30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
)بنے ہوئے ہیں، اس کی تہ مشک کی ہے اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے، جو اس کا پانی ایک بار پئے گا کبھی پیاسا نہ ہوگا اس پر پانی پینے کے برتن ستاروں سے بھی گنتی میں زیادہ، اس میں جنت سے دو نالے گرتے ہیں، ایک سونے کا ہے اور دوسرا چاندی کا۔
اللّٰہ تعالیٰ اپنے حبیب محمد مصطفیٰصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کو مقامِ محمود دے گا، جہاںاگلے پچھلے سب آپ کی تعریف کریں گے۔ ( بڑائی بیان کریں گے)
لواء الحمد کیا ہے؟
یہ ایک جھنڈا ہے جو ہمارے آقا محمدصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کو قیامت کے دن ملے گا، جس کے نیچے حضرت آدمعَلَیْہِ السَّلَام سے لے کر قیامت تک جتنے مسلمان ہوئے نبی ولی سب ہی جمع ہوں گے۔
جنت ایک بہت بڑا اچھا گھر ہے جس کو اللّٰہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے بنایا ہے، اس کی دیوار سونے چاندی کی اینٹوں اور مشک کے گارے سے بنی ہے، زمین زعفران اور عنبر کی ہے، کنکریوں کی جگہ موتی اور جواہرات ہیں، اس میں جنتیوں کے رہنے کے لیے نہایت خوبصورت ہیرے جواہرات اور موتی کے بڑے بڑے محل اور خیمے ہیں، جنت میں سو درجے ہیں ہر درَجے کی چوڑائی اتنی ہے جتنی زمین سے آسمان تک، دروازے اتنے چوڑے ہیں کہ ایک بازو سے دوسرے بازو تک تیز گھوڑا ستر 70 برس میں پہنچے، جنت میں ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی کے خواب و خیال میں بھی نہیں آتیں۔ طرح طرح کے پھل میوے دودھ شراب([1] ) اوراچھے اچھے کھانے بڑھیا بڑھیا کپڑے جو دنیا میں کبھی کسی کو نصیب نہ ہوئے وہ جنتیوں کو دیئے جائیں گے، خدمت میں ہزاروں صاف ستھرے غلمان([2] )اور صحبت کے لیے سینکڑوں حوریں ملیں گی جو اتنی خوبصورت ہیں کہ اگر کوئی ان میں سے دنیا کی طرف جھانکے تو اس کی چمک اور خوبصورتی سے ساری دنیا کے لوگ بے ہوش ہوجائیں بہشت میں نہ نیند آئے گی نہ بیماری نہ کوئی ڈر ہوگا نہ کبھی موت آئے گی نہ کسی قسم کی کوئی تکلیف ہوگی بلکہ ہر طرح کا آرام ہوگا اور ہر خواہش پوری ہوگی اور سب سے بڑھ کر نعمت اللّٰہ تعالیٰ کا دیدار ہوگا۔([3] )
یہ بھی ایک گھر ہے اس میں گھپ اندھیری اور تیز کالی آگ ہے جس میں روشنی کا نام نہیں یہ بدکاروںاور کافر کے رہنے کے لیے بنایا گیا ہے کافر اس میں ہمیشہ قید رکھے جائیں گے اس کی آگ دم بدم ([4] ) بڑھتی رہے گی جہنم کی آگ اتنی تیز ہے کہ سوئی کے ناکے ([5] ) برابر کھول دیا جائے تو تمام زمین والے سب کے سب اس کی گرمی سے مرجائیں اگر جہنم کا کوئی داروغہ دنیا میں آجائے تو اس کی ڈراؤنی صورت دیکھ کر تمام لوگوں کی جان نکل جائے کوئی زندہ نہ بچے، جہنمیوں کو طرح طرح کا عذاب دیا جائے گا، بڑے بڑے سانپ بچھو کاٹیں گے، بھاری بھاری ہتھوڑوں سے سر کچلا جائے گا، بھوک پیاس بہت لگے گی تیل کے تلچھٹ کے ایسا کھولتا پانی اور پیپ پینے کو ، کانٹے دار زہر یلا پھل کھانے کو ملے گا جب اس پھل کو کھائیں گے تو یہ گلے میں رُک جائے گا اس کے اُتارنے کو پانی مانگیں گے وہی کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا، اس کے پینے سے آنتوں کے ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بہہ جائیں گے، پیاس اِس بلا کی ہوگی کہ اُسی پانی پر تونس([6] ) کے مارے ہوئے اونٹ کی طرح گریں گے، کفار جب عذاب سے عاجز آکر موت کی تمنا کریں گے اور موت بھی نہ آئے گی تو آپس میں مشورہ کرکے جہنم کے داروغہ حضرت مالک عَلَیْہِ السَّلَام کو پکار کر کہیں گے اب اپنے رب سے ہمارا قصہ تمام کرا دو حضرت مالک عَلَیْہِ السَّلَام ہزار برس تک جواب نہ دیں گے، ہزار برس کے بعد کہیں گے مجھ سے کیا کہتے ہو اس سے کہو جس کی نافرمانی کی ہے تب پھر ہزار برس تک اللّٰہتعالیٰ کو اس کے رحمت کے ناموں سے پکاریں گی وہ ہزار برس تک جواب نہ دے گا اس کے بعد فرمائے گا ’’ دورہوجہنم میں پڑے رہو مجھ سے بات نہ کرو۔ ‘‘ اس وقت کفار ہر قسم کی خیر سے نااُمید ہوجائیں گے اور گدھے کی آواز کی طرح چلا کر روئیں گے پہلے آنسو نکلے گا جب آنسو ختم ہوجائے گا تو خون روئیں گے روتے روتے گالوں میں خندقوں کی طرح گڑھے پڑجائیں گے رونے کا خون اور پیپ اِتنا ہوگا کہ اس میں کشتیاں ڈالی جائیں تو چلنے لگیں، جہنمیوں کی شکل ایسی بری ہوگی کہ اگر کوئی جہنمی دنیا میں اس صورت میں لایا جائے تو تمام لوگ اس کی بدصورتی اوربدبو کی وجہ سے مرجائیں، آخر میں کافروں کے لیے یہ ہوگاکہ ہر کافر کو اس کے قد کے برابر صندوق میں بند کردیں گے پھر آگ بھڑکائیں گے اور آگ کا قفل ([7] ) لگائیں گے پھر یہ صندوق آگ کے دوسرے صندوق میں رکھا جائے گا اور ان دونوں کے بیچ میں آگ جلائی جائے گی اور اس میںبھی قفل لگادیا جائے گاپھر اسی طرح اس صندوق کو ایک اور صندوق میں رکھ کر آگ کا قفل لگا کر آگ میں ڈال دیا جائے گا، تو اب ہر کافریہ سمجھے گا کہ اس کے سوا اب کوئی آگ میں نہ رہا اور یہ عذاب بالائے عذاب ہے اور اب ہمیشہ اُس کے لیے عذاب ہی رہے گاجو کبھی ختم نہ ہوگا، جب سب جنتی جنت میں پہنچ جائیں گے اور جہنم میں صرف وہی لوگ رہیں گے جنہیںہمیشہ وہاں رہناہے، اِس
[1] جنت کی شراب میں نہ بو ہوگی نہ نشہ ۔۱۲ (منہ)
[2] کم سن غلام
[3] اللّٰہ تعالیٰ کو دنیا کی زندگی میں آنکھ سے دیکھنا رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے لیے خاص ہے اور آخرت میں ہر سنی مسلمان دیکھے گا، رہا دل سے دیکھنا یا خواب میں دیکھنا تو دوسرے انبیاءعَلَیْہِمُ السَّلَام بلکہ اولیاء کو بھی حاصل ہے کہ شرح عقائد کی کتابوں میں ہے کہ آیتوں حدیثوں اوراجماعِ امت سے اللّٰہتعالیٰ کا دیدار ثابت ہے آنکھ سے دیکھنے کا انکار معتزلہ وغیرہ گمراہ فرقوں کا عقیدہ ہے ۔اہلِ سنت کے نزدیک قیامت میں اللّٰہ تعالیٰ کو آنکھوں سے دیکھنا اتفاقی مسئلہ ہے۔ ( شرح فقہ اکبر، رؤیۃ اللّٰہ فی الآخرۃ، ص۱۴۸، شرح المقاصد، المقصد الخامس فی الالہیات، الفصل الرابع،۳/ ۱۳۴) ۱۲ منہ
[4] ہر گھڑی
[5] سوئی کے سو راخ
[6] سخت پیاس
[7] آگ کا تالا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع