بلکہ تمام فرائض کی اصل ہے، کسی نبی کی ادنیٰ توہین یا تکذیب کفر ہے۔([2]) ( شفا وہند یہ وغیرہ) سارے نبی اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک بڑی وجاہت و عزت والے ہیں ، اُن کو اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک مَعَاذَ اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ) چوہڑے([3])چمار ([4]) کی مثل کہنا کھلی گستاخی ہے اور کلمہ کفر ہے۔
[1] قال التفتازانیرحمہ اللّٰہ تعالٰی: فما نقل عن بعض الکرامیۃ من جواز کون الولی افضل من النبی کفر وضلال۔شرح العقائد۔ (۱۲منہ)
( شرح عقائد النسفیۃ،لایبلغ الولی درجۃ الانبیاء،ص۳۴۳)
[2] فتاویٰ قاضی خان میں ہے : لوعاب الرجل النبی فی شیء کان کافرا۔ (فتاوی قاضی خان، کتاب السیر،باب ما یکون اسلاما من الکافر ...الخ،۲/ ۴۶۴) یعنی جو شخص نبی کو کسی طرح کا عیب لگائے وہ کافر ہے۔ فتاویٰ عالمگیری میں ہے: لو قال لشعرہ عَلَیْہِ السَّلام شعیر یکفر۔ (الفتاوی الہندیۃ، کتاب السیر،الباب التاسع،۲/ ۲۶۳) یعنی اگر نبی عَلَیْہِ السَّلام کے بال کو ’’بلوا‘‘تصغیر کے صیغہ سے کہے تووہ کافر ہوجائے۔ (۱۲منہ)
[3] بھنگی
[4] موچی جو مردہ جانوروں کی کھال اتارتے،رنگتے،جوتے بناتے،جوتے گانٹھتے اور پالش کرتے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع