30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اُولیٰ اگرچہ نماز نفل ہو، فرض اور وتر اور سنن رَواتب ([1] ) میں قعدہ اُولیٰ میں تشہد پر کچھ نہ بڑھانا، دونوں قعدوں میں پور ا تشہد پڑھنا، یوں ہی جتنے قعدے کرنے پڑیں سب میں پورا تشہد واجب ہے ایک لفظ بھی اگر چھوڑ ے گا تو ترک واجب ہوگا، دونوں سلام میں فقط لفظ اَلسَّلَام واجب ہے، عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہ واجب نہیں ، وتر میں دعائے قنو ت پڑھنا، تکبیر قنوت، عیدین کی چھیئوں تکبیریں ، عیدین میں دوسری رکعت کی تکبیر رکوع اور اس تکبیر کے لیے لفظ اَللّٰہُ اَکْبَر ہونا، ہر جہری نماز([2] ) میں امام کو جہر سے قرأت کرنا اور غیر جہری میں آہستہ، ہر فرض و واجب کا اُس کی جگہ پر ادا ہونا، ([3] )رکوع کا ہر رکعت میں ایک ہی بار ہونا اور سجود کا دو ہی بار ہونا، دوسری رکعت سے پہلے قعدہ نہ کرنا اور چار رکعت والی میں تیسری پر قعدہ نہ ہونا، آیت سجدہ پڑھی ہو تو سجدہ تلاوت کرنا، سہو ہوا ہو تو سجدہ سہو کرنا، دو فرض یا دو واجب یا واجب و فرض کے درمیان تین بار سُبْحَانَ اللّٰہ کہنے کے برابر دیر نہ ہونا، امام جب قرأ ت کرے بلند آواز سے ہو یا آہستہ اس وقت مقتدی کا چپ رہنا، سوا قرأ ت کے تمام واجبات میں امام کی پیروی کرنا، فرائض و واجبات کے علاوہ جو باتیں طریقہ نماز میں بیان ہوئی وہ یا سنت ہیں یا مستحب ہیں ، اُن کو قصداً نہ چھوڑ اجائے اور اگر غلطی سے چھوٹ جائیں تو نہ سجدہ سہو کرنے کی ضرورت ہے نہ نماز دہرانے کی، اگر دہرالے تو اچھا ہے، اگر سنن و مستحبات کی پوری تفصیل معلوم کرنا چاہیں تو بہار شریعت وفتاویٰ رضویہ ملاحظہ کریں ہم نے بلحاظِ اِختصار و سہولت حفظ یہاں ذِکر نہیں کیا۔
سجدہ ء سہو کا بیان
جو چیزیں نماز میں واجب ہیں اُن میں سے اگر کوئی واجب بھولے سے چھوٹ جائے تو اس کی کمی کو پورا کرنے کے لیے سجدہ سہو واجب ہے۔
اس کا طریقہ یہ ہے کہ نماز کے آخر میں اَلتَّحِیَّات پڑھنے کے بعد دا ہنی طرف سلام پھیر کر دو سجدے کرے اور پھر شروع سے اَلتَّحِیَّات وغیرہ سب پڑھ کر سلام پھیر دے۔
مسئلہ۱: اگر کوئی واجب چھوٹ گیا اور اس کے لیے سجدہ سہو نہ کیا اور نماز ختم کردی تو نماز دُہرانا واجب ہے۔
مسئلہ۲: اگر قصداً کوئی واجب چھوڑ دیا تو سجدہ سہو کافی نہیں بلکہ نماز دُہرانا واجب ہے۔
مسئلہ۳: جو باتیں نماز میں فرض ہیں اگر اُن میں سے کوئی بات چھوٹ گئی تو نماز نہ ہوئی اور سجدہ سہو سے بھی یہ کمی پوری نہیں کی جاسکتی بلکہ پھر سے پڑھنا فرض ہے۔
کن باتوں کے چھوٹنے سے سجدہ سہو نہیں ؟
مسئلہ۴: وہ باتیں جو نماز میں سنت ہیں یا مستحب ہیں جیسے تعوذ، تسمیہ، آمین، تکبیرات ِانتقال، تسبیحات ان کے ترک سے بھی سجدہ سہو نہیں ، بلکہ نماز ہوگئی۔ (ردالمحتار، غنیۃ) مگر نماز دُہرا لینا بہتر ہے۔
مسئلہ۵: ایک نماز میں کئی واجب چھوٹ گئے تو ایک بار وہی دو سجدے سہو کے سب کے لیے کافی ہیں ۔ چند بار سجدہ سہو کرنے کی ضرورت نہیں ۔ ( ردالمحتار وغیرہ)
مسئلہ۶: قعدہ اُولیٰ میں پوری اَلتَّحِیَّات پڑھنے کے بعد تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہونے میں اِتنی دیر کی کہ جتنی دیر میں اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّد پڑھ سکے تو سجدہ سہو واجب ہے۔ چاہے کچھ پڑھے یا خاموش رہے دونوں صورتوں میں سجدہ سہو واجب ہے۔ (درمختارو ردالمحتار)
مسئلہ۷: قرأت وغیرہ کسی موقع پر سوچنے لگا اور اتنی دیر ہوئی کہ تین بارسُبْحٰنَ اللّٰہ کہہ سکے تو سجدہ سہو واجب ہے۔(ردالمحتار)
مسئلہ۸: دوسری رکعت کو چوتھی سمجھ کر سلام پھیر دیا پھر یاد آیا تو نماز پوری کرکے سجدہ سہو کرے۔ (عالمگیری)
مسئلہ۹: تعدیل اَرکان([4] ) بھول گیا، سجدہ سہو واجب ہے۔ (ہندیہ)
مسئلہ۱۰: مقتدی اَلتَّحِیَّاتنہ ختم کرنے پایا تھا کہ امام تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہوگیا تو مقتدی پر واجب ہے کہ اپنی اَلتَّحِیَّاتپوری کرکے کھڑا ہو اگرچہ دیر ہوجائے۔
مسئلہ۱۱: مقتدی نے رکوع یاسجدے میں تین بار تسبیح نہ کہی تھی کہ امام نے سر اُٹھالیا تو مقتدی بھی سر اُٹھالے اورباقی تسبیح چھوڑ دے۔
مسئلہ۱۲: جس شخص نے بھول کرقعدہ اُولیٰ نہ کیا اور تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہونے لگا تواگرابھی اتناکھڑاہواکہ قعدہ کے قریب ہے تو بیٹھ جائے اور قعدہ کرے نماز صحیح ہے، سجدہ
سہو بھی لازم نہ آیااور اگر اِتنا اُٹھا کہ کھڑے ہونے کے قریب ہوگیا تو پھر کھڑا ہی ہوجائے
[1] سنن مؤکدہ
[2] وہ نماز جس میں امام بلند آوازسے قرأت کرے مثلاًفجر ، مغرب ،عشاء وغیرہ۔
[3] جگہ پر ادا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جو پہلے ہو وہ پہلے اور جو پیچھے ہو وہ پیچھے۔ ۱۲ منہ
[4] تعدیل اَرکان کے معنی ہیں اَرکانِ نماز مثلاً رکوع، سجود، قومہ، جلسہ وغیرہ کو اطمینان سے ادا کرنا یعنی ان میں کم از کم ایک بار سُبْحَانَ اللّٰہ کہنے کی مقدار ٹھہرنا ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع