30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کوئی چیز اللّٰہ تعالیٰ کے علم سے باہر نہیں ، موجود ہو یا معدوم، ممکن ہو یا محال، کلی ہو یا جزئی سب کو اَزَل میں جانتا تھا اور اب جانتا ہے اور اَبد تک جانے گا، چیزیں بدلتی ہیں لیکن اس کا علم نہیں بدلتا۔ دلوں کے خطروں اور وَسوسوں کی اُس کو خبر ہے اس کے علم کی کوئی انتہا نہیں ۔
عقیدہ۹: اللّٰہ تعالیٰ کی مشیت و اِرادہ کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا، مگر اچھے پر خوش ہوتا ہے اور بُرے پر ناراض۔
عقیدہ۱۰: خدا تعالیٰ کی قدرت
اللّٰہ تعالیٰ ہر ممکن پر قادِر ہے کوئی ممکن اُس کی قدرت سے باہر نہیں اور محال تحت ِقدرت نہیں ، ([1] )محال پر قدرت ماننا اُلوہیت کا انکار کرنا ہے۔
عقیدہ۱۱: خیر و شر، کفر و ایمان، اطاعت و عصیاں اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ) ہی کی تقدیر و تخلیق سے ہے۔
عقیدہ۱۲: حقیقۃً روزی پہنچانے والا وہی ہے فرشتہ وغیرہ وسیلہ اور واسطہ ہیں ۔
عقیدہ۱۳: اللّٰہتعالیٰ پر کچھ واجب نہیں
اللّٰہتعالیٰ کے ذمہ کچھ واجب نہیں ، نہ ثواب دینا نہ عذاب کرنا، نہ وہ کام کرنا جو بندہ کے حق میں مفید ہو، ([2] ) اِس لیے کہ وہ مالک علی الاطلاق ہے جو چاہے کرے، حکم دے تو فضل، عذاب کرے تو عدل ، ہاں اس کی یہ مہربانی کہ وہی حکم دیتا ہے جو بندہ کرسکے، ضرور مسلمانوں کو اپنے فضل سے جنت دے گا اورکافروں کو اپنے عدل سے جہنم میں ڈالے گا۔ اِس لیے کہ اُس نے وعدہ فرمالیا ہے کہ کفر کے سوا جس گناہ کو چاہے معاف کردے گا اور اِس کے وعدے وعید بدلتے نہیں ، اس لیے عذاب و ثواب ضرور ہوگا۔
عقیدہ۱۴ : خداتعالیٰ کا استغناء
اللّٰہتعالیٰ عالم سے بے پروا ہے اس کو کوئی نفع و نقصان نہیں پہنچتا، نہ کوئی پہنچاسکتا ہے۔ وہ جو کچھ کرتا ہے اس میں اس کا اپنا فائدہ یا غرض نہیں ، دنیا کو پیدا کرنے میں نہ کوئی اس کا فائدہ اورنہ پیدا کرنے میں نہ کوئی نقصان۔
اللّٰہ تعالٰی نے عالم کو کیوں پیدا کیا؟
اپنا فضل و عدل، قدرت و کمال ظاہر کرنے کے لیے مخلوق کو پیدا کیا۔
عقیدہ۱۵: اللّٰہ تعالیٰ کے ہر کام میں بہت حکمتیں ہیں ہماری سمجھ میں آئے یا نہ آئے یہ اُس کی حکمت ہے کہ دنیا میں ایک چیز کو دوسری چیز کا سبب ٹھہرایا۔ آگ کو گرمی پہنچانے کا سبب، پانی کو سردی پہنچانے کا سبب بنایا، آنکھ کو دیکھنے کے لیے کان کو سننے کے لیے بنایا اگروہ چاہے تو آگ سردی، پانی گرمی دے اور آنکھ سنے، کان دیکھے۔
عقیدہ۱۶: خدا کی ہر عیب سے پاکی
خدا کے لیے ہر عیب و نقص محال ہے جیسے جھوٹ، ([3]) جہل، بھول، ظلم، بے حیائی وغیرہ تمام برائیاں خدا کے لیے محال ہیں اور جو یہ مانے کہ خدا جھوٹ بول سکتا ہے لیکن بولتا نہیں تو گویا وہ مانتا ہے کہ خدا عیبی تو ہے لیکن اپنا عیب چھپائے رہتا ہے، پھر ایک جھوٹ ہی پر کیا ختم سب بر ائیوں کا یہی حال ہوجائے گا کہ اس میں ہیں تو لیکن کرتا نہیں جیسے ظلم، چوری، فنا، توالد وتناسل وغیرہا عیوبِ کثیرہ عدیدہ۔ تَعَالٰی اللّٰہُ عَنْ ذَالِکَ عُلُوًا کَبِیْراً۔([4])
خدا کے لیے کسی نقص وعیب کو ممکن جاننا خدا کو عیبی ماننا ہے بلکہ خدا ہی کا انکار کرنا ہے، اللّٰہ تعالیٰ ایسے گندے عقیدے سے ہر آدمی کو بچائے رکھے۔
اللّٰہ تعالیٰ کے علم میں ، جو کچھ عالم میں ہونے والا تھا اورجو کچھ بندے کرنے والے تھے اس کو اللّٰہ تعالیٰ نے پہلے ہی جان کر لکھ لیا۔ کسی کی قسمت میں بھلائی لکھی اور کسی کی قسمت میں برائی لکھی، اس لکھ دینے نے بندہ کو مجبور نہیں کردیا کہ جو اللّٰہ تعالیٰ نے لکھ دیا وہ بندہ کو مجبوراً کرنا پڑتا ہے بلکہ بندہ جیسا کرنے والا تھا ویسا ہی اُس نے لکھ دیا، کسی آدمی کی قسمت میں بُرائی
[1] شرح فقہ اکبر میں ہے : لان المحال لا یدخل تحت القدرۃ. (شرح الفقہ الاکبر،القول فی القدر، ص۸۷) اور شرح مقاصد میں ہے : لا شیء من الواجب الممتنع بمقدور۔ (شرح المقاصد، المقصد الثالث فی الاعراض،۲/ ۱۴۸) اور شرح مواقف میں ہے: لانھا ای: (القدرۃ) تختص بالممکنات دون الواجبات والممتنعات۔ (شرح المواقف، المرصد الرابع، المقصد الثالث، ۸/۸۰) یعنی قدرت الٰہی کا تعلق صرف ممکنات سے ہے محال قدرت میں نہیں اور عیوبِ رب محال، جو عیبی مانے وہ خدا کو کیا جانے۱۲منہ۔ قدیم : یعنی جو ہمیشہ سے ہو، حادث: یعنی جو پہلے نہ تھا پھر پیدا کیا گیا، محال: جو نہ ہوسکتا ہو، ممکن: جو ہوسکتا ہو۔ (۱۲منہ)
[2] قال:فی شرح المواقف:فان المطیع لایستحق بطاعتہ ثوابا والعاصی لایستحق بمعصیتہ عقابا اذ قد ثبت انہ لایجب لاحد علی اللّٰہ حق۔ج ۸ (شرح المواقف،المرصد الثانی، المقصد الخامس، ۸/ ۳۳۲) وقال العلامۃ النسفی: وما ھو الاصلح للعبد فلیس ذالک بواجب علی اللّٰہ تعالٰی۔۱۲منہ (شرح العقائد النسفیۃ ، وما ھو الا صلح للعبد العباد،ص۲۳۳)
[3] شرح مقاصد میں ہے: الکذب محال باجماع العلماء لان الکذب نقص باتفاق العقلاء وھوعلی اللّٰہ تعالٰی محال یعنی اللّٰہ تعالیٰ کے لیے جھوٹ محال ہے اس پر سب علماء کا اتفاق ہے، اس لیے کہ جھوٹ عیب ہے ہر عقلمند کے نزدیک اور ہر عیب اللّٰہ کے لیے محال ہے۔ (شرح المقاصد ، المقصد الخامس،فصل فی الصفات الوجودیۃ،۳/ ۱۱۶ ملتقطاً) اور شرح عقائدجلالی میں ہے: الکذب نقص علیہ محال ولا یکون من الممکنات ولا تشملہ القدرۃ۔ (الدوانی علی العقائد العضدیۃ، ۲/ ۱۹۵) یعنی جھوٹ عیب ہے اور عیب خدا کے لیے محال ہے لہٰذا جھوٹ خدا کے لیے ممکن نہیں ہے اور نہ زیر قدرت۔ اب یہیں سے ظاہر ہوگیا کہ اگر خدا کے لیے جھوٹ بولنا ممکن مانا جائے تو لازم آئے گا کہ ایسے کو خدا مانا جس میں یہ عیب ہے حالانکہ خدا عیبی نہیں تو خدا ہی کو نہیں پہچانا بلکہ اپنے گڑھے ہوئے عیبی معبود کو خدا مانا۔ ۱۲منہ سلمہ
[4] اللّٰہ تعالیٰ ان تمام سے بہت بلند ہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع