دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qanoon-e-Shariat | قانون شریعت

book_icon
قانون شریعت

وقت جنت اور دوزخ کے بیچ میں موت مینڈھے کی شکل میں  ([1] )لا کر کھڑی کی جائے گی پھر ایک پکارنے والا جنت والوں کو پکارے گا وہ ڈرتے ہوئے جھانکیں گے کہ ایسا نہ یہاں سے نکلنے کا حکم ہو پھر جہنمیوں کو پکارے گا وہ خوش ہو کر جھانکیں گے شاید اس مصیبت سے چھٹکارے کا حکم ہو پھر اُن سے پوچھے گا کہ اِسے پہچانتے ہو سب کہیں گے ہاں یہ موت ہے،  پھر وہ ذبح کردی جائے گی اور کہے گا اے جنت والو! ہمیشگی ہے اب مرنا نہیں اور اے دوزخیو! ہمیشگی ہے اب مرنا نہیں اس وقت جنتیوں کی خوشی پر خوشی ہوگی اور جہنمیوں کو غم کے اُوپرغم۔

نَسْئَلُ اللّٰہَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فِی الدِّیْنِ وَالدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃ۔

ایمان و کفر کا بیان

ایمان کیا ہے؟   

             ایمان یہ ہے کہ اللّٰہ(عَزَّوَجَلَّ) ورسول(صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)  کی بتائی ہوئی تمام باتوںکا یقین کرے اور دل سے سچ جانے۔

کفر کیا ہے؟ 

            اگر کسی ایسی ایک بات کا بھی انکار ہے جس کے بارے میں یقینی طور پر معلوم ہے کہ یہ اسلام کی بات ہے تو یہ کفر ہے۔ جیسے قیامت،  فرشتے،  جنت،  دوزخ،  حساب کو نہ ماننا یا نماز،  روزہ،  حج،  زکوٰۃ کو فرض نہ جاننا۔ قرآن کو اللّٰہ(عَزَّوَجَلَّ)کا کلام نہ سمجھنا۔ کعبہ قرآن یا کسی نبی یافرشتہ کی توہین کرنی یا کسی سنت کو ہلکا بتانا،  شریعت کے حکم کا مذاق اڑانا اور ایسی ہی اسلام کی کسی معلوم و مشہور بات کا انکار کرنایا اُس میں شک کرنا یقینا کفر ہے۔ مسلمان ہونے کے لیے ایمان و اعتقاد کے ساتھ اِقرار بھی ضروری ہے،  جب تک کوئی مجبوری نہ ہو مثلاً منہ سے بولی نہیں نکلتی یا زبان سے کہنے میں جان جاتی ہے یا کوئی عضو کاٹا جاتا ہے تو اُس وقت زبان سے اِقرار کرنا ضروری نہیں بلکہ صرف زبان سے خلافِ اسلام بات بھی جان بچانے کے لیے کہہ سکتا ہے لیکن نہ کہنا ہی اچھا ہے اور ثواب ہے۔ اِس کے سوا جب کبھی زبان سے کلمہ کفر نکالے گا کافر سمجھا جائے گا،  اگرچہ یہ کہے کہ خالی زبان سے کہا دل سے نہیں،  اسی طرح وہ باتیں جو کفر کی نشانی ہیں جب اُن کو کرے گا کافر سمجھا جائے گا جیسے جنیو([2] )ڈالنا،  چٹیا رکھنا،  صلیب لٹکانا۔

کتنی بات سے آدمی مسلمان ہوتا ہے ؟ 

            مسلمان ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ صرف دین اسلام ہی کو سچا مذہب مانے اور کسی ضروری دینی کا منکر نہ ہو اور ضروریاتِ دین سے کسی ضروری دینی کے خلاف عقیدہ نہ رکھتا ہو،  اگرچہ تمام ضروریاتِ دین کا اس کو علم نہ ہو لہٰذا بالکل لٹھ گنوار جاہل جو اسلام اور پیغمبر ِاسلام(صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کو حق مانے اور اسلامی عقیدوں کے خلاف کوئی عقیدہ نہ رکھے،  چاہے کلمہ بھی صحیح نہ پڑھ سکتا ہو وہ مسلمان ہے مومن ہے کافر نہیں،  البتہ نماز روزہ حج وغیرہ اَعمال کے ترک سے گنہگار ہوگا لیکن مومن رہے گا اس لیے کہ اَعمال ایمان میں داخل نہیں۔

 عقیدہ۲۲جو چیز بے شبہ حرام ہو،  اُس کو حلال جاننا اور جو یقینا حلال ہو اس کو حرام جاننا کفر ہے جب کہ یہ حرام و حلال ہونا معلوم ومشہور ہو یا یہ شخص اُس کو جانتا ہو۔

شرک[3]کے معنی

            شرک کے معنی ہیں اللّٰہ(عَزَّوَجَلَّ) کے سوا کسی اور کو خدا جاننا یا عبادت کے لائق سمجھنا اور یہ کفر کی سب سے بدتر قسم ہے اس کے سوا کیسا ہی سخت کفر کیوں نہ ہو حقیقتاً شرک نہیں،  کسی کافر کی مغفر ت نہ ہوگی،  کفر کے سوا سب گناہ  اللّٰہ تعالیٰ کی مشیت پر ہیں جسے چاہے بخش دے۔

 عقیدہ۲۳: کبیرہ گناہ کرنے سے مسلمان کافر نہیں ہوتا بلکہ مسلمان ہی رہتا ہے اگر بلا توبہ کیے مر جائے تو بھی اس کو جنت ملے گی،  گناہ کی سزا بھگت کر یا معافی پا کر اور یہ معافی اللّٰہ تعالیٰ محض اپنی مہربانی سے دے یا حضورعَلَیْہِ السَّلَام کی شفاعت سے۔

مسئلہ۱:کافر کے لیے دعائے مغفرت کا حکم

            جو کسی مرے ہوئے کافر کے لئے مغفرت کی دعا کرے یا کسی کافر مرتد([4] )کو مرحوم یا مغفور یا بہشتی([5] )  کہے یا کسی ہندو مردہ کو بیکنٹھ باشی([6] )کہے وہ خود کافرہے۔

 عقیدہ۲۴:   مسلمان کو مسلمان جاننا اور کافر کو کافر جاننا ضروری ہے البتہ کسی خاص آدمی کے کافر ہونے کا یا مسلمان ہونے کا یقین اُس وقت تک نہیں کیا جاسکتا جب تک کہ شرعی دلیل سے خاتمہ کا حال معلوم نہ ہوجائے کہ کفر پر مرا یا اسلام پر مرا لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ جس نے یقینا کفر کیا ہو اُس کے کافر ہونے میں شک کیا جائے اس لیے کہ یقینی کافر کے کفر میں شک کرنا خود کافر ہونا ہے اس لیے کہ شریعت کا حکم ظاہر کے لحاظ سے ہوتا ہے البتہ قیامت میںفیصلہ حقیقت کے اعتبار سے ہوگا۔ اس کویوں سمجھو کہ کوئی کافر یہودی نصرانی ہندو مرگیا تو یہ یقین کے ساتھ نہیں کہا جاسکتا کہ کفر پر مرا مگر ہم کو اللّٰہ ورسول کا حکم یہی ہے کہ اُسے کافر  ہی جانیں اورکافر ہی کا سا برتاؤ اس کے ساتھ کریں،  جس طرح جو ظاہراً مسلمان ہے اور اس کا



[1]     دُنبے کی شکل میں

[2]     ایک مخصوص دھاگہ جسے کفار مقدس جان کر گلے اور بغل میں باندھتے ہیں ۔

[3]     قال العلامۃ التفتازانی  (رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ) :الاشراک ھو اثبات الشریک فی الالوہیۃ بمعنی وجوب الوجود کما للمجوس اواستحقاق العبادۃ کما لعبدۃ الاصنام۔شرح عقائد نسفی۔ (۱۲منہ)  (شرح العقائد النسفیۃ،ص۲۰۱)

[4]     وہ شخص ہے کہ اسلام کے بعد کسی ایسے امر کاانکار کرے جوضروریاتِ دین سے ہو یعنی زبان سے کلمہ کفر بکے جس میں تاویل صحیح کی گنجائش نہ ہو۔یوہیں بعض افعال بھی ایسے ہیں جن سے کافر ہوجاتاہے مثلاً بت کوسجدہ کرنا،مصحف شریف کونجاست کی جگہ پھینک دینا۔  (بہارشریعت، حصہ۹ ،۲/۱۶۳)   

[5]     جنتی

[6]     جنت میں رہنے والا۔             

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن