30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ۷: اگر تین ڈھیلوں سے پوری صفائی نہ ہو تو اور ڈھیلے یوں ہی لے، پانچ، سات، نو وغیرہ طاق عدد۔
مسئلہ۸: پیشاب کے بعد جس کو یہ خیال ہو کہ کوئی قطرہ باقی رہ گیا یا پھر آئے گا اس پر اِستبراء واجب ہے یعنی پیشاب کے بعد ایسا کام کرنا کہ اگر قطرہ رُکا ہو تو گر جائے۔
اِستبراء ٹہلنے سے ہوتا ہے یا زمین پر زور سے پاؤں مارنے سے ہوتا ہے یا اُونچی جگہ سے نیچے اُترنے یا نیچی جگہ سے اُوپر چڑھنے سے ہوتا ہے یا داہنے پاؤں کو بائیں اوربائیں کو داہنے پر رکھ کر زور دینے سے ہوتا ہے یا کھکھارنے یا بائیں کروٹ پر لیٹنے سے ہوتا ہے۔ اِستبراء اتنی دیر تک کرنا چاہیے کہ اطمینان ہوجائے کہ اب قطرہ نہ آئے گا۔ اِستبراء کا حکم مردوں کے لیے ہے عورت بعد فارغ ہونے کے تھوڑی دیر رُکی رہے پھر طہارت کرلے۔
مسئلہ۹: کنکر، پتھر، پھٹا ہوا کپڑا یہ سب ڈھیلے کے حکم میں ہیں ، ا ن سے بھی صاف کرلینا بلا کراہت جائز ہے۔
مسئلہ۱۰: کاغذ سے استنجاء منع ہے چاہے اس پر کچھ لکھا ہو یاسادہ ہو۔
مسئلہ۱۱: مرد کا ہاتھ بے کار ہو تو اس کی بی بی اِستنجا کرائے اور اگر عورت کا ہاتھ بیکار ہو تو شوہر کرائے کوئی اور رشتہ دار بیٹا، بیٹی، بھائی، بہن اِستنجا نہیں کراسکتے بلکہ ایسی صورت میں معاف ہے۔
مسئلہ۱۲: وضو کے بچے ہوئے پانی سے طہارت نہ کرنا چاہیے۔
مسئلہ۱۳: طہارت کے بچے ہوئے پانی کو پھینکنا نہ چاہیے کہ یہ اِسراف ہے بلکہ کسی اور کام میں لائے اور وضو بھی کرسکتا ہے۔
یعنی نماز کے لیے کم سے کم کتنا بدن ڈھکا رہنا ضروری ہے۔
مسئلہ۱: مرد کے لیے ناف کے نیچے سے لے کر گھٹنوں کے نیچے تک عورت (چھپانے کی چیز) ہے، یعنی اتنے بدن کا چھپانا فرض ہے، ناف کا چھپانا فرض نہیں لیکن گھٹنا ڈھکنا فرض ہے۔
مسئلہ۲: آزاد([1]) عورتوں اور خنثٰی مشکل کے لیے سارا بدن عورت ہے، سوائے منہ اور ہتھیلیوں اور پاؤں کے تلووں کے، سر کے لٹکتے ہوئے بال اور گردن اور کلائیاں بھی عورت ہیں اُن کا چھپانا بھی فرض ہے۔
مسئلہ۳: اگر عورت نے اتنا باریک دوپٹا جس سے بال کی سیاہی چمکے اوڑھ کر نماز پڑھی تو نماز نہ ہوگی۔
مسئلہ۴: باندی کے لیے سارا پیٹ اور پیٹھ اور دونوں پہلو اور ناف سے گھٹنوں تک عورت ہے۔
مسئلہ۵: جن اَعضاء کا چھپانا فرض ہے ان میں سے کوئی عضو اگر چوتھائی سے کم کھل گیا تو
نماز ہو جائے گی اور اگر چوتھائی عضو کھل گیا اور فوراً چھپا لیا جب بھی نماز ہوگئی اور اگر بقدر ایک رکن یعنی تین مرتبہ سُبْحٰنَ اللّٰہ کہنے کے برابر کھلا رہا یا قصداً کھولا اگر چہ فوراً چھپالیا نماز جاتی رہی۔
مسئلہ۶: مرد میں اَعضائے عورت نو ہیں : {۱} ذَکر {۲} اُنثیین دونوں مل کر ایک {۳} دُبر {۴، ۵} ہر ایک سرین ایک ایک مستقل عورت ہے اور {۶، ۷} ہر ران علیحدہ علیحدہ ایک عورت ہے {۸} ناف کے نیچے سے لے کر عضو تناسل کی جڑ تک اور اس کی سیدھ میں پیٹھ اور دونوں کروٹوں کی جانب سے مل کر ایک عورت ہے {۹}دُبر و اُنثیین کے درمیان کی جگہ ایک مستقل عورت ہے۔
یہ جو نو اَعضائے عورت گنائے گئے ہیں ان میں سے ہر ایک، ایک عضو ہے، یعنی ایک کا چوتھائی سے کم کھل گیا تو نماز ہو جائے گی۔
[1] آزاد سے مراد جو غلام یا باندی نہ ہو اس کتاب میں جہاں جہاں آزاد کا لفظ آیا ہے اس سے مراد یہی ہے کہ شرعی طور پر غلام نہ ہو۔ ۱۲ (منہ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع