30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ھٰھُنَا قَدْ تَمَّتِ الْعَقَائِدُ السُّنَّۃِ السُّنِّیَّۃِ بِفَضْلِہٖ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی
وَ یَتْلُوْاھَا کِتَابُ الصَّلٰوۃ
ایمان اور عقیدہ صحیح کرنے کے بعد سب فرضوں سے بڑا فرض نماز ہے قرآن و حدیث میں اس کی بہت تاکید آئی جو نماز کو فرض نہ مانے یا ہلکا جانے وہ کافر ہے اور جو نہ پڑھے بڑا گنہگار آخرت میں جہنم میں ڈالا جائے گا، بادشاہِ اسلام اس کو قید کردے۔
مسئلہ : کس عمر میں بچہ کو نماز سکھائی جائے ؟
بچہ جب سات برس کا ہوجائے تو اُسے نماز پڑھنا بتایا جائے ا ور جب دس برس کا ہو تو مار کر پڑھوائی جائے۔ قبل اِس کے کہ ہم نماز پڑھنے کا طریقہ بتائیں اِن چھ باتوں کو بتاتے ہیں جن کے بغیر نماز شروع نہیں ہوسکتی ان چھ باتوں کو شرائط نماز کہتے ہیں ۔
{۱} طہارت {۲} ستر عورت {۳} وقت {۴} استقبال قبلہ
{۵} نیت {۶} تکبیر تحریمہ
اس کا مطلب یہ ہے کہ نمازی کے بدن، کپڑے اور نماز کی جگہ پر کوئی نجاست جیسے پیشاب، پاخانہ، خون، شراب، گوبر، لید، مرغی کی بیٹ وغیرہ نہ لگی ہو اور نمازی بے غسل بے وضو بھی نہ ہو۔
یعنی مرد کا بدن ناف سے لے کر گھٹنوں تک ڈھکا ہو، گھٹنے کھلے نہ رہیں اور عورت کا تمام بدن ڈھکا ہو سوائے منہ اور ہتھیلی کے اور ٹخنوں تک پیر کے اور ٹخنے بھی ڈھکے رہیں ۔
یعنی جس نماز کے لیے جو وقت مقرر ہے وہ نماز اسی وقت پڑھی جائے، جیسے فجر کی نماز صبح صادق سے لے کر سورج نکلنے سے پہلے تک پڑھی جائے اور ظہر کی سورج ڈھلنے کے بعد سے ہر چیز کے سایہ کے دگنے ہونے تک علاوہ اس کے سایہ اصلی کے اور عصر کی سایہ کے دوگنا ہونے کے بعد سے سورج ڈوبنے تک اور مغرب کی سورج ڈوبنے کے بعد سے سفید ی غائب ہونے تک اور عشاء کی سفیدی غائب ہونے کے بعد سے صبح صادق شروع ہونے سے پہلے تک۔
یعنی کعبہ شریف کی طرف منہ کرنا۔
یعنی جس وقت کی جو نماز فرض یا واجب یا سنت یا نفل یا قضا پڑھنا ہو دل میں اس کا پکا ارادہ کرنا کہ یہ نماز پڑھ رہا ہوں ۔
یعنی اَللّٰہُ اَکْبَر کہنا، یہ آخری شرط ہے کہ اس کے کہتے ہی نماز شروع ہوگئی اب اگر کسی سے بولا یا کچھ کھایا پیا یاکوئی کام خلاف نماز کے کیا تو نماز ٹوٹ جائے گی۔
پہلی پانچ شرطوں کا تکبیر تحریمہ سے پہلے اور ختم نماز تک موجود رہنا ضروری ہے ورنہ نماز نہ ہوگی۔
جب وضو کرنا ہو تو دل میں وضو کرنے کا اراد ہ کرکے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم کہہ کے دونوں ہاتھ گٹوں تک دھوئے، پھر مسواک کرے داہنے ہاتھ سے، پھر تین بار کلی کرے خوب اچھی طرح کہ حلق تک دانتوں کی جڑ زبان کے نیچے پانی پہنچے اگر دانت یا تالو میں کوئی چیز چپکی یا اَٹکی ہو تو چھڑائے پھر داہنے ہاتھ سے تین بار ناک میں پانی چڑھائے کہ اندر ناک کی ہڈی تک پانی پہنچے اور بائیں ہاتھ سے ناک صاف کریں اس کی چھوٹی انگلی ناک کے اندر ڈال کر، پھر دونوں ہاتھوں میں پانی لے کر تین بار منہ دھوئے اس طرح کہ بال جمنے کی جگہ سے لے کر ٹھوڑی تک اور دا ہنی کنپٹی سے بائیں تک کوئی جگہ چھوٹنے نہ پائے اور داڑھی ہو تو اُسے بھی دھوئے اور اس میں خلال ([1] ) بھی کرے۔ لیکن احرام باندھے ہو تو خلال نہ کرے، پھر کہنیوں
[1] داڑھی کا خلال اس طرح پر ہوتا ہے کہ انگلیوں کو حلق کی طر ف سے ڈاڑھی میں ڈالے اور باہر کو نکالے۔ (۱۲منہ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع