دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qanoon-e-Shariat | قانون شریعت

book_icon
قانون شریعت

طعن یا اُن سے بداعتقادی ناجائزواللّٰہ(عَزَّوَجَلَّ) ورسول(صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے خلاف ہے۔([1] )

وِلایت کا بیان

وَلی کی تعریف

          وَلی وہ مومن صالح ہے جس کو معرفت و قربِ الٰہی کا ایک خاص درَجہ ملا ہے، اکثر شریعت کے مطابق ریاضت و عبادت کرنے کے بعد ولایت کا درَجہ ملتا ہے اور کبھی ابتداء ًبلا ریاضت و مجاہدہ کے بھی مل جاتا ہے،  تمام اولیاء میں سب سے بڑا درَجہ حضرات خلفائے اَربعہ([2] ) (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم) کا ہے،  اولیاء ہر زمانہ میں ہوتے ہیں اور قیامت تک ہوتے رہیں گے لیکن اُن کا پہچاننا آسان نہیں۔ حضراتِ اولیاء کو اللّٰہ تعالیٰ نے بڑی طاقت دی ہے جو اُن سے مدد مانگے ہزاروں کوس کی دوری سے اس کی مدد فرماتے ہیں۔

اولیاء اللّٰہ کا علم وقدرت

          ان کا علم نہایت وسیع ہوتا ہے حتی کہ بعضوں کو ماکان وما یکون([3] )  و لوحِ محفوظ پر اطلاع دیتے ہیں، ([4] )مرنے کے بعد ان کے کمالات اور قوتیں([5] )اور بڑھ جاتی ہیں اُن کے مزار کی حاضری فیض سعادت اور برکت کا سبب ہے،  اُن کو ایصالِ ثواب امر مستحب اور باعث برکت ہے،  اولیاء کرام کاعرس([6] ) یعنی ہر سال وصال([7] )کے دن قرآن خوانی فاتحہ،  وعظ ایصالِ ثواب اچھی چیز ہے اور ثواب کا کام ہے،  رہے



[1]     قرآن و حدیث میں صحابیوں کی بہت فضیلت آئی ، اللّٰہ تعالیٰ نے ان کو خیر امت کا لقب دیا اور فرمایا کہ ہم ان سے راضی اور وہ ہم سے راضی ہیں ۔کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (پ۴،آل عمران:۱۱۰)  وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُہٰجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُمْ بِاِحْسَانٍ رَّضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہ۔  ( پارہ ۱۱ رکوع ۲) ۔   (التوبۃ :۱۰۰)  ۔ حضور ( صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)  فرماتے ہیں : لا تسبوا اصحابی فلو ان احد کم ان انفق مثل احد ذھبا ما بلغ مد احدھم  ولا نصفہیعنی میرے اصحاب کو برا نہ کہو ( خدا کے یہاں ان کی اتنی مقبولیت ہے)  کہ اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا خدا کی راہ میں خرچ کرے تو ان کے آدھے مُد کے برابر بھی نہ ہوگا۔ ( بخاری ،کتاب فضائل الصحابۃ،باب قول النبی لو کنت متخذا خلیلا،۲/ ۵۲۲، حدیث: ۳۶۷۳) اور فرمایا:اللّٰہ اللّٰہ فی اصحابی لا تتخذوھم غرضا بعدی فمن احبھم فبحبی احبھم ومن ابغضہم فببغضی ابغصھم ومن اذاھم فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اللّٰہ ومن اذی اللّٰہ یوشک ان یاخذہیعنی اللّٰہسے ڈرواللّٰہ سے ڈرو میرے اصحاب کے بارے میں میرے بعد ان کو نشانہ نہ بنانا کہ جو انہیں دوست رکھتا ہے وہ میری محبت کی وجہ سے دوست رکھتا ہے اور جو ان سے بغض رکھتا ہے وہ میرے ساتھ بغض رکھنے کی وجہ سے ان سے بغض رکھتا ہے اور جس نے ان کو ایذا دی اس نے مجھ کو ایذا دی اور جس نے مجھ کو ایذا دی اس نے بلاشک اللّٰہ کو ایذادی اور جس نے اللّٰہ تعالیٰ کو ایذا دی قریب ہے کہ اللّٰہ اسے پکڑ ے گا۔  (۱۲منہ)   (ترمذی،کتاب المناقب،باب فی من سب اصحاب النبی،۵/ ۴۶۳،حدیث:۳۸۸۸)

[2]     مومن: مسلمان صحیح العقیدہ۔ صالح: پرہیز گار، نیک۔ معرفت: علم، پہچان۔ قرب: نزدیکی، مقبولیت۔ خلفائے اربعہ: چاروں خلیفہ یعنی حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان ، حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُم۔  (۱۲منہ)

[3]     وسیع: پھیلا ہوا۔ ماکان وما یکون: جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہوگا۔ (۱۲منہ)

[4]     حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی قُدِّسَ سِرُّہٗ اپنی کتاب’’ تکمیل الایمان ‘‘میں تحریر فرماتے ہیں : مشائخ صوفیہ قدس اسرار ھم  گویند کہ تصرف بعضے اولیا در عالم برزخ دائم وباقی است و توسل واستمداد بارواح مقدسہ ایشاں ثابت و موثر یعنی اولیاء انتقال کے بعد بھی تصرف کرتے ہیں ان کو وسیلہ بنانا اور ان سے مدد مانگنا ثابت و موثر ہے۔  (تکمیل الایمان،دراستمداد قبور،ص۱۲۳)  امام علامہ تفتازانی   (رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ) نے’’ شرح مقاصد‘‘ میں اہلسنّت کے نزدیک علم و اِدراک موتی ٰکی تحقیق کرکے فرمایا :  وھذا ینتفع  بزیارۃ الابرار والاستعانۃ بنفوس الاخیاریعنی اس لیے اولیاء کی قبروں کی زیارت اوربزرگوں کی روحوں سے مد د مانگنا نفع دیتا ہے۔  (شرح المقاصد،المقصد الرابع فی الجواہر،المبحث الرابع،۲/ ۴۸۰)   حضرت امام غزالی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں :ھر کہ استمداد  کردہ میشود بوی در حیات استمداد  کردہ میشود  بوے بعد از وفاتیعنی جس سے زندگی میں مدد مانگ سکتے ہیں اس سے مرنے کے بعد بھی مدد مانگ سکتے ہیں ۔ (شرح مشکوۃ)   (اشعۃ اللمعات،کتاب الجنائز،باب زیارۃ القبور،۱/ ۷۶۲)  نیز انہیں امام غزالی  (رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالَی عَلَیْہ) نے اپنے رسالہ لدنیہ میں لکھا ہے کہ قال رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُْ َعَلَیْہِ وَسَلَّم:’’ما من عبد الا ولقلبہ عینان‘‘ وھما عینان یدرک بھما الغیب فاذا اراد اللّٰہ تعالٰی بعبد خیرا فتح عینی قلبہ لیری ما ھو غائب عن بصرہ وھذا الروح لایموت لموت البدن۔یعنی جب اللّٰہ تعالیٰ بندے کے دل کی آنکھیں کھول دیتا ہے تو وہ غیب کی باتیں جان لیتا ہے اور یہ روح بدن کے مرنے سے مرتی نہیں ۔ ۱۲منہ

                                                                      (مجموعۃ رسائل الامام الغزالی، الرسالۃ اللدنیۃ، ص۲۲۶)

[5]     یہی شیخ دہلوی   (عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی) $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن