30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ڈال کر کپڑے پر مسح کرے اور جو یہ بھی مضر ہو تو معاف ہے اور اگر اس میں کوئی دوا بھر لی تو اس کا نکالنا ضروری نہیں اس پر سے پانی بہا دینا کافی ہے۔
بالغہ عورت کے آگے کے مقام سے جو خون عادی طور پر نکلتا ہے اور بیماری یا بچہ ہونے کی وجہ سے نہ ہو، اُسے حیض کہتے ہیں اور بیماری سے ہو تو اِستحاضہ اور بچہ ہونے کے بعد ہو تو نفاس کہتے ہیں ۔
مسئلہ۱: حیض کی مدت کم سے کم تین دن تین راتیں ہیں یعنی پورے بہتر گھنٹے ایک منٹ بھی اگر کم ہے تو حیض نہیں اور زیادہ سے زیادہ دس دن دس راتیں ہیں ۔
مسئلہ۲: بہتر 72 گھنٹے سے ذرا بھی پہلے ختم ہوجائے تو حیض نہیں بلکہ اِستحاضہ ہے، ہاں اگر صبح کو کرن چمکتے ہی شروع ہوا اور تین دن تین راتیں پوری ہو کر کرن چمکنے ہی کے وقت ختم ہوا تو حیض ہے اور اس صورت میں بہتر گھنٹہ پور ا ہونا ضروری نہیں البتہ کسی اور وقت شروع ہو تو گھنٹوں ہی سے شمار ہوگا اور چوبیس گھنٹہ کا ایک دن رات لیا جائے گا۔ ( بہار شریعت)
مسئلہ۳: دس رات دن سے کچھ بھی زیادہ خون آیا تو اگر یہ حیض پہلی مرتبہ اُسے آیا ہے تو دس دن تک حیض ہے بعد کا استحاضہ اور اگر پہلے اِسے حیض آچکے ہیں اور عادت دس دن سے کم کی تھی تو عادت سے جتنا زیادہ ہوا استحاضہ ہے، اِسے یوں سمجھو کہ پانچ دن کی عادت تھی اب آیا دس دن تو کل حیض ہے اور بارہ دن آیا تو پانچ دن حیض کے باقی سات دن استحاضہ کے اور اگر ایک حالت مقرر نہ تھی بلکہ کبھی چار دن آیا کبھی پانچ دن آیا تو پچھلی بار جتنے دن آیا اتنے ہی دن حیض کے سمجھے جائیں باقی استحاضہ ہے۔
مسئلہ۴: یہ ضروری نہیں کہ مدت میں ہر وقت خون جاری رہے جبھی حیض ہو بلکہ اگر بعض بعض وقت آئے جب بھی حیض ہے۔
کم سے کم نوبرس کی عمر سے حیض شروع ہوگا اور انتہائی عمر حیض آنے کی پچپن سال کی عمر ہے، اس عمرو الی کو آئسہ اور اس عمر کو سن اِیاس کہتے ہیں ۔ (عالمگیری)
مسئلہ۵: نو برس کی عمر سے پہلے جو خون آیا وہ استحاضہ ہے، یوں ہی پچپن سال کی عمر کے بعد جو خون آئے وہ استحاضہ ہے اگر پچپن برس کی عمر کے بعد خالص خون آئے یا جیسا پہلے آتا تھا اُسی رنگ کا آیا تو حیض ہے۔ (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ۶: حمل والی کو جو خون آیااستحاضہ ہے یوں ہی بچہ ہوتے وقت جو خون آیا اور ابھی بچہ آدھے سے زیادہ باہر نہیں نکلا تو وہ استحاضہ ہے۔
مسئلہ۷: دو حیضوں کے درمیان کم سے کم پورے پندرہ دن کا فاصلہ ضروری ہے یوں ہی نفاس و حیض کے درمیان بھی پندرہ دن کا فاصلہ ضروری ہے تو اگر نفاس ختم ہونے کے بعد پندرہ دن پورے نہ ہوئے تھے کہ خون آیا تو یہ استحاضہ ہے۔
مسئلہ۸: حیض اس وقت شمار کیا جائے گا جب کہ خون فرج خارج میں آگیا تو اگر کوئی کپڑا رکھ لیا ہے جس کی وجہ سے خون فرج خارج میں نہیں آیا داخل ہی میں رُکا رہا تو جب تک کپڑا نہ نکالے گی حیض والی نہ ہوگی، نمازیں پڑھے گی روزہ رکھے گی۔
مسئلہ۹: حیض کے چھ رنگ ہیں : سیاہ، سرخ، سبز، زرد، گدلا ، مٹیلا، سفیدرنگ کی رَطوبت حیض نہیں ۔
مسئلہ۱۰: دس دن کے اندر رَطوبت میں ذرا بھی میلا پن ہے تو وہ حیض ہے اور اگر دس دن رات کے بعد بھی میلا پن باقی ہے تو عادت والی کے لیے جو دن عادت کے ہیں اتنے دن حیض کے اور عادت کے بعد والے استحاضہ اور اگر کچھ عادت نہیں تو دس دن رات تک حیض، باقی استحاضہ ہے۔
مسئلہ۱۱: جس عورت کو عمربھر خون آیا ہی نہیں یا آیا مگر تین دن سے کم آیا تو عمر بھر وہ پاک ہی رہی اور اگر ایک بار تین دن رات خون آیا پھر کبھی نہ آیا تو وہ فقط تین دن رات حیض کے ہیں ، باقی ہمیشہ کے لیے پاک۔
نفاس یعنی وہ خون جو بچہ جننے کے بعد آتا ہے۔ ( متون ) اس کی کمی کی جانب کوئی مدت مقرر نہیں آدھے سے زیادہ بچہ نکلنے کے بعد ایک آن بھی خون آیا تو نفاس ہے اور زیادہ سے زیادہ نفاس کا زمانہ چالیس دن رات ہے۔
مسئلہ۱۲: نفاس کا شمار اس وقت سے ہوگا جب کہ آدھے سے زیادہ بچہ نکل آیا۔
تنبیہ :اس بیان میں جہاں بچہ ہونے کا لفظ آئے گا اس کا مطلب آدھے سے زیادہ بچہ باہر آجانا ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع