30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ۱۸: معذور اپنے مثل معذور کا یا اپنے سے زائد عذر والے کا امام ہوسکتا ہے اور اگر امام مقتدی دونوں کو دو قسم کے عذر ہوں مثلاً ایک کو ریاح کا مرض ہے دوسرے کو قطرے کا تو ایک دوسرے کی امامت نہیں کرسکتا۔(عالمگیری ، ردالمحتار)
مسئلہ۱۹: تیمم کرنے والا وضو کرنے والوں کا امام ہوسکتا ہے۔ ( ہدایہ وغیرہ)
مسئلہ۲۰: موزوں پر مسح کرنے والا پیر دھونے والوں کی امامت کرسکتا ہے۔ (ہدایہ وغیرہ)
مسئلہ۲۱: کھڑا ہو کر نماز پڑھنے والا بیٹھ کر پڑھنے والے کی اقتداء کر سکتا ہے۔ (ہدایہ، شرح وقایہ)
مسئلہ۲۲: وہ شخص جو رکوع و سجود کرتا ہے وہ اس کے پیچھے نہیں پڑھ سکتا جو اشارے سے پڑھتا ہے لیکن اگر امام و مقتدی دونوں اشارے سے پڑھتے ہوں تو اِقتدا جائز ہے۔ ( ہدایہ، شرح وقایہ)
مسئلہ۲۳: ننگا ستر چھپانے والے کا امام نہیں ہوسکتا۔ (ہدایہ، شرح وقایہ)
مسئلہ۲۴: بدمذہب جس کی بدمذہبی حد کفر کو نہ پہنچی ہو جیسے تفضیلیہ اس کو امام بنانا گناہ اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب اِعادہ([1] ) ہے۔ (درمختار، ردالمحتار، عالمگیری)
مسئلہ۲۵: فاسق معلن جیسے شرابی، جواری، زانی، سود خور، چغل خور، وغیرہ جو کبیرہ گناہ علانیہ کرتے ہیں اُن کو امام بنانا گناہ اور ان کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب اِعادہ ہے۔ (ردالمحتارودرمختار وغیرہ)
مسئلہ۲۶: وہ بدمذہب جس کی بدمذہبی حد کفر کو پہنچ گئی ہو جیسے رافضی ( اگرچہ صرف ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خلافت یا صحابیت سے انکار کرتا ہو یا شیخین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکی شانِ اَقدس میں تبرا کہتا ہو) جہمی، مشبہ، قدری([2] )اور وہ جو قرآن کو مخلوق بتاتا اور وہ جو شفاعت یا دیدارِ الٰہی یا عذابِ قبر یا کراماً کاتبین کا انکار کرتا ہے اس کے پیچھے نماز نہیں ہوسکتی۔ (عالمگیری وغنیہ) اس سے سخت تر حکم ان لوگوں کا ہے جو اپنے آپ کو مسلما ن کہتے ہیں بلکہ متبع سنت بنتے ہیں او راس کے باوجود بعض ضروریاتِ دین کو نہیں مانتے۔ اللّٰہ(عَزَّوَجَلَّ) ورسول(صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم) کی توہین کرتے یا کم از کم توہین کرنے والوں کو مسلمان جانتے ہیں ۔ اُن کے پیچھے بھی بالکل نماز جائز نہیں ۔
مسئلہ۲۷: فاسق کی اِقتداء نہ کی جائے مگر صرف جمعہ میں کہ اس میں مجبوری ہے باقی نمازوں میں دوسری مسجد میں چلا جائے اور جمعہ اگر شہر میں چند جگہ ہوتا ہو تو اس میں بھی اِقتداء نہ کی جائے۔ دوسری مسجد میں جا کر پڑھیں ۔(غنیۃ، ردالمحتار، فتح القدیر)
مسئلہ۲۸: امام کا تنہا اُونچی جگہ کھڑا ہونا مکروہ ہے اگر بلندی تھوڑی ہو تو مکروہ تنزیہی اور اگر بلندی زیادہ ہو تو مکروہ تحریمی۔ (درمختار وغیرہ)
مسئلہ۲۹: امام نیچے ہو اور مقتدی اُونچی جگہ پر یہ بھی مکروہ اور خلافِ سنت ہے۔ (درمختاروغیرہ )
مسئلہ۳۰: مسبو ق اپنی چھوٹی ہوئی رکعتوں کے ادا کرنے میں منفرد ہے۔
مسبوق وہ ہے جو جماعت میں اُس وقت شامل ہوا جب کہ کچھ رکعتیں امام پڑھ چکا تھااور آخر تک امام کے ساتھ رہا۔ منفرد کے معنی اکیلا پڑھنے والا جو جماعت کے ساتھ نہ پڑھے۔
مسئلہ۳۱: مسبوق نے امام کو قعدے میں پایا تو اس طرح شامل ہو کہ پہلے نیت کرکے کھڑا ہو اور سیدھے کھڑے رہنے کی حالت میں تکبیر تحریمہ کہہ کر پھر دوسری تکبیر کہتا ہوا قعدے میں جائے۔ اگر رکوع یا سجدہ میں پائے تب بھی یوں ہی کرے اگر پہلی تکبیر کہنے میں رکوع کی حد تک جھک گیا تو نماز نہ ہوگی۔
مسئلہ۳۲: مسبوق چار رکعت والی نماز میں چوتھی رکعت میں جماعت میں شامل ہوا تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد کھڑا ہوجائے اور ایک رکعت اَلْحَمْد اور سورۃ کے ساتھ پڑھ کر قعدہ کرلے اور پھر کھڑا ہو جائے اور اِس میں بھی اَلْحَمْد اور سورۃ پڑھے اور اس رکعت پر قعدہ نہ کرے بلکہ ایک رکعت اور پڑھے صرف اَلْحَمْد کے ساتھ اور اس آخری رکعت پر قعدہ وغیرہ کرکے نماز ختم کرے یعنی علاوہ امام کے ساتھ والے قعدہ کے اس کو دو قعدے اور ادا کرنے ہوں گے ایک قعدہ ایک رکعت کے بعد اور دوسرا قعدہ اُس قعدہ کے بعد دو رکعت اَور پڑھ کر۔
[1] یعنی نماز کا پھر سے پڑھنا واجب ہے۔
[2] قَدری: جو تقدیر کا منکر ہو۔ مُشَبِّہ: جو خدا کی ذات و صفات کو آدمی کی ذات و صفات کی طرح مانتا ہو۔ جَہْمِی: جہم بن صفوان کے ماننے والوں کو کہتے ہیں، ان کا قول ہے کہ بندے کو بالکل کسی طرح کی قدرت نہیں، نہ موثرہ نہ کاسبہ بلکہ مثل جمادات کے ہے اور جنت و دوزخ لوگوں کے داخل ہونے کے بعدفنا ہوجائے گی یہاں تک کہ کچھ باقی نہ رہے گا سوا اللّٰہ تعالیٰ کے۔ ۱۲ (منہ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع