30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَالْمُسْلِمِیْنَوَالْمُسْلِمَاتِ الْاَحْیَاء مِنْھُمْ وَالْاَمْوَاتِ اِنَّکَ مُجِیْبُ
الدَّعْوَاتِ بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْن۔([1] )
پڑھے یا اورکوئی دعائے ماثور پڑھے یا یہ پڑھے:
اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّار۔([2] )
اور اس کو بغیر اَللّٰھُمَّ کے نہ پڑھے پھر داہنے شانہ کی طرف منہ کرکے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہ([3] )کہے اور اسی طرح بائیں طرف، اب نماز ختم ہوگئی، اس کے بعد دونوں ہاتھ اُٹھا کر کوئی دُعا مثلاً
اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّار۔
پڑھے اور منہ پر ہاتھ پھیرے۔ یہ طریقہ امام یا تنہا مرد کے پڑھنے کا ہے لیکن اگر نمازی مقتدی ہو یعنی جماعت کے ساتھ امام کے پیچھے پڑھتا ہو تو قرأ ت نہ کرے یعنی اَلْحَمْد اور سورۃ نہ پڑھے چاہے امام زور سے قرأت کرتا ہو یا آہستہ، امام کے پیچھے کسی نماز میں قرأت جائز نہیں ۔ اگر نمازی عورت ہو تو تکبیر تحریمہ کے وقت مونڈھے تک ہاتھ اُٹھائے اور بائیں ہتھیلی سینہ پر چھاتی کے نیچے رکھ کراس کے اوپردا ہنی ہتھیلی رکھے اور رکوع میں تھوڑا جھکے یعنی صرف اتنا کہ گھٹنوں پر ہاتھ رکھ دے زور نہ دے اور ہاتھ کی انگلیاں ملی رہیں اور پیٹھ اور پاؤں جھکے رہیں مردوں کی طرح خوب سیدھی نہ کردے اور سجدہ میں سمٹ کر سجدہ کرے یعنی بازو کروٹوں سے ملادے اور پیٹ رانوں سے اور ران پنڈلیوں سے اور پنڈلیاں زمین سے ملادے اور دونوں پاؤں پیچھے نکال دے اور قعدہ میں دونوں پاؤں داہنی جانب نکال دے اور بائیں سرین پر بیٹھے اور ہاتھ بیچ ران پر رکھے۔
اس طریقہ میں بعض چیزیں فرض ہیں کہ اس کے بغیر نماز ہوگی ہی نہیں ۔ بعض واجب ہیں کہ اس کو قصد اً چھوڑنا گناہ اور نماز کا پھر سے پڑھنا واجب اور بھول کر چھوٹنے سے سجدہ سہو واجب اور بعض سنت موکدہ ہیں ، جس کو چھوڑنے کی عادت گناہ ہے اور بعض مستحب ہیں کہ جس کا کرنا ثواب اور نہ کرنا گناہ نہیں ۔
سات چیزیں نماز میں فرض ہیں :
{۱}تکبیر تحریمہ([4] ): یعنی پہلی اَللّٰہُ اَکْبَر جس سے نماز شروع ہوتی ہے۔
{۲} قیام: یعنی اتنی دیر کھڑا رہنا جتنی دیر میں فرض قرأ ت([5] )ادا ہو۔
{۳} قرأت: یعنی کم سے کم ایک آیت پڑھنا۔
{۴} رکوع: یعنی اتنا جھکنا کہ ہاتھ بڑھائے تو گھٹنے تک پہنچ جائیں ۔
{۵} سجود: یعنی ماتھے کا زمین پر جمنا اس طرح کہ کم سے کم پاؤں کی ایک انگلی کا پیٹ زمین سے لگا([6] )ہو۔
{۶} قعدہ اخیرہ: یعنی نماز کی رکعتیں پوری کرنے کے بعد اتنی دیر بیٹھنا کہ پوری اَلتَّحیات رَسُوْلہ تک پڑھی جاسکے۔
{۷} خروج بِصُنْعِہٖ: یعنی قعدئہ اخیرہ کے بعد اپنے ارادہ و عمل سے نماز ختم کردینا، خواہ سلام و کلام سے ہو یا کسی دوسرے عمل سے۔
تکبیر تحریمہ میں لفظ اَللّٰہُ اَکْبَر کہنا، پوری اَلْحَمْدُ لِلّٰہ پڑھنا، سورۃ یا آیت ملانا، فرض نماز میں دو پہلی رکعتوں میں قرأت واجب ہے، اَلْحَمْد اور اس کے ساتھ سورۃ یا آیت ملانا، فرض کی دو پہلی رکعتوں میں اور نفل اور وتر اور سنت کی ہر رکعت میں سورۃ یا آیت سے پہلے ایک ہی باراَلْحَمْد پڑھنا اور اَلْحَمْد اور سورت کے درمیان آمیناور بِسْمِ اللّٰہ کے سوا کچھ اور نہ پڑھنا، قرأ ت ختم کرکے فوراً رکوع کرنا، ایک سجدہ کے بعد دوسرا سجدہ ہونا کہ دونوں سجدوں کے بیچ میں کوئی رکن نہ آنے پائے، تعدیل ارکان یعنی رکوع، سجود، قومہ، جلسہ میں کم سے کم ایک بارسُبْحٰنَ اللّٰہ کے برابر ٹھہرنا، قومہ یعنی رکوع سے سیدھا کھڑا ہوجانا، سجدہ میں ہر پاؤں کی تین تین انگلیوں کے پیٹ زمین پر لگنا، جلسہ یعنی دو سجدوں کے درمیان سیدھا بیٹھنا، قعدہ
[1] اے اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ) تو بخش دے مجھ کو اور میرے والدین کو اور اس کو جو پیدا ہوا اور تمام مومنین و مومنات اور مسلمین و مسلمات کو، بیشک تو دعاؤں کا قبول کرنے والا ہے اپنی رحمت سے، اے سب مہربانوں سے زیادہ مہربان۔
[2] اے اللّٰہ! (عَزَّوَجَلَّ) ،اے رب ہمارے ہمیں دنیا میں بھلائی دے اورہمیں آخرت میں بھلائی دے اور ہمیں عذاب ِ دوزخ سے بچا۔
[3] سلام میں اکیلا نمازی اپنے داہنے سلام میں ان فرشتوں پر سلام کی نیت رکھے جو د ا ہنی طرف ہیں اور بائیں سلام میںبائیں طرف کے فرشتوں کی نیت کرے اور اگر نمازی امام ہو تو ان سب کے ساتھ داہنے طرف کے مردمقتدیوں کی بھی نیت کرے اور اسی طرح بائیں سلام میں بائیں طرف کے، انہیں سب کی نیت کرے اور اگر مقتدی ہو تو ان سب کے ساتھ امام کو بھی شامل کرے اس طرف کے سلام میں جس طرف امام پڑے اور اگر امام سامنے پڑے تو دونوں سلام میں امام کو شامل رکھے۔ (۱۲منہ)
[4] تکبیر تحریمہ میں خاص لفظ اللّٰہ اکبر فرض نہیں، فرض تو اتنا ہے کہ خالص تعظیم الٰہی کے الفاظ ہوں مثلا: اَللّٰہُ اَعْظَم، اَللّٰہُ الْکَبِیْر،اَلرَّحْمٰن اَکْبَر کہا جب بھی فرض ادا ہوگیامگر یہ تبدیلی مکروہ تحریمی ہے۔ (۱۲منہ)
[5] قرأ ت سے مراد قرآن شریف پڑھنا۔ ۱۲ (منہ)
[6] لہٰذا اگر اس طرح سجدہ کیا کہ دونوں پاؤں زمین سے اُٹھے رہے یا صرف انگلی کی نوک زمین سے لگی تو نماز نہ ہوگی۔ (درمختار، فتاویٰ رضویہ، بہارشریعت) (۱۲منہ) ۔ ( بہارشریعت،حصہ۳، ۱/۵۱۳)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع