30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہر روز جتنا وقت فجر کا ہوتا ہے اتنا ہی مغرب کا بھی ہوتا ہے۔
شفق کی سپیدی غائب ہونے کے بعد سے لے کر صبح صادق شروع ہونے تک ہے۔ شفق کی سپیدی غائب ہونے کے بعدایک لمبی پورپ پچھم پھیلی ہوئی سپیدی بھی ہوتی ہے ، اس کا کچھ اعتبار نہیں وہ مثل صبح کاذب کے ہے، اس سے پہلے مغرب کا وقت ختم ہوجاتا ہے اور اس کے ہوتے ہوئے بھی عشاء کا وقت ہوجاتا ہے۔
وہی ہے جو عشاء کا وقت ہے، البتہ عشاء کی نماز سے پہلے نہیں پڑھی جاسکتی کہ ان میں ترتیب فرض ہے اگر قصداً عشاء کی نماز پڑھنے سے پہلے وتر پڑھ لی تو وتر نہ ہوگی، عشاء کے بعد پھر پڑھناہوگا۔ ہاں اگر بھول کر وتر پڑھ لی یا بعد کو معلوم ہوا کہ عشاء کی نماز بے وضو پڑھی تھی اور وتر وضو کے ساتھ تو وتر ہوگئی۔ (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ۲: جس خطہ زمین میں جن دنوں میں عشاء کا وقت آتا ہی نہیں تو وہاں ان دنوں میں عشاء اور وتر کی قضا پڑھی جائے۔ (بہار شریعت)
فجر میں تاخیر مستحب ہے یعنی جب خوب اُجالا ہوجائے تب شروع کرے مگر ایسا وقت ہونا مستحب ہے کہ چالیس سے ساٹھ آیت ترتیل کے ساتھ ([1] ) پڑھ سکے اور سلام پھیرنےکے بعد پھر اِتناوقت باقی رہے کہ اگر نماز میں فساد ظاہر ہو توطہارت کرکے ترتیل سے چالیس سے ساٹھ آیت دوبارہ پڑھ سکے اور اِتنی تاخیر مکروہ ہے کہ آفتاب نکلنے کا شک ہوجائے۔(قاضی خان وغیرہ)
مسئلہ۳: عورتوں کے لیے ہمیشہ فجر کی نماز اول وقت میں مستحب ہے اور باقی نمازوں میں بہتر یہ ہے کہ مردوں کی جماعت کا انتظارکریں ، جب جماعت ہوچکے تب پڑھیں ۔
مسئلہ۴: جاڑے کی ظہر میں جلدی مستحب ہے، گرمی کے دنوں میں دیر کرکے پڑھنا مستحب ہے خواہ تنہا پڑھے یا جماعت کے ساتھ، البتہ اگر گرمیوں میں ظہر کی نمازجماعت اول وقت میں ہوتی ہو تو مستحب وقت کے لیے جماعت چھوڑنا جائز نہیں ، موسم ربیع([2] ) جاڑوں([3] )کے حکم میں ہے اور خریف([4] )گرمیوں کے حکم میں ۔ (ردالمحتار، عالمگیری)
مسئلہ۵: جمعہ کا مستحب وقت وہی ہے جو ظہر کے لیے مستحب ہے۔ (بحر)
مسئلہ۶: عصر کی نماز میں ہمیشہ تاخیر مستحب ہے مگر نہ اتنی تاخیرکہ خود آفتاب کے گولہ میں زردی آجائے کہ اس پر بے تکلف بے غبار و بخار نگاہ جمنے لگے، دھوپ کی زردی کا اعتبار نہیں۔(عالمگیری و ردالمحتار وغیرہ)
مسئلہ۷: بہتر یہ ہے کہ ظہر مثل اول میں پڑھے اور عصر مثل ثانی کے بعد۔ ( غنیہ)
مسئلہ۸: تجربہ سے ثابت ہوا کہ قرصِ آفتاب([5] )میں یہ زردی اس وقت آجاتی ہےجب غروب میں بیس منٹ باقی رہ جاتے ہیں تو اسی قدر وقت کراہت ہے یوہیں بعد طلوع بیس منٹ کے بعد جو از نماز کا وقت ہوجاتا ہے۔(فتاویٰ رضویہ، بہار شریعت)
مسئلہ۹: تاخیر ([6] )سے مراد یہ ہے کہ وقت مستحب کے دو حصے کیے جائیں اور پچھلے حصہ میں نماز ادا کی جائے۔
مسئلہ۱۰: بدلی کے دن ([7] )کے سوا مغرب میں ہمیشہ تعجیل([8] )مستحب ہے اور دو رکعت سے زائد کی تاخیر مکروہ تنزیہی اور اگر بغیر عذر سفر و مرض وغیرہ اتنی تاخیر کی کہ ستارے گتھ ([9] )گئے تو مکروہ تحریمی۔ (درمختار، عالمگیری، فتاویٰ رضویہ)
مسئلہ۱۱: عشاء میں تہائی رات گئے تاخیر مستحب ہے اور آدھی رات تک تاخیر مباح، یعنی جب کہ آدھی رات ہونے سے پہلے فرض پڑھ چکے اور اتنی تاخیر کہ رات ڈھل گئی مکروہ ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع