30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{۷}زیادہ پانی خرچ کرنا
{۸}اتنا کم پانی خرچ کرنا کہ سنتیں ادا نہ ہوں
{۹}ایک ہاتھ سے منہ دھونا
{۱۰}منہ پر پانی مارنا
{۱۱}وضو کے قطروں کو کپڑے یا مسجد میں ٹپکنے دینا
{۱۲}وضو کی کسی سنت کو چھوڑ دینا
نواقض وضو یعنی وضو توڑنے والی چیزیں
{۱}پاخانہ {۲} پیشاب{۳}پیچھے سے ہوا کا نکلنا{۴} کیڑا اور {۵} پتھری کا آگے یا پیچھے کے مقام سے نکلنا {۶} وَدی([1] ) اور {۷} مذی([2] ) اور{۸} منی کا نکلنا {۹}خون اور پیپ اور زرد پانی کا نکل کر بہنا {۱۰} کھانے یا پانی یا پت یا جمے خون کی منہ بھر قے ([3] ) {۱۱} جنون([4] ) {۱۲} غشی ، بے ہوشی([5] ){۱۳}اتنا نشہ کہ چلنے میں پاؤں لڑکھڑائیں ، علاوہ نمازِ جنازہ کے کسی نماز میں {۱۴} قہقہہ([6] ){۱۵}نیند([7] ) {۱۶}مباشرتِ فاحشہ ( یعنی مرد اپنے آلہ کو تندی کی حالت میں عورت کی شرمگاہ یا کسی مرد کی شرمگاہ سے ملائے یا عورت عورت آپس میں ملائیں اور کپڑا وغیرہ بیچ میں نہ ہو) ان سب چیزوں سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
مسئلہ۴: دکھتی ہوئی آنکھ سے جو پانی یا کیچڑ بہتا ہے، اس سے وضوٹوٹ جاتا ہے اوروہ نجس بھی ہے جس جگہ لگ جائے اس کا پاک کرنا ضروری ہے۔
مسئلہ۵: نماز میں اتنی آواز سے ہنسنا کہ خود اس نے سنا پاس والوں نے نہ سنا تو وضو نہ ٹوٹا، البتہ نماز ٹوٹ گئی۔
مسئلہ۶: اگر مسکرایا یعنی دانت نکلے اور آواز بالکل نہ نکلی تو اس سے نہ وضو جائے نہ نماز۔
مسئلہ۷: جو رَطوبت آدمی کے بدن سے نکلے اور وضو نہ توڑے وہ نجس نہیں ، جیسے وہ خون جو بہہ([8] )کر نہ نکلے یا تھوڑی قے جو منہ بھر([9] ) نہ ہو وہ پاک ہے۔
مسئلہ۸: رال، تھوک، پسینہ، میل پاک ہیں یہ چیزیں اگربدن یا کپڑے میں لگی ہوں تو نماز ہو جائے گی لیکن صاف کر لینا اچھا ہے۔
مسئلہ۹: جو آنسو رونے میں نکلتے ہیں نہ ان سے وضو ٹوٹے نہ وہ نجس۔
مسئلہ۱۰: گھٹنا یا ستر کھلنے سے اپنا یا دوسرے کا ستر دیکھنے سے یا چھونے سے وضو نہیں جاتا۔
مسئلہ۱۱: دودھ پیتے بچے نے قے کی اگر وہ منہ بھر ہے تو نجس ہے درہم سے زیادہ جگہ میں جس چیز کو لگ جائے ناپاک کردے گا، ([10] ) لیکن اگر یہ دودھ معدہ سے نہیں آیا بلکہ سینہ تک پہنچ کر پلٹ آیا تو پاک ہے۔
مسئلہ۱۲: وضو کے بیچ میں وضو ٹوٹ گیا پھر سے وضو کرے حتی کہ اگر چلو میں پانی لیا ہو پھر ہوا نکلی یہ پانی بے کار ہوگیا اس سے کوئی عضو نہ دُھوئے۔
غسل کی نیت کرکے پہلے دونوں ہاتھ گٹوں تک تین مرتبہ دھوئے پھر استنجے کی جگہ دھوئے، خواہ نجاست لگی ہو یا نہ لگی ہو پھر بدن پر جہاں کہیں نجاست لگی ہو ، اس کو دھوئے پھر نماز کے ایسا وضو کرے مگر پاؤں نہ دھوئے ہاں ا گر چوکی یا تختے یا پتھر پر نہائے تو پاؤں بھی دھولے، پھربدن پر تیل کی طرح پانی چپڑ لے پھر تین مرتبہ داہنے مونڈھے پر پانی بہائے پھر بائیں مونڈھے پر تین بار پھر سر پر اور تمام بدن پر تین بار پھر نہانے کی جگہ سے الگ ہوجائے اگر وضو کرنے میں پاؤں نہیں دھوئے تھے تو اب دھولے اور نہانے میں قبلہ رخ نہ ہو اور تمام بدن پر ہاتھ پھیرلے اور ملے اور ایسی جگہ نہائے کہ کوئی نہ دیکھے اور اگر یہ نہ ہوسکے تو ناف سے گھٹنے تک کے اعضاء کا ستر تو ضروری ہے، اگر اتنا بھی ممکن نہ ہو تو تیمم کرے اور نہانے میں کسی قسم
[1] وَدی:وہ سفید رَطوبت جو پیشاب کے ساتھ نکلتی ہے۔ (۱۲منہ)
[2] مَذی:وہ سفید رَطوبت جو شہوت کی حالت میں اِنزال سے پہلے نکلتی ہے۔ (۱۲منہ)
[3] پتلے خون کی تھوڑی سی قے بھی وضو توڑ دے گی۔ (۱۲منہ)
[4] جنون: یعنی پاگل ہوجانا۔ (۱۲منہ)
[5] بے ہوشی: خواہ نشہ کھانے سے ہو یا بیماری سے۔ (۱۲منہ)
[6] قہقہہ: یعنی اتنی زور سے ہنسنا کہ آس پاس والے سن لیں اس سے نماز اور وضو دونوں جاتے رہیں گے۔ (۱۲منہ)
[7] نیند :پوری طرح سوجانا، لہٰذا اونگھنے یا بیٹھے بیٹھے جھونکے لینے سے وضو نہیں جائے گا۔ (۱۲منہ)
[8] وہ خون جو بہہ کر نہ نکلے وہ پاک ہے جیسے سوئی چبھوئی اورخون چمک کر رہ گیا باہر نکل کر بہا نہیں تو وضو نہ جائے گا۔ (۱۲منہ)
[9] $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع