30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ۱۰: شوربا، دودھ، تیل سے دھونے سے پاک نہ ہوگا۔ اس لیے کہ ان سب سے نجاست دور نہ ہوگی۔
مسئلہ۱۱: نجاست اگر دَلدار ہے جیسے پاخانہ، گوبر، خون وغیرہ تو دھونے میں کوئی گنتی کی شرط نہیں بلکہ اس کو دور کرنا ضروری ہے اگر ایک بار دھونے سے دور ہوجائے تو ایک ہی بار دھونے سے پاک ہوجائے گا اوراگر چار پانچ مرتبہ دھونے سے دور ہو تو چار پانچ مرتبہ دھونا پڑے گا، ہاں اگر تین مرتبہ سے کم میں نجاست دور ہوجائے تو تین بار پورا کرلینا مستحب ہے۔
نجاست دور ہونے کے بعد جو رنگ یا بو ر ہ جائے اس کا حکم
مسئلہ۱۲: اگر نجاست دور ہوگئی مگر اس کا کچھ حصہ اثر یا رنگ یا بو باقی ہے تواُسے بھی دور کرنا لازم ہے۔ ہاں اگر اس کا اثر مشکل سے جائے تو اثر دور کرنے کی ضرورت نہیں ، تین مرتبہ دھولیا پاک ہوگیا۔ صابن یا کھٹائی یا گرم پانی سے دھونے کی ضرورت نہیں ۔ (عالمگیری و منیہ وغیرہ)
مسئلہ۱۳: کپڑے یا ہاتھ پر نجس رنگ لگایا یا ناپاک مہندی لگائی تو اتنی مرتبہ دھوئے کہ صاف پانی گرنے لگے پاک ہوجائے گا۔ اگرچہ کپڑے یا ہاتھ پر رنگ باقی ہو۔ (عالمگیری و منیہ وغیرہ)
مسئلہ۱۴: زعفران یا کوئی رنگ کپڑا رنگنے کے لیے گھولا تھا، اس میں کسی بچے نے پیشاب کردیا، یا اور کوئی نجاست پڑگئی تو اس سے اگر کپڑا رنگ لیا تو تین بار دھوڈالیں پاک ہو جائے گا۔
مسئلہ۱۵: کپڑے یا بدن پر ناپاک تیل لگاتھا تین مرتبہ دھونے سے پاک ہوجائے گا، اگرچہ تیل کی چکنائی موجود ہو اس تکلف کی ضرورت نہیں کہ صابن یا گرم پانی سے دھوئے لیکن اگر مردار کی چربی لگی تھی تو جب تک اس کی چکنائی نہ جائے پاک نہ ہوگا۔( مینہ و بہار)
مسئلہ۱۶: اگر چھری میں خون لگ گیا یا سری میں خون بھر گیا اور اُسے آگ میں ڈال دیا یہاں تک کہ خون جل گیا تو چھری اور سری پاک ہوگئی۔ ( منیہ و بزازیہ)
مسئلہ۱۷: نجاست اگر پتلی ہے تو تین مرتبہ دھونے اور تین مرتبہ اچھی طرح نچوڑنے سے پاک ہوگا، اچھی طرح نچوڑنے کا یہ مطلب ہے کہ ہر شخص اپنی طاقت بھر اس طرح نچوڑے کہ اگر پھر نچوڑے تو اس سے کوئی قطرہ نہ ٹپکے، اگر کپڑے کا خیال کرکے اچھی طرح نہیں نچوڑا تو پاک نہ ہوگا۔ (عالمگیری وقاضی خان)
مسئلہ۱۸: اگر دھونے والے نے اچھی طرح نچوڑ لیا مگر ابھی ایسا ہے کہ اگر کوئی دوسرا شخص جو طاقت میں اس سے زیادہ ہے وہ نچوڑے تو دو ایک بوند ٹپک سکتی ہے تو اس کے حق میں پاک اور اس دوسرے کے حق میں ناپاک ہے، اس دوسرے کی طاقت کا اعتبار نہیں ہاں اگر یہ دھوتا اور اتنا ہی نچوڑتا تو پاک نہ ہوتا۔
مسئلہ۱۹: پہلی اور دوسری مرتبہ نچوڑنے کے بعد ہاتھ پاک کرلینا بہتر ہے اور تیسری بار نچوڑنے سے کپڑا بھی پاک ہوگیا اور ہاتھ بھی اور جو کپڑے میں اِتنی تری رہ گئی ہو کہ نچوڑنے سے ایک آدھ بوند ٹپکے تو کپڑا ا ور ہاتھ دونوں ناپاک ہیں ۔
مسئلہ۲۰: پہلی یا دوسری بار ہاتھ پاک نہیں کیا اور اس کی تری سے کپڑے کا پاک حصہ بھیگ گیا تو یہ بھی ناپاک ہوگیا، پھر اگر پہلی بار نچوڑنے کے بعد بھیگا ہے تو اسے دو مرتبہ دھونا چاہیے اور دوسری مرتبہ نچوڑنے کے بعد ہاتھ کی تری سے بھیگا ہے تو ایک مرتبہ دھویا جائے یوہیں اگر کپڑے سے جو ایک مرتبہ دھو کر نچوڑ لیا گیا ہے کوئی پاک کپڑا بھیگ جائے تو یہ دوبار دھویا جائے اور اگر دوسری مرتبہ نچوڑنے کے بعد اس سے وہ پاک کپڑا بھیگا تو ایک بار دھونے سے پاک ہوجائے گا۔
مسئلہ۲۱: کپڑے کو تین مرتبہ دھو کر ہر مرتبہ خوب نچوڑ لیا ہے کہ اب نچوڑنے سے نہ ٹپکے گا، پھر اس کو لٹکا دیا اور اس سے پانی ٹپکا تویہ پانی پاک ہے اور اگر خوب نہیں نچوڑا تھا تو یہ پانی ناپاک ہے۔
مسئلہ۲۲: دودھ پیتے لڑکے اور لڑکی کا ایک ہی حکم ہے ، یعنی ان کا پیشاب کپڑے یا بدن پر لگا تو تین بار دھونا اور نچوڑنا پڑے گا تب پاک ہے۔(عالمگیری وغیرہ)
جو چیز نچوڑنے کے قابل نہیں اس کے پاک کرنے کاطریقہ
مسئلہ۲۳: جو چیز نچوڑنے کے قابل نہیں جیسے چٹائی، جوتا، برتن، وغیرہ اس کو دھو کر چھوڑدیں کہ پانی ٹپکنا بندہوجائے یوں ہی دوباراور دھوئیں ، تیسری مرتبہ جب پانی ٹپکنا بند ہوگیا وہ چیز پاک ہوگئی اسی طرح جو کپڑا اپنی نازکی کے سبب سے نچوڑنے کے قابل نہیں اُسے بھی یوہیں پاک کیا جائے۔
لوہے تانبے چینی وغیرہ کے برتن اور سامان پاک کرنے کا طریقہ
مسئلہ۲۴: اگر ایسی چیز ہو کہ اس میں نجاست جذب نہ ہو جیسے چینی کے برتن یا مٹی کا پرانا استعمالی چکنا برتن یا لوہے تانبے پیتل وغیرہ دھاتوں کی چیزیں ، تو اُسے فقط تین بار دھولینا کافی ہے اس کی بھی ضرورت نہیں کہ اسے اتنی دیر تک چھوڑیں کہ پانی ٹپکنا موقو ف ہوجائے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع