30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس کی بھی اجازت ہے۔ مثلاً فجر کا وقت اِتنا تنگ ہوگیا کہ صرف ایک ایک آیت پڑھ سکتا ہے تو یہی کرے (درمختار و ردالمحتار) لیکن آفتاب بلند ہونے کے بعد ایسی نماز کا اِعادہ کرے۔ (بہار شریعت)
مسئلہ۱۲: فجر کی سنت پڑھنے میں جماعت جانے کا ڈر ہو تو صرف واجبات پر اقتصار کرے ثناء و تعوذ کو چھوڑ دے اور رکوع و سجود میں ایک ایک بار تسبیح پر اکتفاء کرے۔ (ردالمحتار)
مسئلہ۱۳: وتر میں حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے پہلی رکعت میں سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَىۙ پڑھی اور دوسری میں قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ اور تیسری میں قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚپڑھی، لہٰذا کبھی تبرکاً انہیں پڑھے اور کبھی پہلی رکعت سَبِّحِ اسْمَ کے بجائے اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ پڑھے۔
مسئلہ۱۴: قرآن شریف اُلٹا پڑھنا مکروہ تحریمی ہے۔ مثلاً یہ کہ پہلی رکعت میں قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ پڑھے اور دوسری میں اَلَمْ تَرَ كَیْفَ پڑھے یہ ناجائز ہے لیکن اگر بھول کر پڑھ دی تو کچھ حر َج نہیں ۔
مسئلہ۱۵: بچوں کو آسانی کیلئے پارہ عَمَّ خلافِ ترتیب پڑھانے میں حرج نہیں ۔(ردا لمحتار)
مسئلہ۱۶: اگر بھول کر دوسری رکعت میں پہلے والی سورۃ شروع کردی تو چاہے ابھی ایک ہی لفظ پڑھا ہو اُسی کو پورا کرے، دوسری پڑھنے کی اجازت نہیں ۔ مثلاً پہلی رکعت میں قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙپڑھی اور دوسری میں بھولے سے اَلَمْ تَرَ كَیْفَ شروع کردی تو اُسی کو پڑھے۔
مسئلہ۱۷: درمیان میں ایک سورۃ چھوڑ کر پڑھنا مکروہ ہے لیکن اگر درمیان کی سورۃ پہلی سے بڑی ہو تو چھوڑ سکتا ہے۔ مثلاً وَ التِّیْنِ کے بعد اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ پڑھنے میں حر َج نہیں اور اِذَا جَآءَ کے بعد قُلْ هُوَ اللّٰهُ پڑھنا نہ چاہیے۔ (درمختار وغیرہ)
مسئلہ۱۸: بہتر یہ ہے کہ فرض نمازوں میں پہلی رکعت کی قرأ ت دوسری رکعت سے کچھ زیادہ ہو اور فجر میں تو پہلی رکعت میں دو تہائی اور دوسری میں ایک تہائی ہو۔ (عالمگیری)
مسئلہ۱۹: جمعہ و عیدین کی پہلی رکعت میں سَبِّحِ اسْمَ دوسری میں هَلْ اَتٰىكَ پڑھنا سنت ہے۔ (درمختا ر، ردالمحتار)
مسئلہ۲۰: سنتوں اور نفلوں کی دونوں رکعتوں میں برابر کی سورتیں پڑھے۔ (منیہ)
مسئلہ۲۱: نوافل کی دونوں رکعتوں میں ایک ہی سورت پڑھنا یا ایک رکعت میں اِسی سورۃ کو بار بار پڑھنا بلا کراہت جائز ہے۔ (غنیۃ)
قرأ ت میں غلطی ہوجانے کا بیان
اس میں قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ اگر ایسی غلطی ہوئی جس سے معنی بگڑ جائیں تو نماز فاسد ہوگئی ورنہ نہیں ۔
مسئلہ۲۲: ایک حرف کی جگہ دوسرا حرف پڑھنا اگر اِس وجہ سے ہے کہ اس کی زبان سے وہ حرف ادا نہیں ہوتا تو مجبور ہے اس پر کوشش کرنا ضروری ہے اور اگر لاپرواہی سے ہے جیسے آج کل کے اکثر حفاظ و علماء کہ ادا کرنے پر قادر ہیں مگر بے خیالی میں تبدیل حرف کردیتے ہیں تو اگر معنی فاسد ہوں نماز نہ ہوئی اِس قسم کی جتنی نمازیں پڑھی ہوں اُن کی قضا لازم ہے۔
مسئلہ۲۳: ط ت، س ث ص، ذ ز ظ، اء ع، ہ ح، ض د، اِن حرفوں میں صحیح طور پر امتیاز رکھیں ورنہ معنی فاسد ہونے کی صورت میں نماز نہ ہوگی اور بعض تو س، ش، ز، ج، ق ک میں بھی فرق نہیں کرتے۔ (بہار شریعت)
جس سے حروف صحیح ادا نہ ہوتے ہوں وہ کیا کرے؟
جس سے حروف صحیح ادا نہیں ہوتے اس پر واجب ہے کہ حروف صحیح کرنے میں رات دن پوری کوشش کرے اور اگر صحیح پڑھنے والوں کے پیچھے پڑھ سکتا ہو تو جہاں تک ہوسکے اُن کے پیچھے پڑھے یا وہ آیتیں پڑھے جن کے حروف صحیح ادا کرسکتا ہو اور یہ دونوں باتیں ممکن نہ ہوں تو کوشش کے زمانے میں اُس کی اپنی نماز ہوجائے گی اور اُس کے پیچھے اس جیسوں کی بھی۔ (درمختار، ردالمحتار، بہار شریعت وغیرہ)
مسئلہ۲۴: جس نے سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم میں عظیم کو عزیم، ظ کے بجائے ز پڑھ دیا تو نماز جاتی رہی لہٰذا جس سے عظیم صحیح ادا نہ ہو وہ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْکَرِیْم پڑھے۔
نماز کے باہر قرآن شریف پڑھنے کا بیان
مسئلہ۲۵: قرآن شریف نہایت اچھی آواز سے پڑھنا چاہیے لیکن گانے کی طرح نہیں کہ یہ ناجائز ہے بلکہ قواعد ِتجوید کی رعایت کرے۔ (درورد )
مسئلہ۲۶: قرآنِ مجید دیکھ کر پڑھنا زبانی پڑھنے سے افضل ہے۔ (عالمگیری) مستحب یہ ہے کہ باوُضو قبلہ ُرو اچھے کپڑے پہن کر تلاوت کرے اور تلاوت کے شروع میں اَعُوْذُ بِاللّٰہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع