30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کس چیز سے تیمم جائز ہے اور کس سے نہیں ؟
تیمم اسی چیز سے ہوسکتا ہے جو جنس زمین سے ہو اور جو چیز زمین کی جنس سے نہیں اس سے تیمم نہیں ہوسکتا۔
مسئلہ۲۴: جو چیز آگ سے جل کر نہ راکھ ہوتی ہے، نہ پگھلتی ہے نہ نرم ہوتی ہے وہ زمین کی جنس سے ہے اس سے تیمم جائز ہے۔ لہٰذا مٹی، گَرد، ریتا، بالو، ([1] ) چونا، سرمہ، ہرتال([2] )، گیرو، ، گندھک، مردہ سنگ ، ([3] )پتھر، زبرجد، فیروزہ، عقیق ، زمرد وغیرہ جواہر سے تیمم جائز ہے اگرچہ ان پر غبار نہ ہو۔
مسئلہ۲۵: جس مٹی سے تیمم کیا جائے اس کا پاک ہونا ضروری ہے یعنی نہ اُس پر کسی نجاست کا اثر ہو، نہ یہ ہو کہ محض شک ہونے سے اثر نجاست جاتا رہا ہو۔
مسئلہ۲۶: جس چیز پر نجاست گری اور ُسوکھ گئی اس سے تیمم نہیں ہوگا اگر چہ نجاست کا اثر باقی نہ ہو، البتہ نماز اِس پر پڑھ سکتے ہیں ۔
مسئلہ۲۷: یہ وہم کہ کبھی نجس ہوئی ہوگی فضول ہے اس کا اعتبار نہیں ۔
مسئلہ۲۸: راکھ سے تیمم جائز نہیں ۔
مسئلہ۲۹: اگر خاک میں راکھ مل جائے اور خاک زیادہ ہو تو تیمم جائز ہے، نہیں تو نہیں ۔
مسئلہ۳۰: بھیگی مٹی سے تیمم جائز ہے جب کہ مٹی غالب ہو۔
مسئلہ۳۱: اگر کسی لکڑی یا کپڑے وغیرہ پر اتنی گرد ہے کہ ہاتھ مارنے سے انگلیوں کا نشان بن جائے تو اس سے تیمم جائز ہے۔
مسئلہ۳۲: گچ کی دیوار([4] )پر تیمم جائز ہے۔(بہار شریعت) وغیرہ
مسئلہ۳۳: پکی اینٹ سے تیمم جائز ہے۔( بہار وغیرہ)
مسئلہ۳۴: زمین یا پتھر جل کر سیاہ ہوجائے اس سے تیمم جائز ہے، یوں ہی اگر پتھر جل کر راکھ ہوجائے اس سے بھی جائز ہے۔
جن چیزوں سے وضو ٹوٹتا ہے، یا غسل واجب ہوتا ہے ان سے تیمم بھی جاتا رہے گا اور علاوہ اِن کے پانی پر قدرت ہونے سے بھی تیمم ٹوٹ جائے گا۔
مسئلہ۳۵: کسی ایسے مقام پر گزرا کہ پانی ایک میل کے اندر تھا تیمم ٹوٹ گیا پانی تک پہنچنا ضروری نہیں ، البتہ سونے کی حالت میں پانی پر گزرنے سے نہ ٹوٹے گا۔
مسئلہ۳۶: مریض نے غسل کا تیمم کیا تھا اور اب اِتنا تندرست ہوگیا کہ نہانا نقصان نہ کرے گا تو تیمم جاتا رہا۔
مسئلہ۳۷: اِتنا پانی ملا کہ اعضائِ وضو صرف ایک ایک بار دھو سکتا ہے تو تیمم جاتا رہا اور اس سے کم تو نہیں ، یوں ہی غسل کے تیمم کرنے والے کو اتنا پانی ملا کہ غسل کے فرائض کو بھی کافی نہیں تو تیمم نہ گیا، ورنہ تیمم جاتا رہا۔
مسئلہ۳۸: کسی نے غسل اور وضو دونوں کے لیے ایک ہی تیمم کیا تھا پھر وضو توڑنے والی کوئی چیز پائی گئی یا اِتنا پانی پایا جس سے صرف وضو کرسکتا ہے یا بیمار تھا اور اب تندرست ہوگیا کہ وضو نقصان نہ کرے گا اور غسل سے ضرر ہوگا تو صرف وضو کے حق میں تیمم جاتا رہا غسل کے حق میں باقی ہے۔
جوشخص موزہ پہنے ہوئے ہو، وہ اگر وضو میں بجائے پاؤں دھونے کے موزوں پر مسح کرے تو جائز ہے۔
مسئلہ۱: جس پر غسل فرض ہے وہ موزوں پر مسح نہیں کرسکتا۔
مسئلہ۲: مسح کرنے کے لیے چند شرطیں ہیں :
{۱} موزے ایسے ہوں کہ ٹخنے چھپ جائیں اس سے زیادہ ہونے کی ضرورت نہیں اور اگر دو ایک اُنگل کم ہو جب بھی مسح درست ہے ایڑی نہ کھلی ہو۔
{۲}پاؤں سے چپٹا ہو کہ اس کو پہن کر آسانی کے ساتھ خوب چل پھر سکیں ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع