30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ۱۸: پانی میں دودھ پڑ گیا کہ دودھ کے ایسا رنگ ہوگیا تو وضو و غسل جائز نہیں ۔
مسئلہ۱: کنویں میں کسی آدمی یا جانور کا پیشاب یا بہتا ہوا خون یا تاڑی([1]) یا سینڈھی([2]) یا کسی قسم کی شراب کا قطرہ یا ناپاک لکڑی یا نجس کپڑا یا اور کوئی ناپاک چیز گری تو اس کا کل پانی نکالا جائے۔ (خانیہ وغیرہ )
کن باتوں سے کنواں ناپاک ہوجاتا ہے
جن چوپایوں کا گوشت نہیں کھایا جاتا اُن کے پاخانہ پیشاب گرنے سے کنواں ناپاک ہوجائے گا، یونہی مرغی اور بط کی بیٹ سے ناپاک ہو جائے گا اور ان سب صورتوں میں کل پانی نکالاجائے ۔
مسئلہ۲: جس کنویں کا پانی ناپاک ہوگیا اس کا ایک قطرہ بھی اگر پاک کنویں میں پڑجائے تو یہ بھی ناپاک ہوجائے گا جو حکم اس کا تھا وہی اس کا ہوگیا یوں ہی ڈول رسی گھڑ ا جن میں ناپاک کنوئیں کا پانی لگا تھا پاک کنوئیں میں پڑے وہ بھی ناپاک ہوگیا۔
مسئلہ۳: کب کتنا پانی نکالا جائے کہ کنواں پاک ہوجائے
کنویں میں آدمی، بکری یا کتا یا اَور کوئی دَموی جانور ان کے برابر یا ان سے بڑا گر کر مر جائے تو کل پانی نکالا جائے۔
مسئلہ۴: مرغا، مرغی، بلی، چوہا، چھپکلی یا اور کوئی دموی جانور اس میں مر کر پھول جائے یا پھٹ جائے تو کل پانی نکالا جائے۔
مسئلہ۵: اگر یہ سب باہر مرے پھر کنویں میں گرے جب بھی یہی حکم ہے، یعنی کل پانی نکالا جائے۔
مسئلہ۶: چھپکلی یا چوہے کی دم کٹ کر کنویں میں گر ی اگرچہ پھولی پھٹی نہ ہو کل پانی نکالاجائے لیکن اگر اس کی جڑ میں موم لگادیا تو بیس ڈول نکالا جائے ۔
مسئلہ۷: بلی نے چوہے کو پکڑا اور زخمی کردیا پھر اس سے چھوٹ کر کنویں میں گرا کل پانی نکالا جائے۔
مسئلہ۸: کچا بچہ یا جو بچہ مردہ پیدا ہوا کنویں میں گر جائے تو سب پانی نکالا جائے اگرچہ گرنے سے پہلے نہلا دیا گیا ہو۔
مسئلہ۹: سور کنویں میں گراچاہے زندہ ہی نکل آیا کل پانی نکالا جائے۔
مسئلہ۱۰: سور کے سوا کوئی اور جانور جس کا جوٹھا ناپاک ہے( جیسے شیر، بھیڑیا، گیدڑ، کتا) کنویں میں گرا اوراُس کے بدن پر کسی نجاست کا لگا ہونا یقینی طور پر معلوم نہیں اور اس کا منہ پانی میں نہ پڑا تو پانی پاک ہے اس کا استعمال جائز ہے مگر احتیاطاً بیس ڈول نکالنا بہتر ہے۔
مسئلہ۱۱: کوئی جانور جس کا تھوک نجس ہے( جیسے کتا، شیر، چیتا، گیدڑ، بھیڑیا)اگر کنویں میں گرا اور اس کا منہ پانی سے لگا تو کنواں ناپاک ہوگیاکل پانی نکالا جائے۔
مسئلہ۱۲: گدھا یا خچر کنویں میں گرا اور زندہ نکل آیا تو اس کا منہ اگر پانی میں پڑا تو ناپاک ہوگیا، کل پانی نکالا جائے اور اگر منہ نہ پڑا تو بیس ڈول نکالیں ۔ (قاضی خان وغیرہ )
مسئلہ۱۳: چُھٹی ہوئی مرغی کنویں میں گری اور زندہ نکل آئی تو چالیس ڈول نکالا جائے۔
مسئلہ۱۴:جن جانوروں کا جوٹھا پاک ہے جیسے بھیڑ بکری گائے بھینس، ہرن، نیل گاؤ ان میں سے کوئی کنویں میں گرے اور زندہ نکل آئے تو کنواں پاک ہے لیکن بیس ڈول نکال ڈالیں۔(قاضی خان وغیرہ )
مسئلہ۱۵: جن جانوروں کا جوٹھا مکروہ ہے( جیسے بلی یا چوہا یا سانپ یا چھپکلی) کنویں میں گرےاور زندہ نکل آئے تو بیس ڈول نکالا جائے، کوئی جانور چھوٹا ہو یا بڑا اگر کنویں میں گرے اور اس کے بدن پر نجاست کا لگا ہونا یقینی طور پر معلوم ہو تو کنواں ناپاک ہوجائے گا اور کل پانی نکالا جائے گا یا جیسے مرغی نے پاخانہ کردیا اور فوراً پاؤں صاف ہونے سے پہلے کنویں میں گری، کنواں نجس ہوگیا کل پانی نکالا جائے یا جیسے چوہے نے پاخانہ کے حوض میں غوطہ کھایا اور فوراً کنویں میں گرا ، کل پانی نکالا جائے کیونکہ کنواں نجاست پڑنے سے ناپاک ہوا نہ کہ چوہے مرغی کے گرنے سے۔
مسئلہ۱۶: کنویں میں وہ جانور گرا جس کا جوٹھا پاک ہے( جیسے بکری وغیرہ) یا جوٹھا مکروہ ہے (جیسے مرغی چوہا وغیرہ) اور پانی کچھ نہ نکالا اور وضو کرلیا تو وضو ہوجائے گا۔ (ردالمحتار، قاضی خان وغیرہ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع