30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہے۔
اَذان ختم ہوئی، اب پہلے درود شریف پھر یہ دعا پڑھے:
اَللّٰھُمَّ رَبَّ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّامَّۃِ وَالصَّلَاۃِ الْقَآئِمَۃِ اٰتِ سَیِّدَ نَامُحَمَّدَنِالْوَسِیْلَۃَ وَالْفَضِیْلَۃَ وَالدَّرَجَۃَ الرَّفِیْعَۃَ وَابْعَثْہُ مَقَامًا مَّحْمُوْدَنِالَّذِیْ وَعَدْتَّہٗ
وَارْزُقْنَا شَفَاعَتَہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اِنَّکَ لَاتُخْلِفُ الْمِیْعَاد۔([1] )
مسئلہ۲: فجر کی اَذان میں حَیَّ عَلَی الْفَلَاحکے بعد دوبار اَلصَّلٰوۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْم([2] ) بھی کہے کہ مستحب ہے اگر نہ کہا جب بھی اَذان ہوجائے گی۔
کن نمازوں کے لیے اَذان کہی جائے ؟
مسئلہ۳: پانچوں وقت کی فرض نماز اور انہیں میں جمعہ بھی ہے جب جماعت مستحبہ کے ساتھ مسجد میں وقت پر ادا کی جائیں تو اُن کے لیے اَذان سنت مؤکدہ ہے اور اس کا حکم مثل واجب کے ہے اگر اَذان نہ کہی گئی تو وہاں کے سب لوگ گنہگار ہوں گے۔
(خانیہ ، ہندیہ ، درمختار وردالمحتار)
مسئلہ۴: مسجد میں بلا اَذان و اِقامت کے جماعت پڑھنا مکروہ ہے۔ (عالمگیری)
مسئلہ۵: اگر کوئی شخص گھر میں نماز پڑھے اور اَذان نہ کہے تو کراہت نہیں ، اِس لیے کہ وہاں کی مسجد کی اَذان اس کے لیے کافی ہے لیکن کہہ لینا مستحب ہے۔
مسئلہ۶: وقت ہونے کے بعد اَذان کہی جائے اگر وقت سے پہلے کہی گئی تو وقت ہونے پر پھر کہی جائے۔ (قاضی خان، شرح وقایہ، عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ۷: اَذان کا وقت وہی ہے جو نماز کا ہے۔
مسئلہ۸: اَذان کا مستحب وقت وہی ہے جو نماز کا مستحب وقت ہے۔
مسئلہ۹: اگر اَوّل وقت اَذان ہوئی اور آخر وقت میں نماز تو بھی سنت ِاَذان ادا ہوگئی۔ (درمختار و ردالمحتار)
مسئلہ۱۰: فرض نمازوں کے سوا کسی نماز کے لیے اَذان نہیں ۔ نہ وتر میں ، نہ جنازہ میں ، نہ عیدین میں ، نہ نذر میں ، نہ سنن و واجب میں ، نہ تراویح میں ، نہ استسقاء میں ، نہ چاشت میں ، نہ کسوف و خسوف میں ، نہ نفل نمازوں میں ۔ (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ۱۱: عورتوں کو اَذان و اِقامت کہنا مکروہ تحریمی ہے اگر کہیں گی گنہگار ہوں گی اور اُن کی اَذان پھر سے کہی جائے۔
مسئلہ۱۲: عورتیں اپنی نماز ادا پڑھیں یا قضا اُس کے لیے اَذان و اقامت مکروہ ہے۔ اگرچہ جماعت سے پڑھیں حالانکہ اُن کی جماعت خود مکروہ ہے۔ (درمختار وغیرہ)
بچے، اندھے، بے وضو کی اَذان کا حکم
مسئلہ۱۳: سمجھدار بچہ اور اَندھے اور بے وضو کی اَذان صحیح ہے۔ (درمختار) مگر بے وضو اَذان کہنا مکروہ ہے۔ (مراقی الفلاح)
مسئلہ۱۴: جمعہ کے دن شہر میں ظہر کی نماز کے لیے اَذان ناجائز ہے اگرچہ ظہر پڑھنے والے معذور ہوں ، جن پر جمعہ فرض نہ ہو۔ (درمختار و ردالمحتار)
[1] اے اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ) ! اس دعوۃِ تامّہ اور صلوٰۃ قائمہ کے مالک تو ہمارے سردار حضرت محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم) کو وسیلہ اور فضیلت اور بہت بلند درجہ عطا فرما اور ان کو مقام محمود میں کھڑا کر جس کا تونے اُن سے وعدہ کیاہے اور ہمیں قیامت کے دن اُن کی شفاعت نصیب فرما بے شک تو وعدہ کے خلاف نہیں کرتا۔
[2] نماز نیند سے بہتر ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع